572

جاسوسی کے الزام میں گرفتار فوجی افسران کون ہیں، جو آپ پہلے نہیں جانتے ہوں گے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان خبروں کی تصدیق کی ہے اور کہ پاک فوج کے دو سینیئر افسران کو جاسوسی کے الزام میں زیرحراست ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاک فوج ترجمان میجر جنرل آصف غفور سے ایک سوال کیا گیا کہ 2 سینئر افسران زیر حراست ساتھ ہی ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں خبریں آئیں کہ فوج کے 2 سینئر افسران زیر حراست (گرفتار) ہیں تو کیا یہ درست ہے، جس پر میجر جنرل آصف غفور نے جواب دیا کہ 2 سینئر افسران جاسوسی کے الزام میں فوج کی حراست میں ہیں اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان کا فیلڈ کورٹ مارشل کا حکم دیا ہے جو جاری ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ گرفتار ہونے والے افسران کسی نیٹ ورک کا حصہ نہیں ہیں اور یہ دونوں انفرادی کیسز ہیں۔ فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ دونوں افسران کا مقدمہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں چل رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اعلیٰ افسران کی نشاندہی اور گرفتاری پاکستان کی کامیابی ہے کیونکہ ایسے معاملات ہوتے رہتے ہیں۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ دونوں الگ الگ کیسز ہیں، ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ہماری کامیابی ہے کہ ہم نے ان کی نشاندہی کی اور انہیں پکڑا۔

یہ چیزیں ہوتی ہیں جب کورٹ مارشل ختم ہوگا میڈیا کو اس سے آگاہ کیا جائے گا۔

ذرائع کا دعوی ہے کہ فوجی ترجمان نے ان گرفتاریوں کو کامیابی اس لیے قرار دیا کہ گرفتار افسران کے میں سے ایک کا رینک لیفٹیننٹ جنرل اور دوسرا کا رینک بریگیڈیئر ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل کا نام جاوید اقبال اعوان بتایا جاتا ہے جبکہ بریگیڈیئر کا نام راجہ رضوان علی حیدر بتایا جاتا ہے۔ تاہم سرکاری ذرائع سے ان ناموں کی تصدیق یا تردید نہ ہو سکی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بریگیڈیئر جرمنی میں قائم پاکستانی سفارت خانے میں بطور ملٹری اتاشی بھی رہ چکے ہیں جبکہ دوسرے کور کمانڈر اور ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے سطح تک جا پہنچے تھے۔

پاکستان کے خفیہ ادارے ان دونوں افسران کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات تک پہنچنے اور انکو گرفتار کر لیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج انکی گرفتاریوں کو بہت اہم کامیابی سمجھتے ہیں۔

خیال رہے کہ مئی 2011 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے قریب صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں عالمی سطح پر مطلوب القائدہ تنظیم کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور امریکی آپریشن کے بعد پاک فوج نے ایسے تمام ملک دشمن عناصر کی سنجیدگی سے تلاش شروع کر دی تھی جو جاسوسی کے ذریعے ملکی مفاد کے خلاف کام کر رہے تھے۔

خیال رہے کہ اسامہ بن لادن کی معلومات امریکیوں کو فراہم کرنے والے ایک افسر اس دوران اہل خانہ کے ہمراہ امریکہ چلے گئے تھے جس کا ذکر جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی فوج کے ایک ریٹائرڈ افسر کے فیملی نے انکے لاپتہ ہونے پر اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ عدالت کو وزارت دفاع کے وکیل نے بتایا تھا کہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ راجہ رضوان علی حیدر 10 اکتوبر 2018 کو اسلام آباد کے سیکٹر جی 10 سے اغوا کیے گئے۔

وزارت دفاع نے بعد ازاں کو عدالت کو جواب میں بتایا تھا کہ بریگیڈیئر راجہ رضوان فوج کی تحویل میں ہیں اور ان کیخلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق مبینہ طورپر دو آفیسرز ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال اعوان اور ریٹائرڈ بریگیڈئیر راجہ رضوان علی حیدر ہیں۔

جنرل جاوید اقبال اعوان کا تعلق پنجاب کے ضلع چکوال سے ہے وہ کورکمانڈر، کمانڈنڈنٹ سٹاف کالج، ڈی جی ملٹری اپریشنز، کمانڈنٹ ایف سی، ڈی جی سوات اپریشن اور سب سے خطرناک بات وہ یہ ہے کہ آمی چیف کے لئے دی گئی لسٹ میں بھی شامل تھے۔

بریگیڈئیر راجہ رضوان علی کا تعلق صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کے علاقے خانپور سے ہے۔ وہ جرمنی میں ڈیفینس اتاشی رہ چکے ہیں۔

یاد رہے کہ 2012 میں سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دور میں بھی بریگیڈیئر علی سمیت 6 افسران جن میں کرنل اور میجر شامل تھے، کو گرفتار کر کے کورٹ مارشل کیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے کالعدم تنظیموں کے ساتھ رابطے رکھے۔

جن دیگر افراد کو بریگیڈیئر علی خان کا شریک جرم قرار دیا گیا تھا ان میں میجر سہیل اکبر کو تین برس، میجر جواد بصیر کو دو برس، میجر عنایت عزیز اور میجر افتخار کو ڈیڑھ برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔

بریگیڈئیر علی خان کو 5 مئی 2012 کو راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ بر یگیڈئیر علی پر اعلی فوجی قیادت کو قتل کرنے، سیاسی حکومت کا تختہ الٹنے اور کالعدم تنظیم حزب التحریر کے ساتھ روابط رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

ان کے خلاف فوج کے ایک میجر جنرل کی قیادت میں دسمبر 2012 میں سیالکوٹ میں شروع ہونے والی کورٹ مارشل کی کارروائی قریباً 6 ماہ جاری رہنے کے بعد 20 جون 2012 کو راولپنڈی میں اختتام پذیر ہوئی تھی۔

بریگیڈیئر علی سے تمام مراعات واپس لی گئیں اور وہ اپنی سزا مکمل کرنے کے بعد رہا ہو چکے ہیں۔

پاک فوج کے ترجمان نے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈی جی اسد درانی کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ ان کے خلاف ہونے والی تحقیقات فوجی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سے متعلق تھی۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ تحقیقات میں اسد درانی فوجی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے، وہ ایک سینئر افسر تھے اور جس طریقے سے انہوں نے کتاب لکھی اس میں طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا، جس پر ان کے خلاف ہونی والی تحقیقات کے بعد ان کی پینشن اور مراعات کو روک دیا گیا ہے۔

آصف غفور کا کہنا تھا کہ لیفٹننٹ جنرل (ر) اسد درانی کو فوجی افسروں کو ملنی والی پینشن اور مراعات نہیں ملیں گی جبکہ ان کا نام ای سی ایل میں ہے اور اس فہرست میں ان کا نام برقرار رکھنے کے لیے وزارت داخلہ سے بات کریں گے، تاہم ان کا رینک برقرار رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں