82

افغانستان: ہلمند میں شادی کی تقریب پر افغان جنگی طیاروں کی بمباری، 40 شہری شہید

کابل (ڈیلی اردو) افغانستان کے صوبہ ہلمند میں پیر کو افغان فضائیہ کی ایک کارروائی کے دوران 40 شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق افغان لڑاکا طیاروں نے صوبہ ہلمند کے ضلع موسیٰ قلعہ کے خاکسر علاقے میں شادی کی تقریب پر وحشیانہ بمباری کی ہے جس میں خواتین اور بچوں سمیت 40 افراد شہید اور 20 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ہلمند صوبے کے دو عہدے داروں نے بتایا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز نے اتوار کی رات طالبان دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا۔ سکیورٹی فورسز کے حملے میں 35 شہری شہید جب کہ 13 زخمی بھی ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے طالبان کے خودکش بمباروں کے ایک تربیتی مرکز پر حملہ کیا تھا۔ تاہم طالبان کے ٹریننگ سینٹر سے متصل ایک شادی کی تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا تھا، جو حملے کی زد میں آگئی۔

ہلمند کی صوبائی کونسل کے رکن عطااللہ افغان نے بتایا ہے کہ ضلع موسیٰ قلعہ کے علاقے خاکسر میں سکیورٹی فورسز کے حملے میں ایک شادی کی تقریب نشانہ بن گئی۔ شادی کی تقریب میں آئے 35 مہمان شہید اور 13 زخمی ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب ایک اور صوبائی کونسل کے رکن عبدالماجد اخونزادہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں 40 افراد شہید ہوئے ہیں۔

ادھر معروف افغان صحافی بلال سروری نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں عورتوں اور بچوں سمیت 70 سے زائد افراد شہید ہو گئے ہیں۔

افغانستان کی وزارتِ دفاع نے اس واقعے سے متعلق بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہلمند کے ضلع موسیٰ قلعہ میں فورسز نے ایک مشترکہ آپریشن کیا ہے جس میں 22 طالبان دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔

وزارتِ دفاع کے مطابق کارروائی میں 14 طالبان کو گرفتار بھی کیا گیا ہے جن میں 5 پاکستانی شہری اور ایک بنگلہ دیش کا شہری بھی شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تربیت گاہ غیر ملکی شدّت پسندوں کے زیرِ استعمال تھی۔

حملے کے دوران شہریوں کی شہادت کی خبروں کی وزارتِ دفاع نے تصدیق یا تردید نہیں کی۔ البتہ وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ وہ شہریوں کی شہادت کی اطلاعات پر تحقیقات کریں گے۔

دوسری جانب واقعے سے متعلق طالبان کا کہنا ہے امریکی فورسز کی معاونت کے ساتھ افغان سکیورٹی فورسز نے اتوار کی رات کو ایک فضائی حملہ کیا ہے۔ یہ حملہ موسیٰ قلعہ میں طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جاری جھڑپوں کے تناظر میں کیا گیا۔

طالبان نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ افغان فورسز کے حملے اور جھڑپوں میں متعدد شہریوں کے علاوہ 18 سکیورٹی اہلکار بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ بدھ کو افغانستان کے صوبے ننگر ہار میں امریکی فوج نے ایک ڈرون حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں بھی 30 مزدور شہید اور 40 سے زائد مزدور اور کسان زخمی ہوگئے تھے۔

افغانستان کی وزارتِ دفاع اور افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے ایک ترجمان سونی لیگٹ نے علاقے میں ڈرون حملے کی تصدیق کی تھی۔ لیکن، اس میں شہریوں کی شہادت کی تعداد نہیں بتائی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں