55

نظریہِ پاکستان….! (وجاہت علی عمرانی)

کسی بھی معاشرے کی کامیابی و کامرانی میں نوجوان نسل کا اہم کردار ہوتا ہے۔ نوجوان كسى بهى قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، معاشرے میں نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے، اپنے معاشرے کا مغز ہوتے ہیں۔اپنے سماج کا آئینہ ہوتے ہیں اور معاشرے کا عظیم اثاثہ ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے کی نشونما، معاشرے کی بقا اس کی صلاح و فلاح، اس کا مستقبل انہیں کے دامن سے وابستہ ہوتا ہے۔ انسان کی زندگی کا سب سے اہم مقصد اور فرض سمجھ بوجھ حاصل کرنا ہے۔ اس مقصد کے لئے ہم جو کوشش کرتے ہیں اسے تعلیم کہتے ہیں یہ تعلیم روحانی، ذہنی اور جسمانی ہر طرح کی ہوتی ہے اور اس طرح ہم اشرف المخلوقات کے درجے تک پہنچتے ہیں۔ پاکستان ان چند خوش قسمت ممالک میں شامل ہے جسکی آبادی کاایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

اقبال کے شاہین صفات اور مثبت سوچ کے حامل سٹیٹ یوتھ پارلیمنٹ پاکستان کے نوجوانوں نے فیصل علی سیال کی سربراہی میں گومل یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں کُل پاکستان نظریہِ پاکستان کے عنوان سے ایک عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد کیا۔ جس میں ملک سطحی کے معروف و مشہور عملی و فکری شخصیات اور سکالرز بشمول سٹیٹ یوتھ پارلیمنٹ کے مرکزی صدر شہیر سیالوی نے شرکت کی۔ گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سرور چوہدری نے اس کانفرنس کی صدارت کرکے جوانوں کے حوصلوں کو مذید تقویت بخشی۔ واقعی عصر حاضر کے نوجوانوں کو نظریہ پاکستان سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے، نظریہ پاکستان دراصل جسم ِ پاکستان کی روح ہے۔ نظریہ پاکستان دراصل اسلام کا دوسرا نام ہے۔ جس کی اہمیت و افادیت پاکستان کی زندگی کیلئے لازمی ہے۔ اس لئے نظریہ پاکستان ہر پاکستانی کے قول و عمل میں تندرست و توانا رہنا چاہئے۔ ہمیں ان گھمبیر حالات میں اپنے تمام شعبوں میں نظریہ پاکستان کا واضح ادراک رکھنے والے لوگوں کو آگے بڑھانا چاہئے تاکہ پاکستان اپنے نظریہ کی روشنی میں نہ صرف یہ کہ ترقی کر سکے بلکہ اپنے نظریہ میں توانائی و رعنائی کی خوشبو بڑھا کر اپنے قیام کے اصل مقاصد کے حصول کیلئے بھی آگے بڑھ سکے۔ قائد اعظم نے ایک سیاسی اور جمہوری جدوجہد کے زریعے سے پاکستان کی منزل حاصل کی، وہ آئین اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے تھے۔ قائد اعظم کے نظریہ پاکستان میں غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ ریاست کی اہم ذمہ داری ہے اسی لئے پاکستان کا پہلا وزیر قانون ایک ہندو جوگندر ناتھ منڈل بنایا گیا۔ علامہ اقبال اور قائد اعظم کی تعلیمات ہی در اصل اصل نظریہ پاکستان ہے۔

لہذا موجودہ بحران سے نمٹنے کے لئے ہماری ملت کو مستقبل قریب میں ایک آزادانہ راہ عمل اختیار کرنی پڑے گی اور آزادانہ سیاسی راہ عمل ایک مقصد پر مرکوز کرنا ہوگی۔ ہمیں فرقہ بندی اور نفسانیت کی قیود سے آزاد ہونا پڑے گا۔ اپنے انفرادی اور اجتماعی اعمال کو اسلامی اقدار میں ڈھال کر مادی اغراض سے جان چھڑانا ہوگی اور اس نصب العین کے حصول کی خاطر جو قیام پاکستان کا اصل نظریہ تھا کی نمائندگی کرتے ہوئے ہمیں مادیت زدہ مغربی جمہوریت سے گزر کر اسلامی جمہوریت کی طرف آنا ہوگا۔ مسلمانوں کو اپنے اسلامی تاریخی ورثے سے سبق سیکھتے ہوئے جیسے آڑے وقتوں میں اسلام نے مسلمانوں کو بچایا ہے، اگر آج بھی ہم اپنی نظریں اسلام پر مرکوز کردیں اور ہم اپنی پراگندہ قوتوں کو از سر نو جمع کر لیں تو وہ کھویا ہوا وقار عروج اور تمکنت دوبارہ حاصل کرسکتے ہیں۔ یہی وقت کی آواز ہے اور یہی موجودہ حالات کا تقاضا ہے۔ یہی وہ نسخہ کیمیا ہے جو ہمیں تباہی و بربادی سے بچاکر اور سوئے منزل چلاکر ہماری تقدیر کو بدل سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ ہم اپنے اندر مومنانہ بصیرت اور انقلابی شعور پیدا کریں اور کفرو منافقت کا ڈٹ کا مقابلہ کریں۔ اگر مسلمانان پاک و ہندکی تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے اور ان عوامل کو سمجھنے کی کوشش کی جائے جنہوں نے مسلمانوں کے کلچر اور ذہنی ساخت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا تو ان میں اسلام کا کردار سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔

قابلِ سلام و ستائش ہیں سٹیٹ یوتھ پارلیمنٹ کے نوجوان جنہوں نے اس عظیم عنوان پہ کانفرنس کر کے نوجوانوں کی سوچ کو مثبت پیرائے میں ڈھال کر نظریہ پاکستان کو سمجھنے میں مدد کی۔ وقت کی ضرورت ہے کہ نظریہ پاکستان پہ عمل کرتے ہوئے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ سماجی سطح پر فلاحی، تحقیقی و تعلیمی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیں۔ انتظامی معاملات میں براہ راست شرکت کریں اور دوسرے نوجوان شہریوں کو بھی معاشرتی بہتری کے لئے سرگرم عمل ہونے کے لئے شامل کریں ان تمام سرگرمیوں کا محور نوجوانوں میں شخصی و سماجی خوبیوں کو پروان چڑھانا ہے اور ایک ایسا نیا معاشرہ تشکیل پاتا ہے جو محبت و مؤدت کو اؤلین ترجیع دیتا ہے، جو حق و سچ کا علمبردار ہوتا ہے، جو جہالت، ناانصافی، دہشتگردی اور ظلم و جبر کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوتا ہے اور علاقے کو امن و امان کا گہوارہ بنا کر صرف خوشیاں تقسیم کرتا ہے۔ سٹیٹ یوتھ پارلیمنٹ کا اس نظریہ پاکستان کانفرنس کا مقصد صرف یہ تھا کہ آؤنظریہ پاکستان کا مل کر تحفظ کریں۔ آؤ مل کر پاکستان کو مضبوط بنائیں۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں