59

ایسٹ چائنہ کمپنی۔۔۔۔! (ساجد خان)

برصغیر میں آباد قوم کی یہ تاریخ رہی ہے کہ اس نے باہر سے آئے غاصب حملہ آور کو ہمیشہ ہی اپنا ہیرو اور مسیحا سمجھ کر خوش آمدید کہتے ہوئے فوراً ہی اپنے سر کا تاج بنایا ہے اور اپنوں کے خلاف ہمیشہ باہر سے آئی قوم کا ساتھ دیا ہے۔
مغل ہوں، افغان ہوں، ترک ہوں یا عرب قوم، صدیوں سے یہاں ان سب نے باہر سے آ کر برصغیر پر راج کیا۔

ان سب جنگجوؤں کا مقصد نا ہی اس علاقے کی عوام سے ہمدردی تھا اور نا ہی اسلامی جہاد بلکہ کسی کا مقصد لوٹ مار تھا تو کسی نے ریاست کو وسعت دینے کے لئے یہاں کا رخ کیا۔

ان قوموں نے نا صرف آسانی سے اقتدار حاصل کیا بلکہ انہیں دوران اقتدار مقامی قوم سے کبھی مزاحمت کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑا،جب بھی اقتدار کو خطرہ محسوس ہوا تو اس کی وجہ بھی باہر سے آنے والی قوم کی یلغار ہی رہی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں تقریباً سب غاصب اقوام نا صرف قابل احترام سمجھی جاتی ہیں بلکہ ان حملہ آور اقوام پر تنقید کرنے کو توہین سمجھا جاتا ہے شاید اسی خوبی کو دیکھتے ہوئے ہزاروں میل دور سے انگریز قوم نے بھی قسمت آزمانے کے لئے برصغیر کا رخ کیا اور اپنے مقاصد میں نا صرف کامیاب ہوئے بلکہ کئی دہائیاں راج بھی کیا۔
برصغیر کی دریا دلی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا کہ آج یہاں پر بولی جانے والی اہم زبان اردو کا مطلب لشکر کے ہیں یعنی اس زبان میں ہر اس زبان کا حصہ شامل ہے،جس کے بولنے والوں نے ہم پر راج کیا شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری زبان بولنے میں ہندی سے مماثلث رکھتی ہے لیکن رسم الخط عربی زبان کے ہیں۔

اس مسئلہ پر کم علمی کی وجہ سے مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ ہماری قدیم زبان کیا تھی اور موجودہ زبان کس طرح وجود میں آئی لیکن اس سے یہ بات تو ثابت ہوتی ہے کہ یہاں پر بسنے والی قوم ہمیشہ سے ہی غلام ذہنیت کی مالک تھی،اسی لئے انہیں کبھی فرق نہیں پڑا کہ ان پر حکومت کرنے والا کون ہے اور کہاں سے آیا ہے۔

برطانوی راج کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہم نے بظاہر آزادی تو حاصل کی مگر یہاں واضح تقسیم نظر آئی کہ ایک طبقہ انگریز کی ثقافت اپنانا چاہتا ہے تو دوسرا عربی ثقافت کا دیوانہ ہے حالانکہ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی قوم کی اچھائیاں اپنانے کے لئے اپنی ثقافت چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہوتی نا ہی پینٹ شرٹ پہننے کی ضرورت پڑتی ہے اور نا ہی عربی چغہ پہن کر اپنے ملک کو الباکستان کہنا ضروری ہوتا ہے۔

آج جبکہ ہمیں آزادی حاصل کئے سات دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے مگر ہم آج بھی ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل نہیں کرنا چاہتے اور ایک بار پھر وہی غلطی دہرانے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم طویل عرصہ غلامی کی زندگی گزارتے رہے ہیں۔

برطانیہ راج نے جب برصغیر پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا تو انہوں نے سب سے پہلے کاروبار کے بہانے یہاں قدم جمانے شروع کۓ اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد رکھی اور یوں وقت کے ساتھ ساتھ یہ کمپنی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئی اور مغل بادشاہ بے اختیار ہوتے چلے گئے اور ایک وقت یہ بھی آیا جب اپنے ہی ملک میں باہر سے آئی قوم سے آزادی حاصل کرنے کی جنگ کی گئی مگر قوم اس وقت تک تقسیم ہو چکی تھی،جس کی وجہ سے یہ تحریک بری طرح ناکام ہو گئی۔

آج تاریخ پھر سے دہرائی جا رہی ہے،اب ایسٹ چائنہ کمپنی کی شکل میں چین پوری دنیا میں قبضہ کرتا جا رہا ہے۔
گزشتہ چند سالوں میں سری لنکا،کینیا اور زیمبیا نے اپنے سی پورٹ چین کے حوالے کۓ ہیں اور اس کی وجہ ایک ہی ہے کہ ان سب ممالک نے چین سے مختلف منصوبوں کے لئے قرض حاصل کیا تھا اور عدم ادائیگی کی بنا پر اپنے قیمتی اثاثے چین کے حوالے کرنے پڑ گئے۔

پاکستان کی اگر بات کریں تو ہم نے چین سے کچھ زیادہ ہی امیدیں وابستہ کر لی ہیں گویا وہ ایک مسیحا ہے حالانکہ چینی قوم ایک کاروباری ذہنیت رکھتی ہے اور وہ ہر معاملے میں اپنا فائدہ دیکھتی ہے،یہی وجہ ہے کہ امریکہ سے سخت اختلاف کے باوجود چین کا سب سے بڑا کاروباری پارٹنر بھی یہی ملک ہے اور اگر چین امریکہ سے اپنا قرض واپس مانگ لے تو امریکی معیشت تباہ ہونے کا خدشہ ہے لیکن چین ان سب معاملات کے باوجود کاروبار کو ترجیح دیتا ہے۔

ہم بھی وہی غلطی دہرانے جا رہے ہیں جو سری لنکا، کینیا اور زیمبیا نے اپنے حالات بدلنے کی کوشش میں کی۔

سی پیک منصوبے کو جتنا بہترین بنا کر پیش کیا جا رہا ہے،حقیقت میں ویسا نہیں ہے بلکہ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ اپنے گھر کے درمیان میں سے کسی کو آمدورفت کے لئے راستہ بنا کر دے دیں،اب اس سے آپ کو فائدہ ہو گا یا اسے جس کو راستہ کی اشد ضرورت تھی لیکن یہاں بھی یہ کیا جا رہا ہے کہ چین کے کاروبار کے لئے جو راستہ بنایا جا رہا ہے وہ قرض کے پیسے سے بن رہا ہے،جس کا سود اور انشورنس کی اوسط تیرہ فیصد بنتی ہے اور سی پیک بنانے میں بھی چینی کمپنیاں ملوث ہیں جن کی منصوبوں میں شراکت %66 فیصد سے %88 فیصد تک ہے۔
یہاں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس منصوبے پر کام کرنے والے انجینئر سے لیبر تک سب چینی ہیں اور مشینری سے سیمنٹ،سریا تک چین سے لایا جا رہا ہے یعنی اس منصوبے سے نا ہی پاکستان کی انڈسٹری کو فائدہ حاصل ہے اور نا ہی ہمارے نوجوانوں کی بیروزگاری میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن اس چینی راستہ کی حفاظت کے ذمہ دار ہم ہوں گے۔

اب ان چینی قرضوں سے تیار ہونے والے منصوبے کا قرضہ کون ادا کرے گا، ظاہر ہے کہ پاکستانی قوم جبکہ وہی قرضہ چینی کمپنیاں اور ملازمین تنخواہوں اور منافع کی مد میں واپس چین کو جا رہا ہے اور پاکستان کو سود اور قرض واپسی کی مد میں سالانہ چار سے پانچ ارب ڈالر دینا ہوں گے جبکہ چینی کمپنیاں اپنا منافع چین منتقل کرتی رہیں گی جنہیں ٹیکس سے بھی استثنیٰ حاصل ہے۔

اب کیا ہم اتنی بھاری رقم ادا سکیں گے یا نہیں،یہ بھی ایک سوال ہے جبکہ دوسری طرف چینی اشیاء کی بھرمار نے جہاں امریکہ جیسے ملک کو پریشان کر رکھا ہے اور اس کے بچاؤ کے لئے حال ہی میں امریکہ نے چینی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے،وہاں ہماری صنعت کیسے مقابلہ کر سکے گی جو پہلے ہی زبوں حالی کا شکار ہے جہاں تسبیح بھی چین سے بن کر آ رہی ہے۔

ہماری انڈسٹری تو کب سے چینی اشیاء کی بھرمار سے تباہ ہو چکی ہے اور آئندہ آنے والے سالوں میں مزید اس پر برا اثر پڑے گا کیونکہ سی پیک کے منصوبے میں مختلف شہروں میں صنعتی علاقے قائم کۓ جا رہے ہیں جہاں چینی کمپنیاں اپنی صنعتیں لگائیں گی۔

دوسری طرف گوادر پورٹ کہ جس سے ہم خوشحالی کی امیدیں وابستہ کۓ بیٹھے ہیں،اگلے چالیس سال تک اس کے ریونیو کا اکیانوے فیصد حصہ چائنہ اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی کو ملیں گے جبکہ صرف نو فیصد حصہ پاکستان کے مقدر میں آۓ گا۔
اس نو فیصد حصہ میں ہم بلوچستان کی محرومیاں بھی ختم کریں گے،معیشت کو بھی بہتر کریں،سی پیک کی حفاظت بھی کریں گے،قرض بمعہ سود بھی ادا کریں گے اور چینی شہریوں کو فول پروف سیکیورٹی بھی دیں گے۔

اس خوفناک تصویر کا ایک دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ چینی کمپنیاں زراعت کے شعبہ میں بھی دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں اور اس سلسلہ میں بلوچستان میں کئی ہزار ایکڑ زمین بھی لیز پر دی جا رہی ہے۔

پاکستان گو کہ کہنے کو ایک زرعی ملک ہے مگر سب سے بدحال شعبہ بھی یہی ہے،اب اگر چین نے اس شعبہ میں سرمایہ کاری کا آغاز کر دیا تو کیا پاکستان کا کسان اس کا مقابلہ کر سکے گا،ظاہر ہے کہ نہیں۔

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم بہت سی چیزوں کو حد سے زیادہ قابل احترام مان لیتے ہیں،چین اور سی پیک بھی ان میں شامل ہے کہ ان پر تنقید کرنا توہین کے زمرے میں آتا ہے اور آپ کی ملک کے ساتھ وفاداری مشکوک ہو جاتی ہے لیکن سب حقائق کو سامنے رکھ کر کوئی بھی باشعور شخص ان تلخ حقائق کو جھٹلا نہیں پاۓ گا۔

ہمیں اس معاملے پر سنجیدہ بحث شروع کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم دوبارہ غلامی کے دلدل میں تو نہیں دھنستے جا رہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ہماری آئندہ آنے والی نسل ایک بار پھر آزادی کی جنگ لڑے گی اور کیا ہم معاشی غلامی سے آزادی حاصل کر سکیں گے۔

ان سوالات کے جوابات ہمارے حکام بالا کو دینے کی ضرورت ہے۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں