104

ریاستی اداروں سے تصادم نہیں چاہتے: مولانا فضل الرحمٰن

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے واضح کیا ہے کہ ہم ریاستی اداروں سے تضادم نہیں چاہتے تاہم اگر حکومت نے آزادی مارچ میں تشدد کا راستہ اختیار کیا، آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں بدلہ لینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں،کوئی ادارہ ہم سے ہمارا حق نہ چھینے، ووٹ چوری کرکے جبراً مسلط ہونے کا کوئی حق نہیں، پاکستان میں صرف دو لوگ ملازمت کے لیے آئے، ایک اسٹیٹ بینک کا گورنر اور ایف بی آر کا چیئرمین، دونوں آئی ایم ایف کے نمائندے ہیں، اسی لیے ہمیں تحفظات ہیں، پوری قوم ناجائز اور نااہل حکومت کو چلتا کرنے کیلئے تیار ہے، 27 اکتوبر سے دور دراز علاقوں میں اسلام آباد کیلئے مارچ شروع ہو جائیگا،31 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت میں مارچ داخل ہوگا۔

ہفتہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پوری قوم ناجائز اور نااہل حکومت کو چلتا کرنے کیلئے تیار ہے،پوری قوم آزادی مارچ میں شامل ہونے کیلئے پر عزم ہے۔ انہوں نے کہاکہ ستائس اکتوبر سے اسلام آباد کیلئے مارچ شروع ہوجائے گا، 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں مارچ داخل ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ تمام اپوزیشن کی جماعتوں شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کا مارچ میں شامل ہونے کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ بہت کم ہوا ہے قومی سطح پر حکومت کے خلاف یکجہتی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی ادارہ سے محاز آرائی کے بغیر پرامن مارچ کرینگے، اداروں سے تصادم نہیں چاہیں گے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت عقل کے ناخن لے، حکومت نے تشدد کا راستہ اختیار کیا، آئینی قانونی حق چھینا تو انتقام لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حق چھینا گیا تو آج نہیں تو کل انتقام لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ادارہ ہم سے ہمارا حق نہ چھینے، ووٹ چوری کرکے جبراً مسلط ہونے کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے دن سے ان کا حق حکمرانی تسلیم نہیں کیا، ان کو مستعفی ہونا ہوگا۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پوری تاجر برادری اس وقت احتجاج پر ہے،پاکستان کی تاریخ کی تاجروں کی ہڑتال جاری ہے، حالات ملک کو ہڑتالوں کی طرف لیجایا جارہا ہے، کہا جارہا تھا کہ لوگ باہر سے نوکری کرنے پاکستان آئیں گے لیکن صرف دو بندے نوکریاں کرنے پاکستان آئے ہیں، ایک چیئرمین ایف بی آر اور دوسرا گورنر سٹیٹ بنک، ہمیں ان دونوں کی تعیناتی پر اعتراض ہے۔ انہوں نے کہاکہ جو لوگ دہری شہریت رکھتے ہیں اور عالمی اداروں کے ملازم ہیں، پہلے تو یہ طے کرنا ہوگا کہ ان کی نظر میں پاکستان کا مفاد اول ہے یا نہیں، ملکی مفاد پر سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے کہاکہ عوام کو کوئی پرسان حال نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک کروڑ نوکریاں کیا دی گئیں 15 لاکھ لوگوں کو بیروزگار کیا گیا، نااہلی کیوجہ سے معیشت گرگئی تاجر ہڑتالوں پر ہے۔ انہوں نے کہاکہ تاریخ کی کامیاب ہڑتال تاجروں نے کی، تاجروں کے جائز مطالبات نہیں مانے جارہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی ناکام ہے،ہم امریکہ کا اعتماد نہیں حاصل کر پائے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے دوست ممالک نے ہمیں ووٹ نہیں دیا، انڈیا کو آرٹیکل 370 ہٹانے سے روکنے کیلئے کوئی سفارتکاری نہیں کی۔

مولانا فضل الرحمن نے عمران خان کو ریجکٹڈ وزیراعظم کہہ دیا اور کہا کہ عمران خان کشمیر فروش ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان چین سے مایوس ہوکر واپس آیا ہے، 20 منٹ کا وقت ترلے کرکے لیا گیا، سی پیک اتھارٹی متنازعہ ہے آرڈیننس کے تحت مسلط کیا گیا۔

سی پیک اتھارٹی کا متازعہ فیصلہ سے چین جیسے ملک کا اعتماد توڑا ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت سے مذاکرات کیلئے کوئی پیشکش نہیں ہوئی، حکومت پھنستی جارہی ہے۔ ایک سوال پر مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اپوزیشن آزادی مارچ پر تقسیم نہیں ہے، عوام حقیقی انداز میں آئے گی اس لئے ایوانوں میں ہلچل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کہا گیا کنٹینر دینگے اب کہتے ہیں سڑکوں سے نہیں گزرنے دینگے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سعودی سفیر سے ملاقات معمول کی تھی، حرمین شریفین کے تحفظ میں سعودی عرب کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی سفیر سے ملاقات کو جس انداز میں پیش کیا گیا وہ غلط ہے،آزادی مارچ ختم کرنے حوالے سے کوئی تجویز ہے تو سامنے لائی جائے پھر غور کرینگے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ مڈلٹن کی پاکستان آمد پر کوئی اعتراض نہیں لیکن برطانیہ نے کئی دہائی ہمیں غلام بنائے رکھا جس پر وہ معافی مانگیں۔

دوران پریس کانفرنس انہوں نے رپورٹر کو مخاطب کر کے کہا کہ یہ احتجاج تو آپ کو کرنا چاہیے، پریس کانفرنس نشر نہ کرنے کا مراسلہ آپ کو ملا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں