76

سانحہ نائن الیون کو 18 سال بیت گئے

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) دہشت گردی کی اس کارروائی میں امریکی ایئرلائن کے 2 مسافر طیارے 18 منٹ کے وقفے سے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاور سے ٹکرائے جس کے نتیجے میں تقریباً 3 ہزار کے قریب افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی کی کوشش کے دوران 343 فائر فائٹرز، نیویارک پولیس کے 23 افسران اور پورٹ اتھارٹی کے 37 افسران بھی شامل ہیں۔

11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر واحد نہیں تھا جو دہشت گردوں کا نشانہ بنا ، اس کاررووائی میں 19 لوگ شامل تھے جن کا تعلق عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تھا، 4 مسافر طیارے 3 طے شدہ اہداف کے ساتھ امریکا کے مختلف ہوائی اڈوں سے روانہ ہوئے تھے جن میں سے 2 طیارے نیویارک کی عمارتوں سے ٹکرائے تھے۔

تین طیاروں نے نیو یارک کی دو مشہور عمارتوں کو نشانہ بنایا ،دو طیاروں کا ہدف ورلڈ ٹریڈ تھا جبکہ ایک نے امریکا کے شعبۂ دفاع کے صدر دفتر پنٹاگون پر حملہ کیا جس میں 189 افراد جان سے گئے۔ اسی دوران پنسلوانیا میں طیارہ گر کر تباہ ہونے سے 44 افراد ہلاک ہوئے۔

ان حملوں میں کئی سبق ہیں جو نا صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کے لئے سبق آموز ہیں ۔

اس دہشت گردانہ حملے سے یہ بات کھل کر سامنے آ گئی تھی کہ سیکیورٹی کے لحاظ سے دنیا کا مضبوط ترین ملک بھی دہشت گردی کا نشانہ بن سکتا ہے۔

القاعدہ کیبے باک اور پیچیدہ ترین منصوبہ بندی نے دنیا کے تمام تر ممالک کی سلامتی کو چیلنج کرتے ہوئے اُن کی سیکیورٹی کی کمزوری کو بے نقاب کردیا تھا۔

اس حملے کے بعد یہ بات بھی سانے آئی کہ امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک کی سیکیورٹی سے بھی بھو ل چوک ہو سکتی ہے، کسی بھی چھو ٹے سے چھوٹے یا بڑے دہشت گردی کے واقعات سے بچنے کے لیے پولیس کی کارکردگی سمیت ملک کے دوسرے سیکیورٹی اداروں کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔

اس حملے کے کچھ دنوں بعد ہی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں سیکیورٹی اہلکاروں کو ہائی جیکرز کی اسکریننگ کرتے ہوئے دیکھا گیا ، ان میں سے 2 ہائی جیکرز انسداد دہشت گردی کی واچ لسٹ میں شامل تھے اور ایک شخص کے پاس فوٹو آئی ڈی یعنی مکمل سیکیورٹی کلیرنس نہیں تھا۔ پھر بھی ان سب کو طیارے میں سوار ہونے کی منظوری دی گئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق نائن الیون کے واقعے سے کچھ مہینے پہلے ہی امریکی انٹیلی جنس سی آئی اے نے حملوں سے متعلق امریکی صدر جارج بش کی قومی سلامتی کے مشیر کونڈولیزا رائس کو اپنی رپورٹ بھجوا دی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ القاعدہ کی جانب سےمستقبل قریب میں امریکا میں متعدداور بڑے پیمانے پر حملوں کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی۔

وائٹ ہاؤس میں بھی ایسی ہی وارننگ رپورٹس موصول ہو ئیں تھی لیکن سرکاری ایجنسیوں نے ان رپورٹس کو معمولی اطلاعات سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا جو امریکا کے لیے بڑی تباہی کا سبب بنی۔

اس سے یہ سبق سیکھا گیا کہ کسی بھی ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیز اور دیگر فورسز جتنی بھی رپورٹس دیتی ہیں انہیں نظر ا نداز نہیں کیا جا نا چاہئے ۔

دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کا آپس میں براہِ راست تعلق ہے، امریکا میں ہونے والے ان دہشت گردانہ حملوں سے پہلے ایک اور چیز نظر انداز کی گئی اور وہ تھی حملوں سے پہلے ہونے والی بین الاقوامی ایجنسیوں کے ذریعے بھاری بھرکم پیسوں کی ٹرانزکشنز جسے حکام نے نظرانداز کیا۔

نائن الیون حملوں کی تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا تھاکہ بیرون ملک سے طیاروں کو اغوا کرنے والے دہشت گردوں کو پیسہ بھیجا گیا تھا۔ ہائی جیکرز نے حملوں سے صرف 3 دن قبل 4 بڑی ٹرانزکشن کے ذریعے متحدہ عرب امارات کے اکاؤنٹس میں رقم منتقل کیں۔

چاروں ادائیگیاں ویسٹرن یونین کے ذریعے کی گئی تھی لیکن کمپنی یا سیکیورٹی ایجنسیاں ان پیسوں کی منتقلی کے ذریعے اس سانحہ سے بچنے میں ناکام رہیں۔

ایجنسیاں اب زیادہ چوکس ہوگئی ہیں اور بیشتر ممالک میں منی لانڈرنگ کے قوانین سخت کردیئے گئے ہیں مگر ابھی بھی منی لانڈرنگ کے لیے کچھ نیٹ ورک کام کر رہے ہیں اور وہ مستقبل میں ہونے والی کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لیے خطرہ ہیں جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔

کسی بھی ملک میں سیاسی عدم استحکام نے بھی دہشت گرد ی کو جنم دیاہے ، امریکا ان حملوں سے پہلے سیاسی طور پر غیر مستحکم چل رہا تھا جس کے نتیجے میں دہشت گرد 2,977 افراد کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

2000ء میں امریکامیں سیاسی لڑائی کئی دہائیوں سے نظرانداز کی جا رہی تھی ، امریکا کے صدارتی انتخابات 2011ء میں ہوئے تھےمگر 41 دن تک الیکشن کے نتائج میں غیر یقینی صورتحال اور 10 ماہ تک سرکاری مشینری کا غیر فعال رہنا دہشت گردی کے لیے کامیابی کا سبب بنا۔

ہمیں اس دہشتگردانہ حملوں سے یہ بھی سبق سیکھنا چاہیے کہ دنیا کا ہر ایک ملک حالت جنگ میں ہے ، دہشت گردی کے خلاف جنگ ختم نہیں ہوئی ہے۔

امریکا مشرق وسطی اور افغانستان میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے اور گروہوں کو ختم کرنے کے لیے آج بھی جنگ لڑ رہا ہے۔

گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے مطابق 2017ء میں 77 ممالک میں دہشت گردی کی کارروائیاں کی گئیں اور آج سے صرف 5 سال پہلے 2014 ء میں 106 ممالک دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں