45

ہم کو مت بھیک میں دے کرتے امیروں والے (نسیم الحق زاہدی)

”بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا” اب ہر طرف انصاف کا بول بالا ہوگا، شیر اور بکریاں ایک ہی گھاٹ پر پانی پیئے گے۔ انصاف کا یہ عالم ہوگا کہ حاکم وقت رعایا کے سامنے جواب دہ ہوگاکہ اس نے رعایا کا پیسہ اپنی خواہشات کو پوری کرنے میں سرف تو نہیں کردیا۔ کوئی بھی غریب بھوک افلاس کے ہاتھوں مجبور ہوکر پیالہ اجل نہیں پیئے گا، کوئی بھی باپ ایک وقت کی روٹی میسر نہ ہونے پر اپنی قسم دیکر اپنی بیٹیوں کو زہر نہیں پلائے گا۔کوئی بھی ماں اپنی اولاد کی بھوک کو مٹانے کے لیے کئی بھیڑیوں کی بھوک کا شکار نہیں بنے گی۔ ادارے رشوت نہیں کھائیں گے۔ بے روزگاروں کو نوکریاں ملیں گی غریبوں کو انکے بنیادی حقوق روٹی ،کپڑا اور مکان ملے گا۔ غریب کا بچہ ہسپتال کے فرش پر ایڑھیاں رگڑ رگڑ نہیں مرے گا۔ ذاتی امتیازات، ترجیحات کا خاتمہ ہو جائے گا۔ قانون کی بالا دستی ہوگی۔ کسی وڈیرے، جاگیردار مجرم کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ قوم کا لوٹا ہوا پیسہ قوم کے چوروں سے واپس لیا جائے گا۔ ہر شخص آزاد ہوگا۔ ہر طرف خوشحالی ہوگی امن کا ماہ تاباں طلوع ہوگا۔ عہد صحابہ کی یاد تازہ ہوگی۔ امیر کو غریب پر فضیلت حاصل نہیں ہوگی۔

مگر کیا ہوا؟ کچھ بھی تو نہیں ہوا؟ میںیہ مانتا اور جانتا ہوں کہ یہ کائنات کی سب سے عظیم ہستیاں صحابہ کرام کا دور نہیں ہے کہ حاکم وقت سے کوئی سوال کیا جاسکے۔ کہ حاکم وقت آپ کے بھی سارے وعدے اور دعوے حسب روایت حکمرانوں والے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گاشاید کہ جناب نے سانحہ زینب قصور پر اس وقت کی حکومت بالخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو آڑھے ہا تھوں لیا تھا۔ حضور آپکی دور حکومت میں ایک ذہنی معذرور شخص صلاح الدین کو آپکی پولیس نے بری طرح تشدد کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

سانحہ ساہیوال کے مجرم بری ہوگئے۔ سانحہ چونیاں اور سب سے اہم ملعونہ آسیہ مسیح کی رہائی ہے حضور یوں تو آپ ہر بات پر ریاست مدینہ ۖ کی مثال دیتے ہیں۔ آپکو علم ہے کہ ایک شاتم رسول ۖ کی سزا کیا ہے؟ جو خود آقا کریم ۖ نے معین کی تھی۔ مانتا ہوں یہ سارے فیصلے عدالتوں کے ہیں مگر عجب اتفاق ہے کہ جس دن کفر پر قائم معاشرے نے غازی علم الدین شہید کو پھانسی دی تھی عین اسی دن ملعونہ آسیہ مسیح کی رہائی اور رہائی سے قبل واشنگٹن کی اخبارات نے غازی علم الدین کی برسی کے دن آسیہ مسیح کی رہائی کی شہہ سرخیاں شائع کیں تھیں۔ اور آپ نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ ایک معمولی سے عدالتی فیصلے پر عوام نے واویلا مچادیا ہے۔انتہائی ادب کے ساتھ کہ وطن عزیز میں سارے قانون غریب پر لاگو ہوتے ہیں۔ یہاں ایک روٹی چور کو تو پھانسی پر چڑھا دیا جاتا ہے اور ایک ملک چور کے لیے ساری ہمدردیاں جاگ اٹھتی ہیں اس کے لیے انسانیت جاگ جاتی ہے۔ کیوں؟ نسل در نسل پاکستانی غریب عوام کے جذبات ،احساسات کا قتل کرنے والوں کے لیے اس ملک میں ایک ایسا ہسپتال بھی نہیں کہ وہاں پر ان کا علاج ممکن ہوسکے؟ حاکم وقت جائیے پاکستان کی جیلوں کا دورہ کیجئے دیکھے کہ وہاں پر اکثریت غریبوں اور بے گناہوں کی ہے۔ بے شک غربت سے بڑا کوئی جرم نہیں۔ آپ تو غربیوں کو اعلیٰ معیار کی طبی سہولیات فراہم کرنے کی بات کرتے تھے۔ مگر حضور! غریبوں کے تو مرنے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ ایک خبر نظر سے گزری تھی کہ اوقات کار دفن قبرستان مردوں کے لیے بھی اصول، نئی قبروں پر ایک ہزار سے پندرہ سو روپے ٹیکس۔

حضور! آخر کب تک غریبوں کے ساتھ مذاق ہوتے رہیں گے۔ اور مظلوم رعایا کب تک حکمرانوں کے ہاتھوں بے وقوف بنتی رہے گی ؟کب تک مختلف لولی پاپ دیکر حکمران رعایا کا استحصال کرتے رہیں گے؟ شاید اس وقت تک جب تک غریب اتحاد نہیں کر لیتے ہیں۔ تیونس، مصر، فرانس کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ کس نہتی عوام نے متحد ہوکر صدیوں سے قائم ظالمانہ نظام حکومت کو جڑ سے اتار پھینکا تھا اور وہاں پر اپنی حکومتیں قائم کیں۔ہمارے حکمران مظلوم رعایا کو شعور نہیں آنے دیتے کیونکہ باشعور قومیں گلے میں غلامی کا طوق ڈال کر جینے سے عزت کی موت مرجانا پسند کرتے ہیں۔ (ڈاکٹر علی شریعتی) کہتے ہیں ”ایک جاہل سماج میں شعور رکھنا ناقابل معافی جرم ہے۔ اور اس کی کئی زندہ مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ سچ لکھنے، سچ بولنے والوں کو یا تو پابند سلاسل کردیا جاتا ہے یا پھر صفحہ ہستی سے اٹھا دیا جاتا۔ ہم غلام ابن غلام رہ کر غلامی کے عادی ہوچکے ہیں۔ سالوں سے چند خاندان ہم پر مسلط ہیں اور ہم انکے ظلم وستم پر احتجاج کرنا تو دور کی بات، سر اٹھانا بھی کفر سمجھتے ہیں ہم نے انکو اپنے ہاتھوں اپنا طاغوت بنایا ہوا ہے۔ ہم غلاموں کے لیے خلیل جبران نے خوب کہا تھا ”تم ایسے غلام ہو کہ جب زمانہ تمہاری زنگ آلودہ بیڑیاں اتار کر چمکدار بیڑیاں پہنا دیتا ہے تو تم اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہو” ہم نے ایسی تبدیلی کی تو آرزو نہیں کی تھی کہ غریب کے لیے جینا تو دور کی بات مرنا بھی مشکل ہوجائے ۔جوکہ ہوچکا ہے۔ اچھے دنوں کی امید پر ہم جیئے جاتے ہیں۔ پیوستہ رہ شجر سے امید رکھ کیونکہ فرمان الٰہی ہے۔ کہ ہر تنگی کے بعد آسانی ہے۔ اور مایوسی کفر ہے۔ عین ممکن ہے آپ کے دل میں میرے بات اتر جائے۔ ہم اس ملک میں کارل مارکس کے خونی انقلاب کے خواہش مند نہیں بلکہ ہمارا آئیڈیل، ہمارے قائد، رہبر و راہنما، مسیحا انسانیت حضرت محمد ۖ ہیں اور انقلاب مدینہ چاہتے ہیں کہ نبی رحمتۖ ایک عظیم فاتح کی حیثیت سے مدینہ میں داخل ہوتے ہیں اور چیونٹی کو بھی نقصان نہیں پہنچتا۔ ہم پاکستان کو عملی طور ریاست مدینہۖ ثانی دیکھنا چاہتے ہیں۔ امید ہے کہ انشاءاللہ اس ملک میں حقیقی تبدیلی آئے گی ہم حاکم وقت کی نیت پر شک نہیں کرتے مگر ایک عرض کرتے ہیں کہ خداراہ خوشامدی وزیروں و مشیروں سے اجتناب کریں اور تبدیلیاں کریں۔ پھر دیکھیں کہ ملک میں کیسے تبدیلیاں آتی ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان آپ تو روایت شکن ہونے کا دعویٰ کرتے تھے پھر کیا ہوا، آپ بھی وہی پرانی روایات کے امام نکلے ہیں۔ یاد رکھیے گا پاکستان کی اس لٹی پٹی رعایا نے آپ سے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ پاکستان کو ریاست مدینہ ۖ ثانی بنانے کے لیے سب سے پہلا کام ”انصاف” کا قیام ہے۔ ورنہ مرید باقر انصاری کے اس شعر کے ساتھ اجازت۔

ہم کو مت بھیک میں دے کرتے امیروں والے
ہم پہ جچتے ہیں فقط بھیس فقیروں والے۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں