88

مقتول نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان انتقال کر گئے

پشاور (ڈیلی اردو) کراچی میں جعلی پولیس مقابلے کے دوران قتل کئے گئے جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان وفات پاگئے۔

خاندانی ذرائع کے مطابق نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان موذی مرض کینسر میں مبتلا تھے محمد خان گزشتہ کچھ عرصہ سے راولپنڈی میں زیر علاج تھے جہاں وہ خالق حقیقی سے جاملے۔

ذرائع کے مطابق محمد خان کو ضلع شمالی وزیرستان کے ابائی علاقہ مکین میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ جنوری 2018 میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ کو ایس ایس پی راؤ انوار کی جانب سے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا۔

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ شاہ لطیف ٹاؤن کے عثمان خاص خیلی گوٹھ میں مقابلے کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے ہیں، جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا۔

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے اس وقت الزام لگایا گیا تھا کہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے افراد دہشت گردی کے بڑے واقعات میں ملوث تھے اور ان کے لشکر جنگھوی اور عسکریت پسند گروپ داعش سے تعلقات تھے۔

اس واقعے کے بعد نقیب اللہ کے ایک قریبی عزیز نے پولیس افسر کے اس متنازع بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مقتول حقیقت میں ایک دکان کا مالک تھا اور اسے ماڈلنگ کا شوق تھا۔

نقیب اللہ کے قریبی عزیز نے بتایا تھا کہ جنوری میں نقیب اللہ کو سہراب گوٹھ پر واقع کپڑوں کی دکان سے سادہ لباس افراد مبینہ طور پر اٹھا کر لے گئے تھے جبکہ 13 جنوری کو پتہ چلا تھا کہ اسے مقابلے میں قتل کردیا گیا۔

بعد ازاں اس واقعے پر احتجاج کے بعد راؤ انوار کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے بھی اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا اور تمام خفیہ اداروں کو پولیس سے تعاون کرنے کا حکم دیا تھا۔ خیال رہے کہ نقیب اللہ قتل کیس ابھی بھی عدالت میں زیرسماعت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں