56

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن سے استعفیٰ لے لیا

واشنگٹن (ڈیلی اردو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو برطرف کردیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جان بولٹن سے کل استعفیٰ مانگا تھا، جو آج صبح موصول ہوگیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جان بولٹن کو کل ہی کہہ دیا تھا کہ وائٹ ہائوس کو ان کے خدمات کی اب ضرورت نہیں۔

تفصیلات کے مطابق وائٹ ہاؤس میں بڑی تبدیلی آئی ہے، جان بولٹن اب امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر نہیں‌ رہے۔

اس ضمن میں امریکی صدر نے اپنے ٹویٹ میں تفصیلات فراہم کی ہیں۔ انھوں نے لکھا کہ میں‌ نے گزشتہ رات جان بولٹن کو آگاہ کیا تھا کہ وائٹ ہاؤس کو اب ان کی خدمات درکار نہیں کیوں۔

ٹرمپ کو کہنا تھا کہ مجھے جان بولٹن کی بہت ساری تجاویز سے اختلاف تھا، میں نے گزشتہ روز جان بولٹن سے استعفیٰ طلب کیا تھا جو آج صبح مجھے مل گیا۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ مجھے جان بولٹن کی بیشتر تجاویز سے شدید اختلاف تھا، نئے قومی سلامتی مشیر کا اعلان آئندہ ہفتے کروں گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کا ان کی خدمات پر شکریہ ادا کیا۔

ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کو مشورے دینے والی قومی سلامتی کونسل بولٹن کے ماتحت وائٹ ہاؤس کے اندر ایک الگ ادارہ بن گئی تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سابق سینیئر عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ (بولٹن) باقی وائٹ ہاؤس سے الگ سے کام کرتے تھے۔‘

حکام کے مطابق بولٹن اجلاسوں میں شریک نہیں ہوتے تھے اور وہ صرف اپنے اقدامات پر عمل کرتے تھے۔ حکام کے مطابق ’وہ اپنی حکومت خود چلا رہے تھے۔‘

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ’بولٹن کی اپنی ترجیحات ہیں۔ انھوں نے صدر سے پوچھا نہیں کہ ‘آپ کی ترجیحات کیا ہیں؟’ وہ بولٹن کی ترجیحات تھیں۔‘

جان بولٹن نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی مخالفت کی تھی، جنھیں صدر ٹرمپ نے امریکہ میں امن مذاکرات کی دعوت دینے کے بعد مذاکرات کی منسوخی کا اعلان کر دیا تھا۔

صدر ٹرمپ کی پالیسی خاص طور پر اس وجہ سے تنقید کی وجہ بنی کیونکہ ان کو ایسے وقت میں مذاکرات کی دعوت کے لیے امریکہ بلایا جا رہا تھا جب 11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی برسی قریب ہے جو طالبان کے حلیف گروہ القاعدہ نے کیے تھے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر نے جان کو 23 مارچ 2018 کو قومی سلامتی کا مشیر بنایا تھا۔ وہ اس سے قبل اقوام متحدہ میں امریکی سفیر رہ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ میں بطور سفیر جان بولٹن روس کے خلاف سخت موقف رکھنے اور ایران اور شمالی کوریا کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے حامی تھے۔ وہ اپنے جارحانہ اور سخت گیر رویے کی وجہ سے قدامت پسند شخص کے طور پر شہرت رکھتے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں