315

ایران نے انتہائی قدم اٹھا لیا: امریکا اور خلیجی ریاستوں میں کھلبلی مچ گئی

تہران (ڈیلی اردو) ایران نےخلیجِ عربی میں امریکی جنگی سرگرمیوں کے تدارک کے لیے ایس 300 میزائل، خلیج فارس کے کنارے پر منتقل کردیے ، یہ علاقہ خاص دفاعی نوعیت کا حامل ہے۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایران کے قابلِ ذکر حلقوں کی جانب سے پوسٹ کیے جانے والے وڈیو کلپ میں ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے فضائی دفاعی میزائل سسٹم ایس-300 کی بیٹریز کو خلیج فارس کے کنارے واقع علاقوں میں منتقل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

وڈیو کلپس میں میزائل اور فوجی ساز و سامان سے بھرے عسکری ٹرک بوشہر صوبے کے علاقے عسلویہ جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ علاقہ ایران کے جنوب میں خلیج فارس کے مقابل واقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی فضائیہ کے سربراہ عزیز نصیر زادہ نے پیرکے روز دھمکی دی کہ امریکا کی جانب سے دھمکائے جانے کے جواب میں خطے کے ممالک کے دارالحکومتوں پر بمباری کی جائے گی اورخلیج فارس میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ کہا جارہا ہے کہ ایران کی اس مشق سے امریکا اور کئی خلیجی ریاستیں تحفظات کا شکار ہو گئی ہیں۔ اس عمل سے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید ہوا ملے گی۔

نصیر زادہ نے بوشہر، بندر عباس اوراصفہان میں فضائی اڈوں کے دورے کے دوران ایرانی ہوابازوں پرزور دیا کہ وہ اپنی اس قیادت کی پیروی کریں جنہوں نے عراق کے ساتھ جنگ میں اپنی جانیں قربان کردیں اور اس دوران غیر وابستہ تحریک کے سربراہ اجلاس سے قبل عراقی دارالحکومت بغداد پر کاری ضرب لگائی۔

دوسری جانب ایرانی عہدے داران حالیہ حملوں میں براہ راست ملوث ہونے کی تردید کر رہے ہیں۔ ان حملوں میں حوثی ملیشیا کی جانب سے امارات کے علاقائی پانی میں تیل کے ٹینکروں کو نشانہ بنائے جانے اور تیل کی سعودی تنصیبات پر حملہ کیے جانے کے علاوہ بغداد میں امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے نائب سربراہ علی فدوی کا کہنا ہے کہ پاسداران اپنی کارروائیوں کو موجودہ سطح سے زیادہ بڑھا سکتی ہے۔

دوسری جانب امریکی طیارہ بردار جنگی جہاز ابراہم لنکن نے پیر کے روزسے بحیر ہ عرب میں مشقوں کا آغاز کر دیا ہے ۔ کچھ دن قبل بھی امریکی ابراہم لنکن ایئرکرافٹ کیریئر کے ساتھ امریکی میرین کورپس کے تعاون مشقتین کی گئی تھیں جن کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ امریکا کسی بھی قسم کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 میں کیے گئے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے اعلان اور ایران پر پابندی کے دوبارہ نفاذ کے بعد ایرانی معیشت بحران کا شکار ہوگئی ہے، جس سے دونوں ممالک میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیتے ہوئے یہ واضح کیا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے ہیں۔

ایران امریکی صدر کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کی تجویز کو مسترد کرچکا ہے اور اس سلسلے میں ایرانی قیادت کا کہنا تھا کہ امریکی جارحیت ناقابلِ قبول ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں