123

عدلیہ بحالی تحریک! (راؤ محمد نعمان)

2007 کی وکلا تحریک پاکستان کی تاریخ میں اہم مقام رکھتی ہے۔ ابھی اسے چند سال ہی گزرے ہیں کہ اسے اتنا بدنام کردیا گیا کہ لوگ اس تحریک کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہ تاثر بنا دیا گیا کہ شاید یہ تحریک ملک کو نقصان پہنچانے کیلئے پلاننگ کے ساتھ چلوائی گئی۔ میں اس تحریک میں شامل رہا اور حلف دینے کو تیار ہوں کے میں نے کسی شخصیت یا ادارے سے کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں لیا اور نا ہی اس تحریک کیلئے کسی قسم کی کوئی ہدایات تھی۔یہ تحریک 9 مارچ 2007 کو جنرل پرویز مشرف کی جانب سے چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری سے استعفٰی طلب کرنے پر ان کے انکار سے شروع ہوئی۔ اسی روز سپریم کورٹ کے تیسرے سینئر ترین جج موجودہ چیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کو چوتھے سینئر ترین جج عبدالحمید ڈوگر سے حلف دلوا کر چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان بنا دیا گیا اور افتخار محمد چوہدری صاحب کی جانب سے انکار پر دو تین گھنٹہ سوچ بچار کے بعد ان کیخلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس خبر کو آزاد میڈیا نے فوری لیا اور لمحہ بہ لمحہ عوام تک پہنچایا۔ افتخار محمد چوہدری صاحب کو گھر میں قید کردیا گیا۔ اگلے روز سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک صاحب نے وکلا کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا اور اس کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔انہوں نے فیض احمد فیض صاحب کی مشہور زمانہ نظم سے چند اشعار بھی پڑھے جن کا ایک مصرعہ آج تک میرے ذہن میں نقش ہے”چلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے”۔

13 مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا جس میں پیش ہونے کیلئے افتخار محمد چوہدری صاحب پیدل گھر سے نکل پڑئے ساتھ ہی ممبران قومی اسمبلی، وکلا، سیاسی کارکنان اور عام عوام بھی میدان میں آ گئے جس سے ملک پر قابض مافیا کی مضبوط دیوار ہلنے لگی۔ ایک پولیس افسر نے افتخار محمد چوہدری صاحب کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا تاہم، تب تک حالات حکومت کے بس سے باہر ہو چکے تھے۔ پولیس افتخار محمد چوہدری صاحب کو گرفتار کرنے یا قابو کرنے کے بعد بلوچستان ہاوس لے گئی وہاں سے سپریم کورٹ تک لیجانے کیلئے اپنی گاڑیوں میں پہنچانے کی کوشش کی مگر وہ نا مانے اور پیدل ہی جانے پر بضد رہے۔ اس موقع پر سابق وزیر اعظم میر ظفرﷲ خان جمالی صاحب نے انہیں اپنی سوزوکی بلینو کار میں بیٹھ کر جانے پر آمادہ کیا۔ جب وہ اس پر سوار ہو کر پہنچے تو وہ کار رش کے باعث تقریباً تباہ ہو گئی ممبر قومی اسمبلی لیاقت بلوچ صاحب تو اس کار کی چھت پر ہی چڑھ گئے۔ افتخار محمد چوہدری صاحب نے اسی مجمع سے منیر اے ملک، اعتزاز احسن، جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود، علی احمد کرد، حامدخان اور قاضی انور صاحب کو اپنا وکیل منتخب کیا۔

اگلی سماعت 16مارچ تک بھی افتخار محمد چوہدری صاحب قید رہے یہاں تک کے ان کے وکلا بھی ان سے نا مل سکے۔ اسی روز میڈیا کوریج پر جیو نیوز اسلام آباد کے دفتر پر حکومت نے حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ ایک بار تاریخ رکھ کر معطل کرنے کے بعد اگلی سماعت 3اپریل کو ہوئی۔ حکومت کی طرف سے سینیٹر وسیم سجاد، خالد رانجھا اور اٹارنی جنرل مخدوم علی خان پیش ہوئے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کی ایک مزید سماعت 13اپریل کو بھی ہوئی۔

لاہور میں ہونے والے وکلا کے اجلاس کو بزور قوت روکنے کی کوشش کی گئی معروف قانون دان لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ کا سر پھاڑ دیا گیا۔ ملک بھر میں بہت سے افراد گرفتار کئے گئے جس کے رد عمل میں عوامی جوش و خروش دیکھتے ہوئے افتخار محمد چوہدری صاحب کو مختلف بار ایسوسی ایشنز سے خطاب کروانے کا فیصلا خ ہوا جس کے ماسٹر مائند اعتزاز احسن صاحب تھے۔ اس کیلئے سب سے پہلے لاہور کا انتخاب کیا گیا اور اسلام آباد سے بذریعہ جی ٹی روڈ سفر کا فیصلہ ہوا اس مقصد کیلئے 5 مئی2007 کا انتخاب ہوا اس وقت شدید گرمی تھی اور اتنی موسمی شدت میں اس تحریک کی کامیابی نا ممکن لگتی تھی۔ مگر 5 مئی کو ایک نئی تحریک کا باقائدہ آغاز ہوا یہ ایک روشن، سنہرا، شدید گرم اور یادگار دن تھا اس دن کئی سال کی چھائی ہوئی پرویز مشرف آمریت کے قلعہ میں فیصلہ کن دراڑ پڑئی۔ میں خود اس دن کا چشم دید گواہ ہوں۔
میں ان دنوں اپنے آپ کو پاکستان پیپلز پارٹی کی شاخ برائے نوجوانان پیپلز یوتھ آرگنائزیشن پنجاب کا کارکن سمجھتا تھا ( یہ جملہ اس لیے استعمال کیا کہ جب 23 فروری 2009 کو میں نے اس تنظیم میں اپنے عہدہ سے استعفٰی دیا تو اس تنظیم کے پنجاب کے صدر میاں محمد ایوب صاحب نےاخبار میں میرے استعفٰی کے حوالے سے ردعمل دیا کہ راؤ محمد نعمان نام کا کوئی شخص ہماری تنظیم کا حصہ نہیں تھا۔ بہر حال یہ خبر بھی میرے لیے سرٹیفیکیٹ کی حیثیت رکھتی ہے)۔

اس دن مشرف کے سامنے سر نہ جھکانے والے اور اس کی بات نہ مان کر استعفٰی نہ دینے والے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری صاحب اپنے غیر فعال کئے جانے کیبعد پہلی بار کسی تقریب میں شرکت کیلئے لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر لاہور آنے کیلئے اسلام آباد سے روانہ ہوئے تو ساتھ ہی ردعمل میں مختلف سازشیں شروع ہو گئی خود اس وقت کے وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویزالہٰی صاحب اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف نے انہیں جہلم کی پہاڑیوں سے افتخار محمد چوہدری صاحب کے قافلے پر فائرنگ کا حکم دیا تھا جو انہوں نے نہیں مانا مگر ان کی جماعت ق لیگ نے لاہور میں مکمل سرکاری وسائل سے ایک ریلی کا انتظام ضرور کیا جس کا آغاز لکشمی چوک اور اختتامی مقام افتخار محمد چوہدری صاحب کے قافلہ کی طرح جی پی او(GPO)چوک لاہور رکھا گیا مگر جب ق لیگ کی ریلی کیلئے ایک ہزار افراد اور ایک پک اپ بھر کر ڈنڈے بھی اپنے مقررہ وقت پر لکشمی چوک پہنچ گئے تو اس وقت افتخار محمد چوہدری صاحب کا قافلہ ابھی راولپنڈی ضلع سے ہی باہر نہ آسکا تھا۔ کیونکہ ق لیگ کی ریلی میں تمام لوگ کرائے پر لائے گئے تھے وہ سب گنجائش سے کہیں زیادہ کھانا بھی کھا چکے تھے اس لیے وہ زیادہ انتظار نہیں کر سکتے تھے اس لیے انہوں نے مغرب سے پہلے جی پی او چوک سے پہلے ہی اپنی ریلی کا اختتام کر دیا۔

میں اس دن تصادم کا یقین لے کر گھر سے گیا تھا اور لکشمی چوک کی جانب سے آنے والے راستہ کی جانب سب سے پہلے استقبالیہ اسٹیج پر سب سے پہلے بیٹھ گیا تھا جس کا انتظام چوہدری اسلم گل صاحب نے کیا تھا میرا اس پر بیٹھنے کا اولین مقصد یہ تھا کے اگر حکومتی غنڈے لاہور ہائیکورٹ کے باہر افتخار محمد چوہدری صاحب کے استقبال کیلئے موجود افراد پر حملہ آور ہوں تو مجھ ناچیز کو سب سے پہلے رکاوٹ ڈالنے کا یا مار کھانے کا اعزاز حاصل ہو۔

خیر وقت گزرتا گیا دن سے رات اور رات سے صبح ہوئی جو ایک بڑی سحر کی امید لے کر آئی اس رات تمام خفیہ ادارے اور لوگوں کو ڈرانے والے بہت بڑی تعداد میں وہاں موجود رہے چند لوگوں نے جو (جنرل حمید گل صاحب کی جاسوسی کرتے ہوئے وہاں آئے تھے) مجھے بھی اغوا کرنے کی کوشش کی ہوا کچھ یوں کے رات ڈیڑھ دو بجے جنرل حمید گل صاحب وہاں تشریف لائے تو میری ان سے کھڑے کھڑے ملاقات ہوئی میں نے ان سے اپنا تعارف کروایا تو انہوں نے نہایت گرمجوشی سے گفتگو کی خصوصاً نوجوانوں کے ملکی معاملات میں دلچسپی لینے کی اہمیت بتائی، ڈٹے رہنے کا کہا اور یقین دلایا کہ مشرف کا ظلم اب ختم ہو کے رہے گا اس بات چیت کیبعد جب وہ ہائیکورٹ کے احاطہ کے اندر چلے گئے ان کے اندر جاتے ہی پیپلز پارٹی کے درینہ کارکن محمد عاشق عرف گوگا(جو کچھ ماہ بعد محترمہ بے نظیر بھٹو پر لیاقت باغ راولپنڈی میں ہونے والے جان لیوا حملہ میں جان کی بازی ہار گئے) نے میرا بازو پکڑا اور مجھے لے کر سپریم کورٹ کے گیٹ کی جانب جانے والے راستے کی طرف رش سے ذرا باہر لے گئے اور کہا” اینوں نیں ملنا سی اے ساڈے خلاف اے اینے ساڈی حکومت توڑی سی” یعنی اس سے نہیں ملنا تھا یہ ہمارے خلاف ہیں انہوں نے ہماری حکومت ختم کروائی تھی میں نے بھی ان کو جوابی دلائل دینے کی کوشش کی ہماری بحث ختم ہی ہوئی تھی کے ایک داڑھی والے سفید اور سبز ٹریک سوٹ میں ملبوس شخص نے مجھے سے ہاتھ ملا کر بات سننے کا کہا تو میں اس سے ہاتھ ملائے ہوئے ہی اسکے ساتھ چلنے لگا وہ شخص میرا ہاتھ چھوڑنے کو تیار نا تھا۔ مجھے جب اس بات کا احساس ہوا تب ہم اے جی آفس چوک کی جانب ایسے چل رہے تھے جیسے اس نے مجھ سے بہت ضروری کوئی بات کرنی ہو جب میں نے اردگرد کے ماحول کا جائزہ لیا تو وہ کل پانچ لوگ تھے جو ایک ہی طرح کے ٹریک سوٹ پہنے ہوئے تھے۔ ان سب کی داڑھیاں جعلی لگ رہی تھی ایک میرا ہاتھ تھامے دائیں جانب چل رہا تھا تین بائیں جانب تقریباً برابر برابر اور ایک میرے پیچھے اس طرح کے اگر میں ہاتھ چھڑانے کی کوشش کروں تو وہ دھکے سے آگے لے جائے۔ خیر میں نے پہلے تو ماحول کا جائزہ لیا اس کیبعد ان اشخاص سے بھی تیز ان ہی کی مطلوبہ سمت میں چلتے ہوئے پہلے شخص کو مخاطب کیا اور اسے کوئی آدھ کلو میٹر آگے پرانی انار کلی چوک میں مشہور فالودہ کی دوکان پر جا کر بیٹھنے اور ربڑی والا دودھ پینے کی دعوت دے ڈالی اور کہا کے یہاں شور کافی ہے وہاں چل کر آرام سے بات کرتے ہیں۔ اسے ہر گز احساس نہ ہونے دیا کہ مجھے اس کے ارادہ کا اندازہ ہوگیا ہے ساتھ ہی دیگر افراد سے سلام کر کے ایسے مصافحہ کے لیے ہاتھ ملانے لگا جیسے میری نظر ان پر ابھی پڑی ہے اور ان میں سے ایک سے یہ سوال بھی کر ڈالا کہ ہم پہلے کہاں ملے ہیں؟ اس مشق سے میں ان سے اپنا ہاتھ بھی چھڑا چکا اب صرف گھیرا باقی تھا ہم چلتے ہوئے مجمع سےکوئی سو گز دور سپریم کورٹ کے گیٹ تک پہنچ گئے اتنے میں پیچھے دیکھا تو ایک قریبی دوست عمر دراز نظر آیا جیسے ہم پیار سے چاند کہا کرتے تھے وہ بھی میری جانب دیکھ رہے تھے میں نے رک کر انہیں آواز دی ان کے ساتھ کھڑے حنیف بھٹی صاحب کو لے کر ساتھ چلنے اور ربڑی والا دودھ پلانے کی دعوت بھی دے ڈالی اتنا موقع ملنے کی دیر تھی کے میں واپس مجمع کی جانب دوڑنے سے بھی تیزی سے چلتا ہوا عمر درازصاحب کے پاس پہنچا اونچی آواز میں بات کرنے کا یہ بھی فائدہ ہوا کے چند دیگر لوگ بھی میری جانب متوجہ ہو گئے رش میں واپس آتے ہی ابھی دوست ان لوگوں کے متعلق پوچھ ہی رہے تھے کے واپس دیکھا تو وہ افراد وہاں سے غائب تھے سب موجود دوستوں کی رائے یہی تھی کہ یہ کارروائی حمید گل صاحب سے گفتگو کا نتیجہ تھی کیونکہ وہ جنرل پرویز مشرف کیخلاف بہت توانا آواز تھے۔ وہ ایک میزائل حملہ جو خار کے مقام پر ہوا (جس کہ بارے میں یہ یقینی تھا کہ یہ امریکہ بہادر نے کیا ہے مگر صدر پاکستان کے کمانڈو جنرل پرویز مشرف نے فخر سے اعلان کیا کہ یہ ہم نے خود کیا ہے اور مارے جانے والے تمام دہشت گرد تھے جبکہ اس حملہ میں اسی80 سے زیادہ معصوم بچے جن میں سے شاید ہی کوئی پندرہ سال کی عمر کا ہو مارے گئے تھے) اس حملے کے اعتراف کو لے کر جنرل حمید گل صاحب سپریم کورٹ گئے تھے اور شاید افتخار چوہدری نے ہی ان کا مقدمہ نہیں سنا تھا کیونکہ حکومتی دلائل میں حمید گل صاحب متاثرہ فریق ثابت نہیں ہوئے تھے۔ پھر بھی جنرل حمید گل صاحب افتخار محمد چوہدری کی بحالی کا مطالبہ لیے احتجاج میں شریک رہے اسی پاداش میں قید و بند کی صوبتیں بھی برداشت کی اسی لیے ان سے ملنے والے ہر شخص کو پریشان کیا جاتا تھا میں اب بھی یہ بات ماننے کو تیار نہیں کے جنرل حمید گل صاحب طبعی موت دنیا سے رخصت ہوئے بلکہ یقین ہے کہ انہیں خوراک یا انجیکشن کے ذریعہ راستے سے ہٹایا گیا اس خدمت کے عوض امریکہ سے بھاری رقم وصول کی گئی ہو گی۔

واپس 6 مئی2007 پر آتے ہیں تمام دوست مجھے اس واقعہ کیبعد واپس استقبالیہ اسٹیج پر لے گئے جہاں میں مرحوم خالد گھرکی صاحب کے برابر بیٹھ گیا اسی اسٹیج پر جہانگیر بدر، غلام عباس، فخر امام، عابدہ حسین، میاں حنیف طاہر، اسلم گل، خاور کھٹانہ اور جسٹس (ر) زاہد بخاری بھی تشریف فرما تھے۔

ہائیکورٹ کی پارکنگ میں موجود پنڈال میں آٹھ ہزار(8000) سے زیادہ کرسیاں لگی ہوئی تھی جو سر شام ہی بھر چکی تھی باہر ساری رات ہزاروں کا مجمع رہا صبح سورج نکلنے کے بعد ہائیکورٹ کے باہر موجود لوگوں کی اکثریت گھروں کو واپس چلی گئی اور جی پی او چوک میں بمشکل پندرہ سو سے دو ہزار افراد موجود رہے اس وقت یہی لگ رہا تھا کہ تاخیر کے باعث کہیں ایسا نہ ہو کہ تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ہونے والے تاریخی استقبال کے بعد لاہور میں شرمندگی اٹھانی پڑے۔

اتنے میں انار کلی کی طرف سے ایک سفید پجارو گاڑی نمودار ہوئی تو میں اپنے ساتھ والی کرسی پر تشریف فرما خالد گھرکی صاحب کو افتخار محمد چوہدری صاحب کی آمد کا بتا کر اپنی جگہ کھڑا ہو گیا میرے ساتھ تمام اسٹیج والوں کو کھڑا ہونا پڑا جب وہ گاڑی پاس آئی تو اس پر سیالکوٹ بار ایسوسی ایشن درج تھا ہم سب دوبارہ بیٹھ گئے یہی مشق دو بار مزید ایسی ہی گاڑیاں آنے پر دھرائی چوتھی بار جب سفید پجارو نظر آئی تو میں حسب سابق اپنی جگہ کھڑا ہونے لگا تو خالد گھرکی صاحب نے ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیا اور کہا “تہاڈے نال ساریاں نوں کھلونا پیندا اے” یعنی تمھاری وجہ سے سب کو کھڑا ہونا پڑتا ہے اس لیے بیٹھے رہو۔

جو لوگ مرحوم خالد گھرکی صاحب سے واقف نہیں ہیں انہیں بتاتا چلوں کے ان کی ایک ٹانگ مصنوئی تھی اور بار بار اٹھنا بیٹھنا ان کے لیے مشکل تھا۔
اس بار جب گاڑی سامنے آئی تو اس کی نمبر پلیٹ دیکھ کر میں پھر کھڑا ہوگیا گاڑی ہمارے پاس پہنچی تو وہ گاڑی تو اعتزاز احسن صاحب والی ہی تھی مگر اس میں صرف ان کا ڈرائیور موجود تھا میں نے جب بائیں جانب دیکھا تو خالد گھرکی صاحب گاڑی کو نہیں بلکہ مجھے گھورنے کے انداز میں دیکھ رہے تھے ڈرائیور نے اشارے سے بتایا کے بس تھوڑی سی دیر میں آرہے ہیں۔

اتنی ہی دیر میں پیدل افراد کی ایک اتنی بڑی تعداد انارکلی کی جانب سے آنا شروع ہوئی کے چوک کھچا کھچ بھر گیا اسی جلوس میں قمر زمان کائرہ صاحب بھی پیدل چلتے ہوئے آئے انہوں نے ہماری ہی اسٹیج پر موجود جہانگیر بدر صاحب کو بتایا (جو اس وقت تک سیاہ پینٹ کوٹ زیب تن کر چکے تھے) کے اعتزاز صاحب کی گاڑی جواب دے گئی تھی میں نے اپنی گاڑی انہیں دے دی۔

جلوس کے ساتھ آنے والا انسانی سمندر اتنا وسیع تھا کے چند منٹ میں ہی مال روڈ اور سروس روڈ پر ہائیکورٹ کے ججز گیٹ اسٹیٹ بینک چوک سے بھی آگے تک سے لے کر تا حد نگاہ بشیر سنز اور انارکلی چوک تک سڑک پر ذرا برابر جگہ بھی خالی نہ رہی کچھ لوگ بشیر سنز چوک سے براستہ اے جی آفس چوک کی جانب سے بھی آئے اور اس طرف بھی صرف انسانی سر ہی نظر آ رہے تھے۔
معلوم نہیں کے یہ تمام محب وطن کہاں کہاں سے پیدل چلتے ہوئے وہاں تک پہنچے تھے ان میں سے کسی شخص کو کوئی لالچ یا ذاتی مفاد نہ تھا یہ ملک کی وہ خاموش اکثریت تھی جو جب تک برداشت کرتی رہے تو دنیا کی بے حس ترین اور جب کبھی نکل آئے تو تمام دنیاوی قوتیں اس کے آگے سرنگوں ہو جائیں۔

اس مجمع میں انتہائی آہستہ آہستہ ایک انسانی چوٹی نمودار ہوئی جو بہت سست رفتاری کیساتھ ہائیکورٹ کے احاطہ کے اندر چلی گئی ہمیں بلندی پر کھڑے ہونے کے باوجود اس سواری کے کسی سوار کا چہرہ تو کیا اس گاڑی کا رنگ تک نہ دکھائی دیا اتنے رش میں گاڑی کا چلنا اور کسی کا اس سے ٹکرانا یا نیچے نہ آنا بھی معجزے سے کم نہ تھا۔
اس دن اتنے افراد اکھٹے زندگی میں پہلی بار دیکھے ﷲ کرے کے یہ لوگ ہمیشہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی ایک ہو جائیں تو بلاشبہ پاکستان دنیا کی عظیم ترین قوت بن جائے۔
انہی لوگوں کیلئے طارق عزیز صاحب نے فرمایا تھا۔
پہلے پہل آسمان دا
کالا سیاہ سی رنگ
فیر کجھ طیب لوکاں
کیتی رل کے زور دی جنگ
کالے شاہ ہنیریاں دا
کیتا گھیرا تنگ
آج کسے نوں یاد وی نیں
او سارے مست ملنگ۔

لاہور میں انتہائی کامیاب استقبال کے بعد اگلے ہفتے 12 مئی2007 کو پرامن، غریب دوست، دنیا کے تیسرے بڑے شہر۔ جس سےدنیا کے 168 ممالک چھوٹے ہیں۔ جبکہ دنیا کے سستے ترین شہروں میں چھٹے اور پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کا انتخاب ہوا۔ اس دن ہونے والے واقعات کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ ان کے اثرات ہم آج تک بھگت رہے ہیں اس دن لاہور کا ذکر کم کم ہی ہوتا ہے مگر میں بات لاہور سے ہی شروع کروں گا۔

دس اور گیارہ مئی کو وفاقی صوبائی اور ضلعی حکومتوں کو صرف اس بات پر لگا دیا گیا کے شہنشاہ معظم جنرل پرویز مشرف کو ایک عدد جلسہ اسلام آباد میں کروایا جائے جہاں ایک ہفتہ قبل لاہور میں افتخار چوہدری صاحب کے استقبال سے بڑا مجمع اکھٹا کیا جائے۔ کیونکہ گزشتہ ہفتہ لاکھوں لوگ سڑکوں پر موجود تھے اس لیے اسلام آباد تک بھی کم از کم دس لاکھ لوگ لے جائے جائیں اس مقصد کیلئے دس اور گیارہ تاریخ کو ملک بھر کی ٹرانسپورٹ گاڑیاں پکڑ کر حکام کے حوالے کر دی گئی۔ حکام سے مراد سینیٹرز، ایم این ایز، ایم پی ایز، ضلعی، تحصیل و یونین کونسل ناظمین، کونسلرز، ریونیو، پولیس و دیگر کئی محمکمہ جات کے اہلکار شامل تھے۔ ان کے علاوہ تمام جرائم پیشہ افراد جن میں بدمعاش، قبضہ گروپ، منشیات فروش، جوا کروانے والے، بھتہ خور اور قحبہ خانے چلانے والے شامل تھے اس وقت ان تمام جرائم پیشہ افراد نے اپنے کاروباری مراکز پر چوہدری مونس الہی صاحب کی تصویریں لگائی ہوئی تھیں جو کوئی آٹھ مہینے بعد حمزہ شہباز کی تصویروں میں بدل گئیں۔ ان میں سے چند نے2013 میں حمزہ شہباز کی جگہ عمران خان کی بھی تصویریں لگائیں مگر 2014کے آخر سے لیکر2016 کے اختتام تک ان تمام جرائم پیشہ لوگوں کا ہیرو جنرل راحیل شریف تھا ان سب نے ان کی خوب تصاویر آویزاں کی جو ایک بار پھر نواز شریف اور اب عمران خان کی تصاویر سے بدل چکی ہیں۔

واپس 12مئی2007 میں چلتے ہیں لاہور شہر سے بارہ سو(1200) بسیں بھر کر لیجانے کی ذمہ داری تھی جن کو صبح نو بجے قذافی اسٹیڈیم سے روانہ ہونا تھا مگر آفرین لاہور کے شہریوں پر کے ان بسوں میں سے دو سو بسیں مکمل خالی رہی باقی ایک ہزار سے زائد بسوں میں سے صرف تین بسیں بیس(20)سے زیادہ مسافر لا سکیں۔ صرف ان تین گاڑیوں کی ہر کھڑکی میں ایک شخص نظر آ رہا تھا باقی تمام گاڑیوں میں دو تین پانچ یا دس سے زیادہ مسافر سوار نہ تھے۔ بے حساب حکومتی خزانے اور تمام تر ریاستی مشینری کے استعمال کے باوجود اتنے برے نتائج کا اندازہ کسی کو نہ تھا۔ اس روز تمام پیشہ ور مزدورں کو بھی دیہاڑی اور مفت کھانے کا لالچ دے کر اسلام آباد لے جایا گیا جہاں لے جاکر انہیں دیہاڑی نہیں دی گئی۔ بلکہ وہاں جاکر بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا بسوں والوں نے بھی ان سے واپسی کا کرایہ وصول کیا۔

اس روز میرا بھی افتخار محمد چوہدری صاحب کے استقبال کیلئے چند دوستوں کیساتھ کراچی جانے کا پروگرام تھا جو پہلے سے بک شدہ کوسٹر گاڑی کی دس تاریخ کو حکومتی تحویل میں لیے جانے اور متبادل سواری کی عدم دستیابی کی وجہ سے منسوخ ہوگیا۔

جب اسلام آباد میں جلسہ کے مناظر ٹی وی پر دیکھے تو جنرل پرویز مشرف مکے دکھا کر کراچی میں ہونے والے قتل عام پر جشن منا رہا تھا اور جب کیمرہ مجمع پر پڑا تو ایک بھی شخص تقریر نہیں سن رہا تھا بلکہ کوئی یہاں تو کوئی وہاں جاتے ہوئے دکھائی دیا۔
کاش کوئی اس دن اربوں روپے کا ملکی خزانہ سوتیلے باپ کی کمائی سمجھ کر لٹانے والوں سے بھی حساب لے۔

بارہ مئی دو ہزار سات کو مرکزی حیثیت کراچی کو حاصل تھی کیونکہ افتخار محمد چوہدری صاحب اس دن وکلا برادری سے خطاب کیلئے بذریعہ ہوائی جہاز کراچی پہنچے تھے اس روز پرویز مشرف نے افتخار محمد چوہدری کو کسی بھی طرح بار سے خطاب روکنے کا حکم دیا بلکل اسی طرح جیسے ایک ہفتہ قبل پنجاب کے وزیر اعلٰی کو دیا تھا مگر افسوس کے اس بار اس حکم کو مان لیا گیا جس سے پچاس سے زائد افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ وزیر اعلٰی سندھ ارباب غلام رحیم اور ان کی جماعت کیونکہ کراچی میں نہیں تھی اور حکومتی مضبوط اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے اسی روز اپنا ایک ٹیلیفونک خطاب بھی رکھ لیا تھا اس لیے تمام تر ذمہ داری کراچی کی حکمران اور سندھ اور مرکز میں شریک اقتدار متحدہ قومی موومنٹ پر عائد ہوئی۔

اس روز پولیس، رینجرز اور خفیہ ادارے اس سیاسی جماعت کے لیڈران کیساتھ عوام کے شکار پر نکل پڑے۔

اس دن اس شہر کو عوام کے خون سے ایسا رنگین کیا گیا اور وہ آگ لگائی جو اتنے سال گزرنے کے بعد بھی بجھنے کا نام نہیں لے رہی۔ اس دن کراچی میں قتل عام کے مرکزی ملزمان میں پرویز مشرف، الطاف حسین، ارباب غلام رحیم، وسیم اختر اور مصطفٰی کمال تھے۔

سب سے پہلے ذکر سندھ کے اس وقت کے بےتاج بادشاہ ارباب غلام رحیم کا جس نے اس روز اپنے زوال کا آغاز ہوتے ہوئے دیکھا اور اپنی طاقت یعنی سندھ اسمبلی میں اگلے الیکشن میں بھی کامیاب ہونے پر حلف لینے کے فوری بعد ایک غریب خاتون سے اپنے چہرہ مبارک پر جوتے کھائے اور کئی سال ملک سے فرار رہے اب بھی اپنی سیٹ جیت جاتے ہیں کیونکہ ان کی جاگیر میں واقع ہے مگر قومی یا صوبائی اسمبلی میں جاتے ہوئے ڈرتے ہیں ملکی یا صوبائی سیاست میں ان کی حیثیت اتنی نہیں رہی جتنا میں آج ان کے بارے لکھ چکا ہوں۔

پرویز مشرف نے اس دن ہونے والے خون خرابے پر شام کو جشن منایا اور اعلان فتح کیا اس کے بعد قدرت نے انتقام لیا اور وہ اب اشتہاری مجرم ہے عدالتوں میں جھوٹے میڈیکل سرٹیفیکیٹ جمع کروا کر اور اپنے شہید یار کے بھائی کے آرمی چیف بننے کے باعث اور نواز شریف اور چوہدری نثار کی بزدلی کے سبب ملک سے دم دبا کر بھاگ گیا ہے۔ البتہ چند جرائم پیشہ افراد جو بروقت الیکٹرانک میڈیا میں شامل ہو گئے تھے اب بھی اسے مسیحا بنانے کی ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی اوقات اس وقت پتا چل گئی تھی جب 2013میں کمانڈو لاکھوں لوگوں کی آمد کی امید لگائے کراچی ائیر پورٹ پر اترا تو چند درجن بھی اس کے استقبال کیلئے موجود نہ تھے اس کا استقبال تین سو کوریج کیلئے موجود صحافیوں اور سیکیورٹی کیلئے موجود دو ہزار اہلکاروں نے کیا حالانکہ اس استقبال کیلئےکروڑوں روپے بانٹے گے تھے۔ پیسے وصول کرنے والے کسی دیہاڑی باز کی یہ اوقات نہ تھی کے لوگ اکھٹے کر سکے۔ پرویز مشرف نے بارہ مئی دو ہزار سات کے دن کو مدنظر رکھتے ہوئے اس شہر میں اترنے کا منصوبہ بنایا۔

اپنی تخلیق ق لیگ، نیشنل الائنس و دیگر جماعتوں نے بھی اس کا گند اٹھانے سے انکار کر دیا تب بھی الطاف حسین نے اس سے ہمدردی جاری رکھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کمانڈو نے اپنے یار کے بھائی کے ذریعہ اسی جماعت پر قبضہ کا منصوبہ بنالیا اور اس پر عمل کی بھرپور کوشش کی جو اب تک جاری ہیں۔ اس جماعت کے اب تک تین ٹکڑے ہو چکے ہیں مگر پھر بھی کمانڈو کو سربراہ بنانے کیلئے کوئی بھی تیار نہیں۔ مصطفٰی کمال اور وسیم اختر آج کل سانح 12مئی کا تمام ملبہ الطاف حسین پر ڈال کر خود صاف شفاف بننے کی کوشش کرتے ہیں مگر اس روز دونوں اگر الطاف حسین سے سوال کر لیتے تو آج تک کراچی میں امن برقرار رہتا۔ مگر افسوس اس دن یہ دونوں حضرات شاید خوشامد اور چمچہ گیری کے علاوہ کچھ نہ کر سکے۔

اب ذکر مرکزی ملزم الطاف حسین کا جس نے اس روز پرویز مشرف کی وفاداری کی مگر بعد میں اسی کے عزیز کے ہاتھوں آج تک بدنامی کے اس دور سے گزر رہا ہے۔ آج پورے کراچی میں کوئی ایک تصویر بھی ان کی نہیں لگ سکتی ان کے تمام بااعتماد ساتھی ان کے خلاف قرارداد پاس کر کہ تعلیمی اداروں سے ان کا نام ہٹوا رہے ہیں۔ ان کی اپنی جماعت ان کا نام لینا گناہ سمجھتی ہے۔

ہاں سب سے زیادہ دبائے جانے کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ کراچی کے بیشتر عوام کی ہمدردیاں ایک بار پھر ان ہی کے ساتھ ہیں اور عوام اب بھی ان کی اپنے کارکنان کو دی جانے والی اہمیت کو یاد کرتی ہے جو کوئی دوسری جماعت نہیں دے سکی۔ الطاف حسین کا حشر طاقت کے نشے میں حق کے مقابل باطل کا ساتھ دینے والوں کیلئے بہت بڑا سبق ہے۔ خیر 12مئی کو یہ کامیاب ہوئے اور افتخار محمد چوہدری کو بار سے خطاب کئے بغیر واپس اسلام آباد جانا پڑا۔

14مئی کو سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار سید حماد رضا کو نامعلوم افراد نے ان کے گھر میں گھس کر قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق یہ ڈکیتی تھی جبکہ قاتلوں نے رقم یا زیورات وغیرہ کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے قیام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا 11جون کو حکومت نے ایک اور ریفرنس بنا لیا۔ اس دوران وکلا ہر جمعرات عدالتوں کا بائیکاٹ کرتے رہے سڑکوں پر احتجاج ہوتا رہا سیاسی کارکنان، صحافی اور عام شہری وکلا کا بھر پور ساتھ دیتے رہے۔

22جون کو افتخار محمد چوہدری صاحب ایک بار پھر بذریعہ ہوائی جہاز لاہور آئے جہاں سے انہیں بذریعہ سڑک اوکاڑہ، ساہیوال اور خانیوال سے گزر کر ملتان جانا تھا۔ ان کی آمد سے قبل ساہیوال میں وکلا مشعل بردار ریلی میں شریک تھے کہ پولیس نے ان پر پیٹرول چھڑک دیا جس سے پچاس سے زائد وکلا بری طرح جھلس گئے۔ افتخار محمد چوہدری صاحب کا قافلہ تین دن میں ملتان پہنچا۔

جولائی کے پہلے ہفتے میں وکلا تحریک سے توجہ ہٹاو مہم کے لیے اسلام آباد کی لال مسجد پر چڑھائی کر دی گئی بقول سابق کور کمانڈر راولپنڈی جنرل جمشید گلزار کیانی مرحوم کے اس آپریشن میں فاسفورس بم استعمال کئے گئے جو صرف مارتے نہیں بلکہ جلاتے بھی ہیں۔ سینکڑوں یا شاید ہزاروں بچیاں مار کر پرویز مشرف نے فتح کا اعلان کیا اور وہاں سے اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا اور یہ بھی کہا کے وہاں ایک بھی عورت کی موت نہیں ہوئی جس پر محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے فرمایا کے اگر کوئی عورت نہیں ماری گئی تو مولانا عبدالرشید غازی کی والدہ (جن کو بھی اس آپریشن میں مارا گیا تھا) کیا مرد تھی؟
اس پر کمانڈو نے بیان بدل لیا اور آئندہ کیلئے صرف ایک عورت کے مرنے کا بیان دیتا رہا۔

14جولائی کو ایک بار پھر لاہور بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر افتخار محمد چوہدری صاحب لاہور آئے اس بار ان کو بذریعہ ہوائی جہاز لاہور ائیر پورٹ اور وہاں سے مال روڈ استعمال کر کے ضلع کچہری تک آنا تھا۔ آدھ گھنٹہ کے اس فاصلہ کو طے کرنے کیلئے چھ گھنٹے کا اندازہ لگایا گیا مگر سفر اٹھارہ گھنٹے میں طے ہوا۔

اس بار ان کی آمد سے ایک روز قبل میری ایک دوست کے ساتھ(جو اب ایک مشہور نیوز چینل میں اینکر پرسن ہے) مشاورت ہوئی جس میں ان کا اور میرا اتفاق تھا کہ اس بار افتخار محمد چوہدری صاحب کے جلوس میں کوئی نا کوئی دہشت گردی کا واقعہ ضرور ہو گا کیونکہ اس پروگام کیبعد افتخار محمد چوہدری صاحب نے کسی تقریب میں نہیں جانا اور آئندہ ہفتہ وہ بحال ہونے جارہے ہیں۔ اس لیے مشرف انہیں راستہ سے ضرور ہٹائے گا۔ ان دوست نے مجھے اس استقبال سے دور رہنے پر بہت زور دیا۔ میں نے بھی انہیں یقین دلایا کے میں ائیر پورٹ سے ہی واپس چلا جاوں گا۔ مگر اس مشورہ پر عمل نہیں کیا اور ائیرپورٹ سے ان کی گاڑی کو تھاما اور جب اگلی صبح وہ ضلع کچہری سے روانہ ہوئے تو ان سے مصافعہ کرنے والا آخری شخص بھی میں ہی تھا۔ اس روز کمانڈو وردی میں ملبوث پندرہ بیس اہلکاروں نے ائیر پورٹ پر ہی افتخار محمد چوہدری صاحب کی گاڑی کو اغوا کرنے کیلئے گھیر لیا مگر ڈرائیونگ سیٹ پر موجود اعتزاز احسن صاحب نے ان کی مرضی کیمطابق گاڑی لیجانے سے انکار کر دیا۔ جب یہ اہلکار گاڑی کو مکمل گھیر چکے تو اعتزاز تحسن کی مزاحمت دیکھ کر میں نے ہی تنہا ان نامعلوم اہلکاروں کو دھکیل کر افتخار محمد چوہدری صاحب والے دروازے پر باہر سے ڈھال بنا لی۔ یہ نا معلوم اہلکار تقریباً ایک گھنٹہ کی کشمکش کے بعد واپس جانے پر مجبور ہوگئے۔ اگلے روز صبح تقریب کے آغاز کے ساتھ ہی شدید بارش ہوئی اور تمام انتظامات بارش کے آگے ناکام ہو گئے۔ تقریب جلد ختم کرنی پڑی۔ اسی روز 17جولائی کو اسلام آباد بار سے خطاب کا بھی پروگرام بنا۔

17 جولائی کو جب افتخار محمد چوہدری صاحب اسلام آباد بار سے خطاب کیلئے جا رہے تھے تو پاکستان پیپلز پارٹی کے استقبالیہ کیمپ پر دھماکہ ہوا پندرہ(15) افراد اپنی جان سے گئے۔ حکومت کی جانب سے اسے خود کش دھماکہ کہا گیا تاہم یہ خود کش ثابت نا ہوا متاثرین کی جانب سے اس دھماکے کا الزام خفیہ ایجنسیز پر لگایا گیا۔

20 جولائی سپریم کورٹ نے افتخار محمد چوہدری صاحب کو چیف جسٹس کے عہدہ پر بحال کر دیا اور پہلی وکلا تحریک کامیابی کیساتھ انجام پذیر ہوئی۔
اس تحریک میں میڈیا کا کردار بھی بہت اچھا رہا جو اس تحریک کے بعد آہستہ آہستہ نشانے پر لا کر اتنا بد کردار کر دیا گیا کے اب صحافیوں کو پتہ ہوتا ہے کہ فلاح گرفتار شخص جعلی مقابلہ میں مارا جائے گا مگر وہ خاموش رہتے ہیں جب واقعہ رونما ہو جاتا ہے تو سارے چینیل خوب ڈھٹائی سے بتاتے ہیں کے فلاح گرفتار شخص کو برامدگی کیلئے لے جارہے تھے کہ اس کے ساتھیوں نے فائرنگ کر کے اسے مار دیا یہ کہانی اتنی بار دہرائی گئی کے اب تو زبانی یاد ہو گئی ہے۔ صرف سانحہ ساہیوال کی ویڈیو سامنے آئی۔ سی ٹی ڈی اہلکار تو اس کی بھی پریس ریلیز میں دہشت گرد، خود کش جیکٹ، بچوں کو اغوا اور نا جانے کیا کیا جھوٹ گھڑ چکے تھے جسے سب نے تسلیم بھی کر لیا تھا۔
اب مافیا میڈیا کو چلا رہا ہے۔ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ جبکہ محب وطن کو غدار اور غدار کو محب وطن ثابت کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔
خیر اس تحریک کا ذکر اس لیے کیا کے پاکستان میں عوام کا جذبہ کبھی کبھار ہی بیدار ہوتا ہے اور وہ بھی غیر معینہ مدت کے بعد۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں