64

مولانا فضل الرحمٰن کا کاروبار شدید مندی کا شکار۔۔۔۔! (میر افضل خان طوری)

محترم مولانا فضل الرحمٰن کا اس حوالے سے تعریف کرنا فرض سمجھتا ہوں کہ انھوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے اس ملک میں فرقہ واریت کو کبھی ہوا نہیں دی۔
لیکن فاٹا اور دیگر امور کے حوالے سے انکی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ قبائلی علاقوں پر ہونے والے حملوں پر انھوں نے کبھی بھی احتجاج کی کال نہیں دی۔ آج بھی لاکھوں قبائلی گھرانے بے گھر ہیں۔ ہزاروں افراد قتل ہوچکے ہیں۔ سینکڑوں بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ آج بھی قبائلی علاقوں کے سکول، ہسپتال اور سڑکیں فلسطین جیسا منظر پیش کر رہی ہیں مگر اس بڑی تباہی و بربادی پر مولانا صاحب نے کبھی دھرنے کی کال نہیں دی۔

اس ملک میں ظلم، زیادتی اور جبر کا بازار گرم ہے۔ لوگ گندگی خرید کر کھا رہے ہیں۔ ملاوٹ اور گندگی عام ہے۔ بچوں کو مدرسوں، مسجدوں اور دیگر مقامات پر زیادتی کے بعد قتل کیا جا رہا ہے مگر اس پر مولانا فضل الرحمٰن نے کبھی دھرنے کی کال نہیں دی۔

پنجاب اور سند پولیس نے سینکڑوں لوگوں کو غیر قانونی پولیس مقابلوں میں قتل کیا۔ ان کے یتیم بچوں کی آہ و فریاد پر کبھی مولانا نے دھرنے کی کال نہیں دی۔
لال مسجد میں مولانا فضل الرحمٰن کی بات کو پرویز مشرف نے تسلیم نہیں کیا۔ بعد میں مولانا سیدھے لندن چلے گئے۔ لال مسجد میں خون کی ہولی کھیلی گئی۔ اس واقعے پر انھوں نے کبھی مشرف کیخلاف دھرنے کی کال نہیں دی۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے مولانا ہر حکومت کا حصہ بنا رہا۔ وزارتیں لیتے رہے۔ مزے کرتے رہے مگر کوئی ایک ٹکے کا کام بھی ملک و قوم کیلئے نہیں کیا۔ مسلسل کشمیر کمیٹی کے سربراہ بنے رہے۔ کشمیر پر ان کے دور میں کوئی بھی پیش رفت نہیں ہوئی۔ مگر اس کے باوجود سرکاری مراعات لیتے رہے۔

آج پہلی دفعہ ان کا کاروبار شدید مندی کا شکار ہو چکا ہے۔ کئی دہائیاں بعد وہ بے روزگاری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ اب صاف ظاہر ہے کہ وہ کسی نا کسی ذریعے سے حصول اقتدار کیلئے تک و دو تو کرینگے۔ جو اسلام انکے ہر دور اقتدار میں مسلسل پامال ہوتا رہا تھا، آج اسی اسلام کو زندہ کرنے کا نعرہ لگا کر اس ملک کے نظم و نسق کو برباد کرنے کی مذموم کوشش کرنے میں مصروف ہے۔

پاکستانی قوم کا اولین فرض بنتا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے پیچھلے ادوار کے تمام کارناموں کو مدنظر رکھ کر ان کے مذموم ایجنڈے کو مسترد کر دے اور اپنے ذی شعور ہونے کا ثبوت دیں۔ اب قوم ان کے ملک دشمن عزائم کے بارے میں جان چکی ہے۔ وہ اب انکے کسی بہکاوے میں نہیں آنے والے ہیں۔ مولانا نے آج تک اپنے اقتدار کیلئے اس ملک کا جتنا بیڑا غرق کیا ہے تاریخ میں اسکی نظیر نہیں ملتی۔ اب یہ قوم اسلام کے نام پر مزید گمراہ نہیں ہوسکتی۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں