153

ہم اتنے سنگ دل کیوں ہوگئے ہیں…! (میر افضل خان طوری)

پاکستانیوں کی اکثریت مذہب، عقیدے، مسلک، زبان اور علاقے کی بنیاد پر ایک دوسرے کے قتل کا جواز فراہم کرنے کی مذموم کوشش کرتی ہے۔ ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ریاست کے اندر یہ کونسے لوگ ہوتے ہیں جو ملک کا قانون ہاتھ میں لے کر جب چاہیں اختلاف رکھنے والے کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ اسی بنیاد پر علماء کرام، وکلاء، ڈاکٹرز، انجنیئرز، سرکاری عہدایداران، سیاست دان، اکانومسٹ، ادیب، شاعر اور صحافیوں کا قتل عام جاری ہے۔ ہم ہر قتل کو اسی شخص کی ذات، مسلک، عقیدے، مذہب اور زبان کی بناء پر جسٹفائی کرنے کی ناکام کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اگر کوئی بہت بڑا شیعہ مسلمان قتل ہو جاتا ہے تو ہمارے منہ اس سفاک قاتل کیخلاف بند ہوجاتے ہیں۔ ہم یہ سوچ کر خود کو تسلی دیتے ہیں کہ چلو اچھا ہوا ایک گستاخ صحابہ تو کم ہوگیا۔ اگر کوئی سنی مسلمان ظالم کی گولیوں کا نشانہ بنتا ہے تو ہم خوشی سے پھولے نہیں سماتے کیوں ہمیں ان کا انتہا پسندانہ رویہ یاد آجاتا ہے اور ہم اس کے قتل کا اپنے دل میں یہ جواز فراہم کرتے ہیں کہ بہت اچھا ہوا۔ ایک دشمن آل محمد(ص) تو کم ہوگیا۔ اگر کوئی پشتون اور بلوچ قتل ہو جا تا ہے تو ہم فوری طور پر اس کو ملک، ریاست اور اداروں سے دشمنی کا نتیجہ قرار دے دیتے ہیں۔ یہ کہ کر اپنے ضمیر کو مطمعن کر دیتے ہیں کہ چلو آج ملک سے ایک ملک دشمن تو کم ہوگیا۔ اگر کہیں سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ اور دھماکے ہوتے ہیں تو ہم انکی موت کو انکے ادارے کے کرتوتوں کا شاخسانہ قرار دے دیتے ہیں۔

ہم یہ سوچ کر خوش ہوجاتے ہیں کہ جس نے بھی ان کو مارا ہوگا، انکے ساتھ سیکیورٹی اداروں نے ضرور کوئی زیادتی کی ہوگی۔

بحیثیت ایک زندہ قوم ہم نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ آخر وہ کونسی قوت ہے جو اس ملک کا قانون ہاتھ میں لے کر جس کو چاہتی ہے قتل کر دیتی ہے۔ وہ کونسی قوت ہے جو اس ملک میں بدترین خون ریزی اور فساد پرپا کر رہی ہے۔ اس کو کس نے یہ حق دیا ہے کہ وہ مذہب، عقیدے، مسلک اور زبان کے بنیاد پر لوگوں کو جینے کے حق سے محروم کر دے۔ مگر افسوس کہ ہم ان سوالات کا جواب ڈھونڈنے اور قاتل کا سراغ لگانے کی بجائے اپنےاپنے عقیدے کے بنیاد پر اس قتل کا جواز فراہم کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

اگر ہم مل کر ہر قتل پر اپنی آواز بلند کرتے اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے ایک ہوجاتے تو آج ہمارے گلیاں، محلے اور بازار اتنے غیر محفوظ نہ ہوتے۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں