72

سینٹ فنکشنل کمیٹی اجلاس میں جنرل صلاح الدین ترمذی اور مولا بخش چانڈیو کے درمیان دلچسپ مکالمہ

اسلام آباد (ڈیلی اردو) سینٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے اختیارات کی منتقلی میں سیکرٹری اور وزیر بین الصوبائی رابطہ کمیٹی کی عدم شرکت پر ممبران برہم ہوگئے۔ ممبر کمیٹی لیفٹینٹ جنرل (ر) صلاح الدین ترمذی نے برہم ہوتے ہوئے کہا کہ اگر وہ فوج میں ہوتے تو وزارت کے کورٹ مارشل کا حکم دیتا، جس پر چئیرمین کمیٹی نے کہا آپ وزارت کا کورٹ مارشل اب بھی کر سکتے ہیں۔

چئیرمین کمیٹی نے مولا بخش چانڈیو نے اجلاس انا للہ وانا علیہ راجعون کہہ کر اجلاس ملتوی کردیا۔

گزشتہ روز سینٹ کی فنکشنل کمیٹی کا اجلاس چئیرمین کمیٹی مولا بخش چانڈیو کی زیر صدارت ہوا، مگر سیکرٹری وزارت بین الصوبائی رابطہ کمیٹی اور وزیر بین الصوبائی رابطہ کمیٹی کی عدم شرکت کے باعث جاری نہ رہ سکا، ممبر کمیٹی سسی پلیجو نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے کمیٹوں کو اہمیت نہیں دی جا رہی ہے ممبران موجود ہیں لیکن سیکرٹری آئے ہیں اور نہ ہی وزیر آئی ہیں، اس طرح کام نہیں چلے گا۔

سینٹر صلاح الدین ترمذی نے کہا کہ وزیر اور سیکرٹری کے خلاف تحریک استحقاق لائی جائے انہوں نے کہا کہ وہ فوج سے ریٹائر ہوئے ہیں اگر وہ فوج میں ہوتے تو وزارت کے کورٹ مارشل کو حکم دے دیتے جس پر مولا بحش چانڈیو نے کہا کہ آپ ابھی بھی کورٹ مارشل کر سکتے ہیں۔

مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ پالیسی سازوں کو خیال رکھنا چاہیے افسوسناک بات ہے کہ کوئی افسر آج موجود نہیں ہے وزارت لاوراث ہو گئی ہے انہوں نے انا للہ وانا علیہ راجعون کہہ کر اجلاس ملتوی کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں