192

ریاست کا مذہب یا مفادات! (ساجد خان)

پاکستان میں سیاسی اور ذاتی مفادات کے لئے مذہب کے استعمال کی بنیاد تو اس وقت ہی رکھ دی گئی تھی، جب پاکستان بنانے کی تحریک کا آغاز کیا گیا خواہ پاکستان بنانے کے حق میں تحریک تھی یا مخالف، پاکستان کو کافرستان اور قائد اعظم کو کافر اعظم کہنا بھی اسی سلسلہ کی کڑیاں تھیں لیکن اس مذہب کارڈ کو عروج ڈکٹیٹر ضیاءالحق کے دور میں ملا کہ جس نے مذہب کو اپنے اقتدار کی طوالت کا وسیلہ بنائے رکھا۔

ضیاءالحق اس دنیا سے چلا گیا مگر مذہب کارڈ کا استعمال نا رک سکا، یہاں تک کہ عالمی سیاست اور سفارت کاری میں بھی اس کا اثر نمایاں نظر آنے لگا حالانکہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا بلکہ صرف مفادات ہوتے ہیں،ریاستوں کی پالیسیاں مفادات کو مدنظر رکھ کر بنتی اور تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔

اس کی تازہ مثال سعودی عرب ہے کہ جہاں کے حکمران خاندان کو جب تک محسوس ہوا کہ ہمارے اقتدار کی بقاء مذہب کے استعمال میں ہے تو انہوں نے وہابی عقائد کے پرچار کے لئے اربوں ڈالر خرچ کئے، دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جہاں سعودی عرب نے حکومتی اخراجات پر مساجد بنا کر اپنے عقائد کے علماء کو برآمد نا کیا ہو،اس مہم کا سب سے زیادہ اثر پاکستان پر ہوا اور اس کی دو وجوہات تھیں۔ اول اسی کی دہائی میں افغانستان میں سویت یونین کے خلاف جہاد کے نام پر امریکی جنگ اور دوم ایران کا پڑوسی ملک ہونا، ان دو وجوہات کی بنا پر سعودی عرب نے پانی کی طرح پیسہ بہایا لیکن جوں ہی آل سعود خاندان کو احساس ہوا کہ مذہبی شدت پسندی سے ان کے اقتدار کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے تو انہوں نے فوراً ہی لبرل بننے کا فیصلہ کر لیا۔ آج سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار سینما گھر قائم ہو چکے ہیں جہاں خواتین کو بھی جانے کی اجازت ہے، خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت بھی مل چکی ہے جبکہ اب خواتین بنا محرم کے سفر بھی کر سکتی ہیں، ریسلنگ کے عالمی مقابلے منعقد کئے جا رہے ہیں یہاں تک کہ غیر ملکی گلوکاروں اور گلوکاراؤں کے کنسرٹ بھی ہو رہے ہیں جبکہ یورپی طرز کے ساحل سمندر بھی تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

یہ صرف سعودی عرب کی کہانی نہیں ہے بلکہ ہر ریاست کی یہی پالیسی ہوتی ہے سوائے پاکستان کے کہ جس کے حکمرانوں سے لے کر عوام تک یہی سمجھتی رہی کہ مسلم امہ نام کا کوئی پرندہ واقعی میں وجود رکھتا ہے، جس کی وجہ سے دنیا میں بستے سب مسلمان ایک کنبہ ہیں۔

عوام کو یہ سبزباغ دکھانے میں سب سے بڑا کردار ہمارے علماء اور ہماری درسی کتب کا ہے،جس سے عوام سمجھتی ہے کہ گویا پہلی اسلامی ریاست مدینہ منورہ نہیں بلکہ پاکستان ہے اور یہ واقعی اسلام کا قلعہ ہے، جس کی ذمہ داری ہے کہ ہر اسلامی ملک کے ذاتی پنگے میں ٹانگ اڑانا لازم ہے۔

یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کو جتنا نقصان خود مسلمانوں نے دیا،اس کا آدھا بھی دشمن نہیں دے سکتے تھے۔
ہزاروں کلومیٹر دور امریکہ کو محسوس ہوتا ہے کہ ایک پہلے سے ہی تباہ شدہ اسلامی ملک افغانستان ہمارے لئے خطرہ ہے لہذا مکہ کے مشرکین کی طرح وہ سب کا اتحاد بنا کر اس خطرے کو ختم کرنے کے لئے پہنچ گیا، اس سب کے باوجود بھی وہ افغانستان پر حملہ نہیں کر سکتے تھے اگر افغانستان کے پڑوسی اسلامی ممالک امریکہ اور نیٹو کو ہوائی اڈے اور زمینی راستہ فراہم نا کرتے۔

افغانستان کی تباہی کے بعد امریکہ کو ایک بار پھر محسوس ہوا کہ عراق بھی ہمارے لئے خطرہ ہے لہذا اس خطرے کو تباہ کرنا چاہئے، ایک بار پھر اسلامی ممالک نے ہوائی اڈے فراہم کئے، زمینی راستہ دیا،کسی ملک کو اتنی جرآت نہیں ہوئی کہ وہ سوال کرے کہ آخر یہ مردہ سے ممالک تم جیسی سپر پاور ممالک کے لئے کیسے خطرہ ہو سکتے ہیں، یہ سوال کرتا بھی کون،سب کو اپنے اقتدار کے جانے کا خوف تھا، سب کے اپنے مفادات تھے جو اسلامی بھائی چارہ سے زیادہ ضروری تھے لہذا سب نے بڑھ چڑھ کر امریکہ کی مدد کی،اب یہاں صرف ایک ملک بچتا ہے جو دونوں تباہ شدہ ممالک کا پڑوسی تھا اور دونوں پڑوسی ممالک سے دشمنی بھی تھی مگر اس نے امریکہ کی مدد کرنے سے انکار کر دیا اور وہ ہے ایران، آپ اس ملک کو بااصول کہیں یا غیرت مند مگر میری نظر میں وہ بیوقوف ہے، وہ اس طرح کہ ان دونوں ممالک نے پھر بھی تباہ ہونا ہی تھا، ایران کا ساتھ دینا یا نا دینا ایک برابر تھا تو پھر ایران کو بھی دوسرے ممالک کی طرح اپنے مفادات کو عزیز رکھتے ہوئے امریکہ کا ساتھ دینا چاہیے تھا یعنی جب سارے بہتی گنگا کے مزے لوٹ رہے ہوں وہاں ایک شخص باہر کھڑا رہے کہ میرے اترنے سے گنگا میلی ہو جائے گی تو ایسے شخص کو بیوقوف ہی کہا جا سکتا ہے اور ایران کی یہی ہٹ دھرمی ہے کہ قدرتی ذخائر سے مالامال ہونے کے باوجود بھی وہ تنگ دستی کی زندگی گزار رہا ہے کیونکہ وہ اپنے اصولوں پر مفادات کو قربان کر دیتا ہے اور یہی اس کی غلطی ہے۔

خیر یہ ایک الگ اور طویل بحث ہے،ہمارا موضوع یہ ہے کہ مسلم امہ کے دو بڑے مسائل تھے، فلسطین اور کشمیر۔ پاکستان نے مسئلہ فلسطین کے آغاز سے ہی فلسطینی قوم کا ساتھ دیا، اسرائیل کے خلاف آواز بلند کی یہاں تک کہ عرب اسرائیل جنگ میں شاید واحد پاکستان ہی تھا جس نے غیر عرب ملک ہونے کے باوجود حصہ لیا حالانکہ پاکستان کی اسرائیل سے براہ راست کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن آج جبکہ پاکستان نے نا ہی اسرائیل کو تسلیم کیا اور نا ہی پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل کا سفر کیا جا سکتا ہے، وہیں مصر کے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، اردن بھی دوست ممالک میں شمار ہوتا ہے اور عمان بھی، یہاں تک کہ متحدہ عرب امارات کے دورے پر اسرائیلی خاتون وزیر آچکی ہے اور اسرائیلی افواج خصوصاً فضائیہ کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ فضائی مشقیں معمول کا عمل ہے۔

سعودی عرب کے بھی اسرائیل سے پوشیدہ تعلقات کسی سے چھپے نہیں رہے اور اگر محمد بن سلیمان مزید چند سال اقتدار میں رہا تو ہم سعودی عرب میں اسرائیلی سفارت خانے پر جھنڈا لہرتا بھی دیکھ لیں گے۔

پاکستان نے ہمیشہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے عرب ممالک کو اپنا دوست اور بھائی سمجھا، یہاں تک کہ ہم نے اپنے مفادات کی قربانی دے کر ان ممالک کو خوش کیا بلکہ اپنا ملک تباہ و برباد کر کے ان کو راضی رکھنے کی کوشش کی، ہم ان کے اقتدار کے تحفظ کے لئے اپنی افواج قربان کرنے کے لئے بھیجتے رہے، بحرین میں ریٹائرڈ فوجیوں کی بھرتی کروا کر عوامی تحریک کو ظلم و تشدد سے ناکام بناتے رہے، شام میں سعودی جہاد کے لئے جنگجوؤں کو تربیت بھی دیتے رہے اور پاکستان سے جنگجو بھی روانہ کرتے رہے، ہم نے عرب حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنے ملک کو دہشتگردوں اور انتہا پسندوں کی جنت بنا دیا ورنہ جتنا فائدہ ہمیں ایران سے دوستی کر کے ہو سکتا تھا، وہ فائدہ ہم ان عرب ممالک سے حاصل نہیں کر سکے،ایران جیسے قدرتی ذخائر سے مالامال پڑوسی ملک سے کاروباری تعلقات بڑھا کر ہم اپنی معیشت کو کافی حد تک بہتر کر سکتے تھے اور اس پر عائد اقتصادی پابندیوں سے ہم بھرپور فائدہ اٹھا سکتے تھے بالکل اسی طرح جیسے دوبئی فائدہ اٹھاتا آ رہا ہے مگر ہمارے حکمرانوں کے ذاتی مفادات اور سعودی ریال کی چمک نے قوم کو کسی اور بلاک کی طرف جانے ہی نہیں دیا۔

پاکستان کا عالمی طور پر سب سے بڑا مسئلہ مقبوضہ کشمیر تھا جو دہائیوں سے ہندوستان سے اختلاف کی ایک وجہ بنا آ رہا ہے، آج جبکہ مودی حکومت نے اس کی نیم آزاد حیثیت کو ختم کر دیا ہے اور ہمیں اپنے دوست ممالک کے ساتھ کی اشد ضرورت تھی تو ہم نے اس معاملے میں خود کو تنہا پایا۔

مسلم امہ کے پچاس سے زائد ممالک میں سے صرف واحد ایران ایسا ملک ہے جس نے نا صرف حکومتی سطح پر بھارتی اقدامات کی مذمت کی بلکہ اسمبلی میں ہندوستان کے خلاف قرارداد بھی پیش کی جبکہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے واضح طور پر کشمیری قوم کی حمایت کا اعلان کیا۔

یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ کشمیر کے مسئلہ پر صرف دو اسلامی ممالک میں بڑے مظاہرے نظر آۓ، بنگلہ دیش اور ایران لیکن ان دونوں ممالک کو ہم نے اپنا دشمن گردانا، افسوس کہ جن کے اقتدار کے تحفظ کے لئے ہم ہمیشہ مرے جاتے تھے،وہاں ایک شخص بھی مظاہرے کے لئے باہر نا نکلا۔
آج پاکستان جب نیپال اور مالدیپ جیسے چھوٹے ممالک کی بھی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا وہیں متحدہ عرب امارات میں نریندر مودی کو اعلیٰ سول ایوارڈ سے نوازا جا رہا تھا،یہ پہلا موقع نہیں ہے بلکہ اس سے قبل سعودی عرب بھی نریندر مودی کو اعلیٰ سول ایوارڈ سے نواز چکا ہے اور شاید نریندر مودی دنیا کا واحد حکمران ہو گا جو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں ممالک سے اعلیٰ سول ایوارڈ حاصل کر چکا ہے۔

ان سب نوازشات اور پاکستان سے دوری کی صرف ایک وجہ ہے کہ عرب ممالک کے پاکستان سے زیادہ ہندوستان سے مفادات وابستہ ہیں لہذا انہوں نے اپنے مفادات کو مذہب اور مسلم امہ پر ترجیح دی۔

آج بحیثیت قوم جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو ہم خود کو تنہا پاتے ہیں،وہ بھائی،وہ چارہ نجانے کہاں گیا جو ہمیں ٹیکسٹ بکس میں پڑھایا جاتا تھا شاید ہم ہی بیوقوف تھے جو مسلم امہ کے نام پر دہائیوں سے بیوقوف بنتے چلے آ رہے تھے یا دوسروں کے ذاتی مفادات کے لئے استعمال ہوتے رہے۔

اب بھی وقت ہے کہ ہم مسلم امہ کا چورن بیچنا چھوڑ کر اپنے ملک کے مفادات کو ترجیح دیں کیونکہ ایک غریب ملک کسی امیر ملک کا کبھی بھائی نہیں بن سکتا،یہ رشتے دولت اور طاقت سے بنتے ہیں نا کہ ڈرائیور بننے سے۔

ہمیں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ پاکستان کشمیر کے مسئلہ پر اکیلا تھا اور اکیلا ہی رہے گا، یہ امہ کے ٹھیکیدار وقت آنے پر کشمیریوں اور فلسطینیوں کے خلاف ہندوستان اور اسرائیل کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے بلکہ یہ تو ہمیشہ سے ہی دشمن کے ساتھ کھڑے تھے بس ہمیں ہی حقیقت نظر نہیں آتی تھی کیونکہ ہم نے امہ کا کالا چشمہ پہن رکھا ہے۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں