66

کالعدم تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی کے بانی مولانا صوفی محمد انتقال کر گئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) کالعدم تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی کے بانی، سربراہ مولانا صوفی محمد طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر 90 برس سے زائد تھی۔

مولانا صوفی محمد کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق امیر ملا فضل اللہ کے سسر تھے جو گزشتہ سال افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں ساتھیوں سمیت مارے گئے تھے۔

مولانا صوفی محمد کو ریاست کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر اور دہشت گردی کے الزام میں 2009ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم جنوری 2018ء میں پشاور ہائی کورٹ نے ان کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے خرابی صحت کی بناء پر انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

رہائی کے بعد مولانا صوفی محمد کچھ عرصہ پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں بھی زیرِ علاج رہے۔ ان کا انتقال بدھ کی شب ضلع لوئر دیر کے علاقے میدان میں واقع اپنی رہائش گاہ میں ہوا۔

صوفی محمد کی تدفین جمعرات کی صبح ان کے آبائی علاقے میں واقع قبرستان میں کر دی گئی۔

مولانا صوفی محمد کون تھے؟

لوئر دیر کے علاقے میدان سے تعلق رکھنے والے مولانا صوفی محمد کالعدم تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی کے قیام سے قبل جماعتِ اسلامی پاکستان کے سرکردہ رہنما تھے۔

چترال، سوات اور ملحقہ علاقوں میں عدالتی نظام کی عمل داری نہ ہونے کے باعث مولانا صوفی محمد نے سنہ 1982 میں اپنے دیگر ہم خیال ساتھیوں کے ساتھ مل کر تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی کے نام سے اپنی علیحدہ جماعت کی بنیاد رکھی، جس کا بنیادی مقصد ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنے کی جدوجہد کرنا تھا۔

مولانا صوفی محمد کی تحریک 1994ء میں اس وقت زور پکڑ گئی تھی جب انھوں نے ایک ماہ تک مالاکنڈ ڈویژن میں احتجاج کیا تھا۔

افغان جنگ میں شمولیت

سنہ 2001 میں امریکہ کے افغانستان پر حملے کے بعد صوفی محمد اپنے کئی ہزار ساتھیوں کے ہمراہ سرحد عبور کر کے طالبان کے ساتھ مل کر امریکہ کے خلاف لڑنے کے لیے افغانستان چلے گئے تھے۔ تاہم امریکہ کے کابل پر قبضے کے بعد صوفی محمد ساتھیوں سمیت پاکستان واپس آگئے تھے جہاں انھیں پاکستانی حکام نے کرم ایجنسی سے حراست میں لے لیا تھا۔

سنہ 2008 میں سوات میں کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کے نام سے نئی مزاحمتی تحریک نے جنم لیا اور سیکورٹی فورسز، سرکاری اداروں اور عام لوگوں پر حملے شروع کر دیے۔ اس تحریک کی سربراہی ملا فضل اللہ کے پاس تھی جو صوفی محمد کے داماد تھے۔

اس دوران حکومت کے ساتھ طے پانے والے ایک امن معاہدے کے تحت مولانا صوفی محمد کو رہا کر دیا گیا تھا۔ حکومت نے سوات میں مولانا صوفی محمد کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے شرعی عدالتیں بھی بحال کر دی تھیں۔

مولانا صوفی محمد کے مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود سوات میں پرتشدد واقعات میں اضافہ اور طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث فوجی آپریشن (سوات آپریشن) شروع کر کے مولانا صوفی محمد کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ فوجی آپریشن کے دوران سوات میں مولانا صوفی محمد کا ایک بیٹا بھی مارا گیا اور صوفی محمد کا داماد ساتھیوں سمیت افغانستان فرار ہو گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں