51

ملک بھر میں یوم عاشور کے جلوس اختتام پذیر

لاہور + کراچی + کوئٹہ + پشاور + گلگت + اسلام آباد + مظفر آباد (نمائندگان ڈیلی اردو) ملک بھر میں نواسۂ رسول امام حسین علیہ السلام اور ان کے جاں نثار ساتھیوں کی یاد میں یوم عاشور کے جلوس نکالے گئے جن کے شرکاء نے عزاداری، نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کی۔

کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں شبیہ علم و ذوالجناح کے جلوسوں میں عزاداروں نے امام عالی مقامؑ کی عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔

امام بارگاہوں میں شام غریباں کی مجالس، لاہور، کراچی، فیصل آباد، ملتان، پشاور، پارا چنار، مظفر آباد، گلگت اور کوئٹہ سمیت ملک بھر میں ماتمی جلوس منازل پر پہنچ کر اختتام پذیر، دن بھر سخت سیکیورٹی انتظامات، شام ہوتے ہی موبائل فون سروس بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

اسلام آباد

وفاقی دارالحکومت میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس ایف الیون ون میں اپنے مخصوص روٹ سے ہوتا ہوا امام بارگاہ موسیٰ کاظم پر اختتام پذیر ہو گیا، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جلوس کے تمام روٹس پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کر رکھے تھے۔ منگل کو ایف الیون کی گلی نمبر 37 سے 10 ویں محرم کا جلوس برآمد ہوا۔ عزاداری جلوس اپنے مخصوص راستے سے ہوتا ہوا امام بارگاہ موسیٰ کاظم پہنچا۔

سیکیورٹی انتظامات سے متعلق ترجمان اسلام آباد پولیس نے بتایا کہ ڈی آئی جی آپریشنز وقار الدین سید نے جلوس کے آغاز سے اختتام تک نگرانی کی جبکہ جلوس کی سکیورٹی پر آپریشن، سپیشل برانچ، ٹریفک پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے 700 سے زیادہ افسران و جوان تعینات کئے گئے۔

سندھ

کراچی میں یوم عاشور کی مرکزی مجلس نشتر پارک میں منعقد ہوئی جس سے علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے خطاب کیا اور فلسفہ شہادت بیان کیا۔

مجلس کے بعد مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا۔ جلوس کی سیکیورٹی کیلئے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ راستوں میں بلند عمارتوں پر اسنائپرز تعینات تھے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیموں نے جلوس کے راستوں کی سوئپنگ کی۔ ایم اے جناح روڈ، صدر، ریگل چوک سمیت جلوس کی گزرگاہوں کے اطراف گلیوں کو کنٹینرز سے بند کیا گیا تھا۔ حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ اور دیگر حکام کے ہمراہ جلوس میں شریک ہوئے۔ جلوس کے شرکاء نے تبت سینٹر پر نماز ظہرین ادا کی جس کے بعد جلوس اپنے روایتی راستوں ریڈیو پاکستان، جامع کلاتھ سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینیہ ایرانیاں کھارادر پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔

حیدرآباد میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس قدم گاہ مولا علی سے برآمد ہو کر کربلا دادن شاہ پر اختتام پزیر ہوا۔

نواب شاہ میں شبیہ علم و ذوالجناح کا ماتمی جلوس مرتضوی امام بارگاہ موہنی بازار سے برآمد ہوا اور اسی مقام پر اختتام پزیر ہوا۔

جیکب آباد میں حاجن شاہ اور شیر شاہ حویلی سے برآمد ہونے والا جلوس شام کے وقت اختتام پذیر ہوگیا۔

ٹھٹھہ کا مرکزی جلوس شیرازی امام بارگاہ اور بدین میں امام بارگاہ سجادیہ سے برآمد ہوا۔

میرپور خاص میں امام بارگاہ مکھن شاہ پر مرکزی جلوس ختم ہوا۔

کشمور میں پیر فتح شاہ بخاری، جیکب آباد میں شیر شاہ حویلی اور گھوٹکی کا مرکزی جلوس پنجتنی امام بارگاہ پر اختتام پذیر ہوا۔

لاڑکانہ اور قمبر شہداد کوٹ میں یوم عاشور عقیدت و احترام سے منایا گیا۔

تھر پارکر میں امام بارگاہ شعیب ابی طالب پر مرکزی جلوس ختم ہوا۔

جام شورو، دادو، مٹیاری، سجاول، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہٰ یار، چمبڑ، سانگھڑ، خیرپور، نوشہرو فیروز، شکار پور اور عمر کوٹ میں یومِ عاشور کے موقع پر جلوس برآمد ہوئے۔

لاڑکانہ، دادو، میرپورخاص، بدین، کشمور اور شکارپور سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں جلوسوں کی گذرگاہوں پر سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے اور طبی کیمپ اور پانی کی سبیلیں لگائی گئی تھیں۔

پنجاب

صوبائی حکومت لاہور میں عاشورہ کا مرکزی جلوس نو محرم کی رات نثار حویلی سے برآمد ہوا جس کی سیکیورٹی کیلئے 10ہزار سے زائد پولیس اور رینجرز جوانوں کے علاوہ رضاکار بھی تعینات رہے۔ جلوس کے راستے کنٹینر اور رکاوٹیں لگا کر سیل کئےگئے، فضائی نگرانی بھی جاری رہی۔ جلوس کے راستے میں مارکیٹیں اور تجارتی مراکز بند، موبائل سروس معطل رہی۔

نماز ظہرین رنگ محل چوک پر ادا کی گئی جس کے بعد جلوس دوبارہ اپنی منزل کی جانب روانہ ہوا، جلوس کے راستوں پر جگہ جگہ عزاداروں کے لئے مشروبات کی سبیلیں لگائی گئیں۔ مرکزی جلوس میں شامل ہزاروں عزادار ماتم کرتے اور لبیک یا حسینؑ کی صدائیں بلند کرتے رہے۔ دسویں محرم الحرام کا مرکزی جلوس محلہ شیعاں، چوک نواب صاحب، مسجد وزیرخان، سنہری مسجد، رنگ محل، حکیماں والا بازار اور بھاٹی چوک سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔

دوسری جانب ماڈل ٹاؤن سی بلاک سے شبیہہ ذوالجناح کا جلوس برآمد ہوا، جو جامعہ المنتظر پہنچ کر ختم ہو گیا۔

ملتان میں یوم عاشور پر استاد اور شاگرد کے تاریخی تعزیے اپنے روایتی راستوں سے ہوتے ہوئے اختتام پزیر ہو گئے جبکہ ہیرا حیدریہ اور استانہ لعل کا مرکزی جلوس بھی کربلا میں حضرت شاہ شمس سبزواری کے مزار پر پہنچ کر ختم ہو گیا۔
ملتان میں امام بارگاہ حرا حیدری اور آستانہ لال شاہ سے برآمد ہونے والے مرکزی جلوس شاہ شمس کربلا پہنچ کر اختتام پذیر ہوگئے۔

فیصل آباد میں یوم عاشورکا مرکزی جلوس عزاخانہ شبیر دھوبی گھاٹ سے برآمد ہوا، ضلع بھر میں 153جلوس برآمد کئے گئے اور 26مجالس منعقد کی گئیں۔

جھنگ میں یوم عاشور کا مرکزی جلو س امام بارگاہ حسینیہ دربار گوہر شاہ، سرگودھا میں مرکزی جلوس کربلا منزل اور بہاول پور کا یوم عاشور کا جلوس درگاہ حضرت سید جلال سے برآمد ہوکر اسی مقام پر اختتام پذیر ہوا۔

گوجرانوالہ سے نکلنے والا مرکزی جلوس امام بارگاہ گلستان معرفت اور منڈی بہا الدین کامرکزی جلوس امام بارگاہ سجادیہ پہنچ کرختم ہوا، مظفرگڑھ میں ڈیڑھ سو سے زائد چھوٹے بڑے جلوس نکالے گئے ۔

خانیوال، شورکوٹ اور بھکر سمیت پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں میں بھی یوم عاشور پر سارا دن جلوس اور مجالس کا سلسلہ جاری رہا اور عزادارانِ حسین نے امام حسین اور اہلِ بیت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قربانی کو یاد کیا۔

راولپنڈی میں امام بارگاہ عاشق حسین سے برآمد ہونے والا یوم عاشور کا مرکزی جلوس امام بارگاہ قدیمی پہنچ کر ختم ہوگیا۔

راولپنڈی کا مرکزی جلوس امام بارگاہ عاشق حسین تیلی محلہ سے برآمد ہوا جو اقبال روڈ، عالم خان روڈ پہنچا جہاں سے امام بارگاہ کرنل مقبول حسین سے برآمد ہونے والا جلوس بھی اس میں شامل ہو گیا۔

مرکزی جلوس ٹرنک بازار سے فوارہ چوک، راجہ بازار،جامع مسجد روڈ سے ہوتا ہوا امام بارگاہ قدیمی پر اختتام پذیر ہوا۔

جلوسوں کے روٹس پرسیکیورٹی کیلئے پولیس، اسپیشل برانچ، لیڈی پولیس، رضاکاروں سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے فرائض انجام دیے۔

مختلف جلوسوں کے روٹس کی نگرانی کے لئے سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے تھے جبکہ روٹس کو خاردار تاروں اور قناتوں سے بند کیا گیا،مانیٹرنگ کیلئے کنٹرول رومز بھی قائم کئے گئے۔

جلوس کی فضائی نگرانی بھی کی گئی، بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ بھی جلوس کے ساتھ ساتھ متحرک رہا، سیکیورٹی کے پیش نظر ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کی گئی۔

خیبر پختونخوا

پشاور میں یوم عاشور کے سلسلے میں مختلف امام بارگاہوں سے چھوٹے بڑے بارہ جلوس برآمد ہوئے، یوم عاشور کا پہلا جلوس امام آغا سید علی شاہ رضوی سے گیارہ بجے برآمد ہوا، جلوس کے لیے سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے، جلوس میں شامل عزاداروں نے زنجیر زنی، نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کی، ذوالجناح کا ماتمی جلوس مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ آغا مصطفیٰ شاہ پہنچ کر اختتام پذیرہوا۔

یوم عاشور کا دوسرا جلوس امام بارگاہ علمدار کربلا سے ایک بجے برآمد ہوا، پشاور میں روز عاشور کے سلسلے کے چھوٹے بڑے بارہ جلوس مختلف امام بارگاہوں سے برآمد ہوئے، جلوسوں کی سیکورٹی کے لیے سخت انتظامات گئے۔ اندورن شہر کو مکمل طور پر سیل کیا گیا جبکہ جلوسوں کی گزرگاہوں پر سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کئے گئے۔

پولیس کی جانب سے خیبر پختونخوا کے پانچ اضلاع کوہاٹ ہنگو، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور پشاور کو حساس ترین جبکہ پارا چنار، مردان، ایبٹ آباد، ہری پور اور مانسہرہ کو حساس قرار دیا گیا۔ پشاور شہر سمیت حساس ترین اضلاع میں موبائل سروس معطل رہی، جلوسوں کی فضائی نگرانی بھی کی گئی، جلوس میں شامل ہونے والے عزاداروں کو سخت چیکنگ کے بعد اندرون شہر داخل ہونے کی اجازت دی گئی جبکہ جلوسوں کی گزرگاہوں کو بم ڈسپوزل اسکواڈ اور سراغ رساں کتوں کی مدد سے کلئیر کیا گیا، پشاور میں جلوسوں کی سیکورٹی کے لیے نو ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے۔جلوس پر امن طور پر اختتام پذیر ہو گئے۔

بنوں میں مرکزی جلوس امام بارگاہ حسنیہ سے برآمد ہو کر واپس اسی امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوا، جلوس کی سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے بنوں شہر میں کرفیو لگایا گیا تھا۔

ہنگو میں یوم عاشور پر امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا، پارہ چنار میں علم و ذوالجناح کا جلوس برآمد ہوا۔

نوشہرہ، مردان، اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی جلوس برآمد ہوئے، مانسہرہ میں یوم عاشور کےچھوٹے بڑے 12 جلوس نکالے گئے، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

بلوچستان

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں قافلہ حسینی کی عظیم قربانی کی یاد میں یوم عاشورہ کا مرکزی جلوس صبح آٹھ بجے علمدار روڈ پنجابی امام بارگاہ سے برآمد ہوا، جلوس علمدار روڈ، طوغی روڈ، لیاقت بازار، پرنس روڈ اور میکانگی روڈ سے ہوتا ہوا دوبارہ علمدار روڈ پہنچ کر اختتام پزیر ہوا۔

جلوس کے شرکا ءمختلف راستوں سے ہوتے ہوئے میزان چوک پہنچےجہاں نماز ظہرین ادا کی گئی، علمائے کرام نے واقعہ کربلا اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی لازوال قربانی پر روشنی ڈالی۔

بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی یوم عاشور کے موقع پر ماتمی جلوس برآمد ہوئے، خضدار میں مرکزی جلوس امام بارگاہ حسینی سے برآمد ہوا،حب میں مرکزی جلوس امام بارگاہ بخاری کرم کالونی اور سبی کا مرکزی جلوس امام باگارہ حسینیہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔

جعفرآباد میں امام بارگاہ بتول اور ڈیرہ مراد جمالی میں امام بارگاہ بدرالدین سے عاشورہ کے جلوس نکالے گئے، عزاداران حسین کے لیے جگہ جگہ پانی دودھ اور شربت کی سبیلیں لگائی گئیں اور لنگر تقسیم کیا گیا۔

گلگت بلتستان

گلگت میں امامیہ جامع مسجد سے نکلنے والا مرکزی جلوس مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا اسی مقام پر اختتام پذیر ہوا، ضلع استور میں مرکزی مسجد سے عیدگاہ تک یوم عاشور کا جلوس برآمد ہوا۔

ہنزہ میں دسویں محرم الحرام کا جلوس علی مسجد پہنچ کر اختتام پذیر ہوگیا، اسکردو میں ماتمی جلوس حسینی چوک سے نکالا گیا، بعد میں تمام ماتمی جلوس اپنی اپنی امام بارگاہ پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوگئے۔

استور میں برآمد ہونے والا جلوس امام بارگاہ انجمن امامیہ عیدگاہ اور ہنزہ میں مسجد علی آباد پہنچ کر ختم ہوا۔

اسکردو، گانچھے، کھرمنگ اور شگر میں بھی جلوس برآمد ہوئے، اسکردو میں علم اور ذوالجناح کے جلوس قتل گاہ شریف پہنچ کر اختتام پذیر ہوئے اور امامیہ جامع مسجد میں مرکزی مجلسِ شام غریباں بپا کی گئی۔

آزاد کشمیر

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں علم اور ذوالجناح کا مرکزی جلوس امام بارگاہ پیر علم شاہ بخاری سے برآمد ہوا اور اسی مقام پر واپس پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔

میرپور میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس امام بارگاہ بیت الحزن سے برآمد ہوا اور اسی مقام پر اختتام پذیر ہوا۔

کوٹلی، بھمبر اور پلندری سمیت آزاد کشمیر کے چھوٹے بڑے تمام شہروں میں شہدائے کربلا کی یاد میں جلوس برآمد کیے گئے، اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں