156

اسرائیلی فوج نے یروشلم میں فلسطینیوں کے درجنوں مکانات مسمار کردیے

غزہ (ویب ڈیسک) اسرائیل نے جنوبی یروشلم میں کئی فلسطینیوں کے گھروں کو غیر قانونی کہتے ہوئے مسمار کرنے کا آغاز کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے صحافی نے بتایا کہ درجنوں اسرائیلی پولیس اور فوجی اہلکاروں نے مغربی کنارے پر اسرائیلی سیکیورٹی بیریئر کے قریب سر باہر کے علاقے میں کم از کم 4 عمارتوں کو سیل کردیا۔

بعد ازاں بلڈوزر کے ذریعے دو منزلہ عمارت کو ٹکروں میں توڑنے کے کام کا آغاز کیا گیا۔

صحافیوں کو اس علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ رہائشیوں کو ان کے گھروں سے نکال کر باہر کردیا گیا۔

ایک شخص نے زبردستی گھر سے نکالے جانے پر شور مچایا اور کہا کہ ‘میں یہیں مرنا چاہوں گا’۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ عمارتیں اسرائیلی بیریئر کے نزدیک قائم تھیں جو مغربی کنارے کو 2 حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔

اس کے حوالے سے یہودی ریاست کا کہنا تھا کہ یہ دیوار کے نہایت نزدیک قائم تھیں۔

فلسطینیوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل انہیں اس علاقے سے باہر نکالنے کے لیے سیکیورٹی کو جواز بنا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر عمارتیں ان جگہوں پر قائم تھیں جو اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت فلسطین کے کنٹرول میں ہونی تھیں۔

ان ہی عمارتوں میں رہنے والے اسمٰعیل عباديہ کا کہنا تھا کہ ‘وہ بے گھر ہوجائیں گے اور سڑکوں پر آجائیں گے’۔

تاہم اسرائیلی فوج اور پولیس کی جانب سے واقعے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ 18 جون کو رہائشیوں کو اسرائیلی حکام کی جانب سے 30 دن کا نوٹس موصول ہوا تھا جس میں انہیں بتایا گیا تھا کہ ان کے گھروں کو مسمار کردیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ایجنسی (او سی ایچ اے) کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے 10 عمارتیں متاثر ہوں گی جن میں تقریباً 70 اپارٹمنٹس بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق گھروں کے مسمار کیے جانے سے 17 افراد نقل مکانی پر مجبور ہوجائیں گے جبکہ 350 افراد متاثر ہوں گے۔

حال ہی میں اس علاقے کا دورہ کرنے والے یورپی یونین کے سفارتکار اور اقوام متحدہ نے اسرائیل سے گھروں کو مسمار کرنے کے منصوبے کو ترک کرنے کا کہا ہے۔

رہائشیوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ علاقے میں دیگر 100 سے زائد عمارتیں جو اس ہی طرح کی صورتحال میں ہیں، کو بھی مستقبل میں گرایا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ فلسطینیوں کے لیے اسرائیل کے زیر انتظام علاقوں میں اسرائیلی حکام سے تعمیرات کی اجازت لینا نہایت مشکل ترین مرحلہ ہے جس کی وجہ سے انسانی حقوق کے رضاکاروں کا ماننا ہے کہ گھروں کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

اسرائیل نے 1967 میں 6 روزہ جنگ کے بعد مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا تھا تاہم بعد ازاں انہوں نے مشرقی یروشلم کو اپنی ریاست میں منسلک کرلیا تھا جس کی بین الاقوامی برادری نے کبھی تصدیق نہیں کی۔

اسرائیل نے بیریئر کی تعمیرات کا کام سنہ 2000 میں کیا تھا اور اس حوالے سے کہا تھا کہ یہ ان کی حفاظت کے لیے ناگزیر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں