استاد دامن…! حصہ اول (راؤ محمد نعمان)

پنجابی زبان کے مشہور شاعر استاد دامن جن کا اصل نام چراغ دین تھا۔ ان کی تاریخ پیدائش کے حوالہ سے ابہام موجود ہے جس کی بنیادی وجہ ان کے بننے والے دو قومی شناختی کارڈ تھے ان کے پہلے شناختی کارڈ میں تاریخ پیدائش یکم جنوری 1910 درج تھی۔ اس شناختی کارڈ گم ہونے پر دوسرا شناختی کارڈ بنوایا تو اس پر انہوں نے اپنی تاریخ پیدائش 4 ستمبر 1911 درج کروائی۔

استاد دامن اندرون لاہور چوک متی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم کا نام میراں بخش اور والدہ محترمہ کا نام کریم بی بی تھا۔ وہ ذات کے لحاظ سے کھوکھر راجپوت تھے مگر ذاتوں کے گورکھ دھندوں سمیت معاشرے کی ہر غیر اختیاری تقسیم سے انکاری تھے۔ مساوات کی سوچ میں ہی انہوں اپنی زندگی وقف کئے رکھی اور ہر برائی سے اعلان جنگ کرتے رہے۔ ان کا آبائی پیشہ کپڑے سینا تھا۔ چوک جھنڈا سکول سے پرائمری اور دیو سماج سکول سے میٹرک پاس کرنے کے بعد انہوں نے آبائی  پیشہ کپڑے سینے کا باقائدہ ڈپلومہ حاصل کیا۔ وہ حافظ قرآن بھی تھے۔ تمام علوم میں ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ اردو، انگریزی، روسی سمیت کئی دیگر زبانوں میں مہارت حاصل ہونے کے باوجود انہوں نے تمام ادب اپنی ماں بولی پنجابی میں تخلیق کیا۔ زندگی کی پہلی ہجرت میں استاد دامن اپنے والدین کے ساتھ اندرون لاہور سے باغبانپورہ منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے اپنے والد محترم کا ہاتھ بٹاتے ہوئے درزی کا کام شروع کیا اور ہمیشہ اپنے سیئے کپڑے پہنے۔ استاد دامن نے ہر مظلوم، محروم، محکوم، بے بس، بے کس، بے گھر اور بھوکے کے درد کو اپنا درد سمجھا۔ اسی احساس میں انہوں نے سڑکوں پر سونے اور بھوکے رہنے والوں کیلئے یہ شعر کہا۔

کسی نوں سڑک تے لیٹیا ویکھنا تے کھلو جانا واں میں

کسی نوں روٹی منگیاں مل جاندی اے تے کھو جانا واں میں۔

زندگی کے سب سے بڑے مسئلے بھوک کے حوالہ سے استاد دامن کی سوچ سب سے گہری تھی اس درد کو جتنا انہوں نے محسوس کیا شاید ہی کسی اور نے کیا ہو اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے وہ اپنے حجرے میں موجود بن بلائے چوہوں تک کو بھی اعلیٰ خوراک مہیا کرتے تھے۔ ان کے کہنا تھا کہ اگر انہیں خوراک نہیں ملے گی تو یہ میری کتابیں کھا جائیں گے۔ جب ان کی بھوک مٹ جائے گی تو یہ کوئی نقصان نہیں کریں گے اور ایسا ہی ہوا۔ اسی طرح ایک گائے کئی سال باقائدگی سے روزانہ ان کے حجرے پر آتی رہی۔ وہ دروازہ میں آ کر کھڑی ہو جاتی دروازہ بند ہوتا تو اپنے منہ سے دھکیل کر دروازہ کھول لیتی۔ استاد دامن نے اس کیلئے کچھ نہ کچھ کھانے کو رکھا ہوتا تھا جو اسے دیتے تو یہ کھا کر واپس چلی جاتی اگر کچھ کھانے کو نا ہوتا تو ہاتھ سے اسے پیار کرتے یہ واپس روانہ ہو جاتی جب تک نا کرتے یہ دروازہ میں ہی کھڑی رہتی۔ یہ گائے کہاں سے آتی تھی اور کس کی ملکیت تھی استاد دامن سمیت کسی کو معلوم نہیں تھا۔ آجکل اکثر خبریں آتی ہیں کے گائے کسی دوسرے کے کھیت میں داخل ہو گئی تو اس کی ٹانگیں کاٹ دی گئی۔ دیگر غیر انسانی مظالم بھی ان بے زبانوں پر کثرت سے ڈھائے جاتے ہیں۔ ایک موجودہ وفاقی وزیر اعظم سواتی نے تو اسلام آباد میں اپنے محل کے قریب سرکاری جگہ میں گائے کے آ جانے پر اس گائے کو ضبط کر اس کے غریب مالکان کو بذریعہ پولیس اٹھوا لیا تھا۔ جب تک ایسے ظلم ہوتے رہیں گے استاد دامن کی رحمدلی یاد آتی رہے گی۔

استاد دامن نے عمر بھر شادی نہیں کی جس کی بنیادی وجہ رائج رسوم و رواج سے بغاوت تھی۔ اس حوالہ سے ان کا کہنا تھا کہ رائج رسموں والی شادی جو جھوٹ اور سودے بازی پر مبنی ہوتی ہے دراصل لوٹ مار ہے جو کسی کا چہرہ، جسامت یا مال و دولت دیکھ کر کی جاتی ہے۔ سہرا بندی اور گھوڑے پر سوار ہو کر جانے کو استاد دامن پاکل پن کہتے اور بارات کو ڈاکوؤں کا ٹولہ۔ جو اعلانیہ ڈھول بجا کے لوٹنے کیلئے آ رہا ہوتا ہے۔ اسی بات کو انہوں نے اس شعر میں ڈھالا ہے۔

ڈھول وجا کے لٹن آئے، لوکی آکھن جنج
دھیاں والیاں کی دینا اے، بھاویں دے دئیے گنج(سر)۔

جس طرح بارات کے کھانے پر تنقید کی جاتی ہے اس کو استاد دامن نے ایک ریڈیو انٹرویو میں ان الفاظ میں بیان کیا کہ یہاں حلوہ دیوار پر پھینک کر دیکھا جاتا ہے۔ پورا بہہ نا جائے تو کہتے ہیں کہ ہمیں سیمنٹ کھلا رہے ہو۔

استاد دامن نے عملی سیاست میں بھی حصہ لیا مجلس احرار الاسلام اور انڈین نیشنل کانگریس سمیت کئی تنظیمات کے جلسوں میں انگریز حکمرانوں پر اپنی شاعری کے ذریعہ خوب تنقید کی۔ سیاسی جلسوں، جلوسوں، مشاعروں، میلوں، عید میلاد النبیﷺ کے جلسوں سے محرم الحرام کے جلوسوں تک جہاں بھی موقع ملا وہ انگریز کے خلاف بولنے سے باز نہیں آئے۔ استاد دامن کا کہنا تھا کہ لفظ انگریز دراصل دو الفاظ انگ اور ریز سے مل کر بنا ہے۔ جس میں لفظ “انگ” کا مطلب بھی ٹکڑا ہے اور “ریز” کا مطلب بھی ٹکڑا ہے۔ یہ جہاں بھی گیا اس نے سب کو ٹکڑے ٹکڑے ہی کیا ہے۔ اس نے جوڑا کبھی کسی کو نہیں۔ انگریز کی تقسیم کرو اور حکومت کرو پالیسی (Divide and Rule) کی اس سے بہتر تشریح ممکن نہیں جو انہوں نے کی۔ اپنے وطن میں غیر ملکی حکومت سے متعلق ان کا کہنا تھا۔

بہتر موت آزادی دی سمجھدے ہاں
اسیں ایس غلامی دی زندگی توں
ساڈا وطن چے حکومت ہے غیر وطنیں
مر مٹانگے ایس شرمندگی توں۔

جو لوگ برطانوی راج کو تسلیم کرتے اسے ترقی کا ضامن کہتے اور آزادی کا نعرہ بلند کرنے والوں کے خلاف تھے ان کو استاد دامن نے ایسے دلائل دیتے رہے۔

روس روسیاں دا چین چینیاں دا
ایدھر ملک جاپان جاپانیاں دا
جگہ جگہ اتے ملّ مار بیٹھے
انگلستان نالے انگلستانیاں دا
ہویا ہے فرانس فرانسیسیاں دا
توڑے نال تہران تہرانیاں دا
افغانستان ہویا ہے افغانیاں دا
ترکستان نالے ترکستانیاں دا
ایہہ کڈی ہے گلّ حیرانیاں دی
ہندوستان نہیں ہندوستانیاں دا۔

اور ہم وطنوں کو انگریز کے خلاف جدوجہد کی ترغیب ان الفاظ میں دی۔

اٹھو ہندیو جان فدا کریئے
ایس وطن پیارے دے نام اتوں
ساغر آب حیات دا سمجھ لئیے
راج ملے جے موت دے جام اتوں
اتوں دیس دے انجھ قربان ہوئیے
رادھا ہوئی بلہار جیوں شام اتوں
پیدا اس طرحاں دا انقلاب ہووے
نکلے فجر جیوں رات مقام اتوں
رکھ نور آزادی دا نگاہ اندر
دور ہن غلامی ظلمات کریئے
ساڈی گلّ آوے وگڑی راس دامن
رل مل کے تے ایسی بات کریئے۔

ساتھ ہی تب کی حکومتی پابندیوں کی نشاندہی ایسے کی۔

بند بند غلامی دے نال بجھا
بندیوان، بند راز دا کھوہلنا بند
ہے شاہ انگریز دی شاہی اندر
سچ آکھنا تے پورا تولنا بند
جذبہ دل دا دل چے جذب ہویا
ہن تے ہویا زبان توں بولنا بند
ہے شاہ انگریز دی شاہی اندر
کہنا حق تے حق ٹٹولنا بند
بولن والے تے فیر وی بولدے نے
حکم دار دا کی چڑھ کے دار اتے
جو غلام آزاد خیال ہوون
اوہ آزاد نے کل سنسار اتے۔

جس طرح آج موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے پہرے دار غریبوں پر ظلم روا رکھے ہوئے ہیں تقسیم ہند سے قبل بھی حالات ایسے ہی تھے۔ تمام وسائل پر انگریز کے وفادار قابض تھے۔ انگریز حکومت کی شان و شوکت سے متاثر ہونے والے اور اس کی حکومت کو بہترین اور لازوال سمجھنے والوں کو حضرت عمر فاروقؓ کی عوام دوست حکومت کی یاد اور انگریز حکومت کے خاتمے کی نوید جبکہ وفاداران انگریز کو انگریز کے جانے کے بعد ان کے انجام سے آگاہ کرنا بھی استاد دامن کا ہی کام رہا جو انہوں نے کچھ یوں کیا۔

دولتمنداں دے سدا نے بند بوہے
تے غریباں دے بوہے نہ باریاں نے
مہینے بعد انجھ سود دا آئے جھکھڑ
جئیویں موت نے باواں کھلاریاں نے
فیر ہے عمر خطاب دی لوڑ سانوں
چا فرنگیاں نے متاں ماریاں نے
دامن کد تکّ کرنگے ظلم ظالم
اک دن آؤنیاں ساڈیاں واریاں نے۔

ساتھ ساتھ اہل وطن کو یہ احساس بھی مسلسل دلاتے رہے کہ ہم غلام ہونے کے باوجود آزادی حاصل کرنے کی صلاحیتوں سے محروم نہیں۔

بے شک اسیں غلام، غلام پورے
پر غلام آزاد خیال تے ہاں
شمع وطن اتوں جان دین والے
پر پروانے اسیں بے مثال تے ہاں
ملکی تخت بدلے تختہ منگنے آں
اسیں مرد وی مرد کمال تے ہاں
ہے غلامی نے حالَ بےحال کیتا
پر جذبہ آزادی دے نال تے ہاں۔

استاد دامن نے بہت سی نظموں میں مختلف مثالوں سے انگریز کے خلاف عوام کی غیرت جگانے کی کوشش جاری رکھی جو آج تک نا جاگ سکی۔ اس لیے ان کی کئی نظمیں پڑھیں تو آج ہی کے حالات سے متعلق محسوس ہوں گی جیسے یہ نظم۔

پنجرے وچ اک طوطے نوں پچھیا میں
تیری زندگی وچ زندان بند اے
گیا گزریا گزریا جاپنا ایں
تیری کسے تے گزر گزران بند اے
طوطا ہسیا، ہسّ کے کہن لگا
اچھا تیرا وی کدھرے دھیان بند اے
میرے جیہا ہو کے جے توں گلّ کردوں
میں سمجھدا عقل چے تان بند اے
میں غلام ہاں اک دا گلّ کوئی نہیں
تیرے لکھاں کروڑاں دا مان بند اے
خود غلام تے کئیاں نوں نال کیتا
تیرے جہے ہندی ہندوستان بند اے
ایہہ میں منناں ایہدے وچ شکّ کوئی نہیں
قطرے پانی چے اک طوفان بند اے
پنجرے وچ میں پیا آزاد بولاں
توں آزاد ایں تیری زبان بند اے
دامن مرد ایں وچ میدان آ جا
کردے ظاہر جو دلی ارمان بند اے۔

جس طرح آج مختلف خفیہ ادارے ملک کے اندر ہی جاسوسی کر کے غیر ملکی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ اسی طرح انگریز حکومت تب سی آئی ڈی CID کے جاسوسوں کے ذریعہ عوامی اجتماعات جاسوسی اور اپنے مخالفین کی نشاندہی کرتی تھی۔ ان خفیہ اہلکاروں کو استاد دامن نے یوں للکارا۔

کجھ اوہ گئے، کجھ ایہہ بیٹھے
کجھ کری دھاوا اجے آؤندے نے
او جے لیٹر بکس حکومت برطانیہ دے
پہلے تار توں خبر پہنچاؤندے نے
لیکاں ایویں نہ ماردے کاغذاں تے
لیکاں اپنے دیس نوں لاؤندے نے
آوے کسے دی آئی تے مرن دامن
ویراں نال جو ویر کماؤندے نے۔

دوسری جنگ عظیم میں فتح پانے کے باوجود حکومت برطانیہ کمزور ہوئی اور اس کی کمزوری کا اثر ہندوستان کے قبضہ پر بھی محسوس ہوا تو یہاں کے عوام میں پہلے سے پھیلائی گئی مختلف سازشوں کے بعد بہت سی نئی سازشیں شروع کی گئی تو انہیں استاد دامن نے ان الفاظ میں بیان کیا۔

چالباز نے اپنی چال اندر
جو جو چال چلی گول مول چلی
چلدی رہی، چل کے رہی، خوب چلی
چلی چال تے چال اڈول چلی
ایہہ وی دور ہن چلیا جاپدا اے
گورمنٹ برطانیہ ڈول چلی
پسو پئے ایسے، طوطے اڈّ گئے نے
پینجا سوں گیا تے بمب بول چلی۔

جب انگریز ہندوستان سے قبضہ ختم کرنے پر مجبور ہو گیا اور جانے سے پہلے یہاں مختلف سازشیں کر کہ آپس میں لڑوا رہا تھا تب استاد دامن اہل وطن کو خبردار کرتے رہے۔

چلن لگے نے وہن آزادیاں دے،
ہندوستانیاں ذرا ہشیار رہنا
گندہ ہوئے نہ پانی دھیان رکھنا،
بھاویں آر رہنا بھاویں پار رہنا۔

اور جب انگریز نے ہندوستان کو قتل و غارت میں دھکیل کر یہاں  تاج برطانیہ کی شاہی حکومت قائم رکھتے ہوئے اقتدار کی پردہ سکرین کے آگے سے چھوڑ کر پیچھے انتظام سنبھالا تو ان سازشوں پر بھی استاد دامن خاموش نا رہہ سکے۔

آخر پیا اے جانا فرنگیاں نوں،
کیویں چھڈّ کے دیس نوں سور گئے نے
ٹوٹے کر گئے جاندیاں بندیاں دے،
فرقہ بندی دے چھڈّ نسور گئے نے
چھڈّ گئے نے ٹولی اک ٹوڈیاں دی،
بھاویں سینکڑے کوہ اوہ دور گئے نے۔
تنگ خلقت نوں کرن، فتور پاون،
دے ایہناں نوں ایہہ منشور گئے نے۔

(جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں