123

6 ستمبر 1965 (راؤ محمد نعمان)

6 ستمبر 1965 کو بھارتی افواج بین الاقوامی سرحد عبور کر کے لاہور شہر پر حملہ آور ہوگئی جس کی وجہ سے 17 دن تک پاکستان اور بھارت میں باقائدہ جنگ جاری رہی اس جنگ میں دونوں طرف سے بھاری جانی نقصان ہوا۔ ہزاروں شہری اور فوجی اس جنگ میں اپنی جانوں سے گئے۔ یہ جنگ چھ ماہ سے دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر میں ہونے والی شورش کا نقطہ عروج تھی۔ کشمیر ہی کے محاذ پر دونوں ملکوں میں 5 اگست سے باقائدہ فوجی جھڑپیں بھی جاری تھی۔

یہ جنگی صورت حال پہلے سے موجود تھی پھر بھی 6ستمبر کی صبح سے قبل جب بھارتی فوجی لاہور میں داخل ہوئے تو انہیں کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ لاہور کی نہر کیساتھ بین الاقوامی سرحد سے پندرہ کلومیٹر اندر فتع گڑھ کے مقام تک بھارتی فوجیوں کی آمد کی گواہیاں ملی ہیں جہاں سے فجر کے وقت اٹھنے والے لوگوں نے ان سے گفتگو بھی کی جس کے بعد انہیں یقین ہو گیا کہ انہیں گھیر لیا گیا ہے اور وہ فوجی واپس پلٹ گئے۔ جبکہ باٹا پور کے مقام پر رضاکاروں نے بھارتی فوجیوں کو اہم دفاعی مقام بمبانوالہ راوی بیدیاں لنک کینال جسے بی آر بی (BRB) نہر کے نام سے شہرت حاصل ہے) سے آگے نہ آنے دیا۔ بی آر بی نہر سے پیچھے واقع دیہات پر بھارتی قبضہ باآسانی ہو گیا تھا۔ دوپہر تک غیر یقینی صورت حال رہی بالآخر مغربی پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر دو بجے صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خان نے قوم سے خطاب کیا اور کہا کہ “میرے عزیز ہم وطنو! السلام علیکم ۔۔۔
دس کروڑ پاکستانیوں کے امتحان کا وقت آ پہنچا ہے۔ آج صبح سویرے ہندوستانی فوج نے پاکستان کے علاقے پر لاہور کی جانب سے حملہ کیا اور بھارتی جنگی طیاروں نے وزیر آباد اسٹیشن پر کھڑی ہوئی ایک مسافر گاڑی کو اپنی بزدلانہ حملے کا نشانہ بنایا۔ یہ پیش قدمی ان جارحانہ اقدامات کی ایک کڑی ہے جو پچھلے پانچ ماہ سے بھارتی سامراج مسلسل کرتا چلا آ رہا ہے اس کا آغاز مئی کے مہینے سے ہوا جب انہوں نے جنگ بندی لائن کو توڑا اور کارگل میں تین چوکیوں پر قبضہ کر لیا۔ اقوام متحدہ کی مداخلت پر ہندوستانیوں نے عارضی طور پر ان چوکیوں کو خالی کیا تھا لیکن اگست کے مہنیے میں دوبارہ قبضہ کرلیا۔ بڑھتے بڑھتے ٹٹوال کے علاقہ میں بھی انہوں نے ہماری چوکیوں پر قبضہ کر لیا۔ پورے ساز و سامان کے ساتھ انہوں نے اڑی اور پونچھ کی طرف بڑھ گئے۔ انہوں نے جنگ بندی لائن کو ہی نہیں توڑا بلکہ پاکستانی علاقہ میں عوام کے گھروں پر گولہ باری کی۔ اس اشتعال انگیزی کے باوجود ہم نے جس ضبط اور تحمل سے کام لیا اسے ہندوستانیوں نے غلط سمجھا۔

ہندوستانی حملہ کو روکنے کیلئے آزاد کشمیر کی افواج کو بھمبر کی جانب بڑھنا پڑا۔ ہندوستان نے اپنے ہوائی بیڑے کو بھی اس جنگ میں بے دریغ دھکیل دیا اس طرح حالات کو مزید خطرناک بنا دیا۔ اس وقت تک تمام دنیا پر واضح ہو گیا تھا کہ کشمیر پر جارحیت کا مقصد پاکستان پر حملہ کرنا ہے۔ آج انہوں نے اس کا آخری ثبوت بھی دیدیا ہے اور اپنے ناپاک ارادوں کا بھرم توڑ دیا ہے جو شروع ہی سے ان کے دلوں میں پاکستان کے خلاف پرورش پا رہے تھے۔ بھارتی حکمران شروع ہی سے پاکستان کے وجود سے نفرت کرتے رہے ہیں اور مسلمانوں کی علیحدہ آزاد مملکت کو انہوں نے کبھی دل سے تسلیم ہی نہیں کیا۔

پچھلے اٹھارہ برس سے وہ پاکستان کے خلاف جنگی تیاریاں کرتے رہے ہیں۔ اس نے اسی لیے چین کا حوا محض اس لیے کھڑا کیا کہ وہ مغربی ممالک سے زیادہ سے زیادہ فوجی امداد حاصل کر سکے۔ ہمارے بعض دوستوں(امریکہ اور مغربی ممالک) کو اس کا اندازہ نہ تھا اور وہ دھوکے میں آ گئے ان کا خیال تھا کہ پوری طرح مسلح ہو کر ہندوستان چین سے جنگ کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ ہمیں شروع ہی سے پتہ تھا کہ یہ ہتھیار ہمارے ہی خلاف استعمال ہوں گے۔ وقت نے یہ سچ ثابت کر دکھایا ہے۔ اب جب ہندوستانی حکمرانوں نے اپنی روایتی منافقت اور بذدلی سے کام لیتے ہوئے بغیر اعلان جنگ پاکستان کی مقدس سرزمین پر حملہ کرنے کا حکم دے دیا ہے تو ہمارے پاس ایک ہی راستہ رہ گیا ہے اور وہ یہ کہ ہم ان کے حملے کا ایسا منہ توڑ جواب دیں کہ ہندوستانی ناپاک سامراجی منصوبوں کا خاتمہ ہو جائے۔

ہندوستانیوں نے لاہور کے دلیر اور بہادر لوگوں کو سب سے پہلے للکارہ ہے۔ تاریخ میں لاہور کے دلیروں کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا کہ انہی کے ہاتھوں دشمن کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہو گا۔ پاکستان کی دس کروڑ عوام جن کے دل کی دھڑکن میں ’’لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ‘‘ کی صدا گونج رہی ہے اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک دشمن کی توپیں ہمیشہ کے لئے خاموش نہ ہوجائیں۔

ہندوستانی حکمران شاید ابھی نہیں جانتے کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے ۔ ہمارے دلوں میں ایمان اور یقین محکم ہے اور ہمیں یہ معلوم ہے کہ ہم سچائی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم پورے اتحاد اور عزم کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ ﷲ تعالیٰ کا واضع ارشاد ہے کہ فتح ہمیشہ سچ کی ہو گی۔ ملک میں آج ہنگامی صورتحال کا اعلان کردیا گیا ہے، جنگ شروع ہوچکی ہے دشمن کو فنا کرنے کے لئے ہمارے بہادر فوجیوں کی پیش قدمی جاری ہے۔ ﷲ تعالیٰ نے پاکستان کی مسلح فوجوں کو اپنے جوہر دکھانے کا موقع عطا کیا ہے۔ ان کی فدا کاری اور آہنی عزم ہمیشہ سے ان کے ساتھ رہا ہے۔ ہماری فوجیں دشمن کو ختم کرنے میں ان شاءﷲ کامیاب ہوں گی۔

حکومت پاکستان اس صورت حال کے مقابلے کیلئے پوری طرح تیار ہے اور تمام ذرائع اس کیلئے استعمال کئے جائیں گے۔ حملہ آور کے اس مقابلہ کی جدوجہد میں ہمیں یقیناً ان تمام ممالک کی ہمدردی اور حمایت حاصل ہو گی جو امن اور آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتویں باب کے تحت اپنی انفرادی اور اجتماعی مدافعت کے حق کو استعمال کر رہے ہیں۔

میرے عزیز ہم وطنوں اس آزمائش کی گھڑی میں آپ کو مکمل پرسکون اور متحد رہنا چاہیے۔ آپ میں سے ہر ایک کو ایک عظیم فرض ادا کرنا ہے۔ یہ فرض آپ پورے ایمان اور وفاداری سے ادا کیجئے گا۔ ﷲ تعالیٰ جو رحیم و کریم ہے آپ کو ضرور کامیابی بخشے گا۔ حق و انصاف کیلئے لڑنے والوں کو کبھی ناکامی نہیں ہوئی۔ جس فتنہ نے ہماری سرحدوں پر سر اٹھایا ہے وہ ان شاءﷲ تباہ ہو کر رہے گا۔

میرے ہم وطنو! آگے بڑھو اور دشمن کا مقابلہ کرو۔ خدا تمہارا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔ پاکستان پائندہ”
اس خطاب کے بعد عوام جو پہلے ہی بھارتی فوجبوں سے نبرد آزما تھے۔ مزید جوش و جذبہ سے باہر نکل آئے۔ تب پوری قوم ایک ہوگئی تھی۔ ایوب خان کے بد ترین مخالفین بھی ان کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ سیاسی لیڈران، فوجی جوان و افسران، کاروباری حضرات، طالب علم، عام عوام، کسان، مزدور، شاعر، موسیقار، گلوکار، خواتین، بزرگ اور بچے سب میدان عمل میں آگئے۔ حکومت نے چندہ کی اپیل کی کے ہر شہری ایک پیسہ(ٹیڈی)پیسہ دے تو ایک ٹینک خریدا جا سکتا ہے۔ لوگوں نے اپنا تمام مال و اسباب اس مہم میں بخوشی حکومت کے حوالے کردیا۔

تاریخ نے دیکھا کہ اپنے سے کہیں طاقتور ملک کو لاہور پر قبضہ کرنے سے جیسے روکا اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ لاہور میں ناکامی کے بعد بھارت نے وزیر آباد پر قبضہ کر کے جی ٹی روڈ کو روک کر عملاً ملک کا رابطہ توڑنے کا منصوبہ بنایا اور چھ سو ٹینکوں کیساتھ سیالکوٹ کے علاقہ چونڈہ پر حملہ کردیا۔ وہاں پاکستانی فوجیوں کے پاس وہ ہتھیار نہیں تھے جو ٹینک کو تباہ کر سکیں کیونکہ ٹینک کی اوپر اور چاروں جانب والا حصہ پر عام رائفل کی گولی یا گرنیڈ اثر نہیں کرتے اس لیے صرف ایک ہی راستہ تھا کہ ٹینک کے زمین کی طرف والے حصہ سے اس کے انجن کو گرنیڈ سے تباہ کیا جائے۔ پاکستان کے ان عظیم فوجی جوانوں نے مرنے کی اداکاری کی اور زمین پر لیٹ گئے جب بھارتی ٹینک ان کی لاشوں کو روندنے کیلئے ان کے اوپر چڑھ جاتا تو یہ نیچے سے گرنیڈ پھاڑ کر ٹینک کا انجن تباہ کر دیتے۔ یہ خود کش حملہ آور بھارتی فوج کے ٹیکنالوجی سے پھر پور ٹینکوں کو اپنے جذبہ شہادت سے شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔

قوم متحد تھی اور نا ممکن ممکن ہو رہا تھا کہ ایوب خان بین الاقوامی دباو برداشت نہ کر سکا اور 23ستمبر1965 کو جنگ بندی ہو گئی اور10جنوری 1966کو تاشقند معاہدہ جس میں اس جنگ کے اختتام کا اعلان ہوا دونوں ملک پانچ اگست والی پوزیشن پر واپس چلے گئے۔ اس کے بعد کبھی قوم میں ایسی یکجہتی نہیں ہوئی کیونکہ اس واقعہ سے عوام اور حکمران کا رشتہ کمزور ہو گیا۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ عوام حکمران کے اعلان پر جب لبیک کہتے ہیں تو حکمران اپن حکمرانوں کی ہدایات پر لبیک کہہ دیتے ہیں۔

اعلان تاشقند میں پاکستان کی جانب سے صدر جنرل ایوب خان اور بھارت کی جانب سے وزیر اعظم لعل بہادر شاستری(جو اس اعلان کے اگلے ہی روز تاشقند میں وفات پا گئے۔ ایوب خان نے ان کی میت کو کاندھا بھی دیا) نے جنگ کے اختتام کا اعلان کیا۔ اس جنگ کے حوالہ سے بہت کچھ تحریر ہوا اور ہوتا رہے گا۔ پر اس جنگ کی سب سے اچھی منظر کشی شاعر عوام حبیب جالب صاحب نے کی تھی جو کچھ یوں تھی۔

6 ستمبر 1965

کوئی بے حس بھلاتا ہے بھلا دے
نہ بھولیں گے کبھی لاہور زادے
وہ خونی چھ ستمبر کی شب غم
وہ ہیبت ناک توپوں کی دھما دھم
گھرا شعلوں میں داتا کا نگر تھا
سپاہ سالار لیکن بے خبر تھا
ادھر تھی فوج اعدا خیل در خیل
ادھر نیندوں کے ماتم نائم الیل
ادھر انبوہ آدم بے کراں تھا
ادھر انسان کا کم کم نشاں تھا
عدو اس حال کو بھی چال سمجھا
ہماری بے خودی کو ڈھال سمجھا
ہمارے مورچے اس نے سنبھالے
نہ لیکن بڑھ سکے اس کے رسالے
ہوئے ایسے وساوس میں گرفتار
کہ پا بر جارہے مانند اشجار
ادھر سوئے ہوئے بھی جاگ اٹھے
ادھر گھبرا کے بزدل بھاگ اٹھے
ادھر تھا جذبہ شوق شہادت
ادھر مال و زر و زن کی محبت
تھا سیل کفر ایماں کے مقابل
مگر کب پیش حق ٹھہرا ہے باطل
تھا جس کے پاس جو، وہ لے کر آیا
خدا کے نام پر سب کچھ لٹایا
سر میداں تھے مصروف تگ و تاز
عساکر کے جواں مردان سر باز
دعائیں تھی زباں پر اہل دیں کی
الہی خیر اپنی سرزمیں کی
نکل آئے کفن سر سے لپیٹے
کسانوں اور مزدورں کے بیٹے
وطن کا بچہ بچہ یوں پکارا
نہ جھکنے دیں گے ہم اپنا چاند تارا
دیے زیور تک اپنی بیٹیوں نے
عروسوں، ماؤں، بہنوں، بیٹیوں نے
حماقت جو ہوئی نادانیوں سے
شجاعت بن گئی قربانیوں سے
بچایا تب کہیں جاکر وطن کو
جھکایا یوں لوائے اہرمن کو
جو کہتے تھے کہ جم خانے چلیں گے
وہاں عشرت کے پیمانے چلیں گے
ملے یوں خاک میں ان کے ارادے
کوئی جیسے پہاڑوں سے گرا دے
وہ جو لاہور لینے کو چلے تھے
کھلی جب آنکھ دلی میں پڑے تھے
یہاں جب جانسن نے مات کھائی
تو کوسچن سے اپنی سر ملائی
ہزاروں میل سے اوتھان آیا
پیام صلح اپنے ساتھ لایا
ہوئے خوش تاشقند اعلان پر ہم
رہی چشم گل و لالہ میں شبنم
ہوا کشمیر اک بھولی کہانی
شہیدوں کا لہو گویا تھا پانی
یہی خوں جنگ میں تھا کام آیا
یہی خوں مال پر ہم نے بہایا
یہی خوں انتقام خوں بھی لے گا
ستم گر کی کلائی موڑ دے گا
نظام زر سے ہم خیرات کیوں لیں
سحر کا نور دے کر رات کیوں لیں
نظام زر سے ہر غارت گری ہے
کہ دشمن آدمی کا آدمی ہے
یہ سن لیں غور سے مالک ملوں کے
کہ سودے ہو نہیں سکتے دلوں کے
یہ کیسا دور نا فرجام آیا
کہ غاصب بن گیا اپنا پرایا
حقوق آدمیت چھن گئے ہیں
برے دن آئے اچھے دن گئے ہیں
مسلط آمریت ہے وطن پر
خزاں کا راج ہے صحن چمن پر
جو حق انساں کو تھا صدیوں سے حاصل
ہوا ہے آج وہ حق حرف باطل
جو آزادی ملی تھی گھر لٹا کر
اب اس کو رو رہے ہیں منہ چھپا کر
وہ آزادی کے جس کو خوں دیا تھا
بہر قیمت جسے حاصل کیا تھا
ہیں قابض اس پہ آزادی کے دشمن
شب غم چھائی ہے مسکن بہ مسکن
سکون غائب مسرت بے نشاں ہے
جو مانگی تھی وہ آزادی کہاں ہے
اندھیرے ظلم کے چھائے ہوئے ہیں
خیال و فکر تھرائے ہوئے ہیں
نہیں ہے جرات تقریر و تحریر
زبان و خامہ کو ہے خوف تعزیر
جریدے اگلے وقتوں کے گزٹ ہیں
وزیر و شاہ کی قامت پہ فٹ ہیں
نظر آتی ہے اک تصویر ہر روز
وہی بے ربط سی تقریر ہر روز
لب فریاد پر تالے پڑے ہیں
کہ جیسے ہم سر مقتل کھڑے ہیں
فضا غم کی بدل جائے گی آخر
ستم کی رات ڈھل جائے گی آخر۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں