مقاومت کا دوسرا نام قاسم سلیمانی (ساجد خان)

بالآخر امریکہ نے اپنے سب سے بڑے دشمن کو مار ہی دیا۔ قاسم سلیمانی امریکی حملے میں شہید ہو گئے۔ عالمی میڈیا اسے The Shadow Commander کے نام سے جانتی تھی جبکہ ایران نے ان کو زندہ شہید کے خطاب سے نواز رکھا تھا جو بالآخر حقیقت میں بدل گیا۔

قاسم سلیمانی کی اگر زندگی پر نظر ڈالیں تو عجیب و غریب شخص سے پالا پڑتا ہے۔ قاسم سلیمانی نے زندگی میں جدوجہد کا آغاز کافی کم عمری میں کیا، ان کے والد ایک عام کاشتکار تھے جنہوں نے زندگی بسر کرنے کے لئے حکومت سے آٹھ سو تومان قرضہ لے رکھا تھا جو ایک سو ڈالر بنتا تھا مگر اسے ادا نہیں کر پا رہے تھے، جس کی وجہ سے خدشہ پیدا ہونے لگ گیا کہ عنقریب قرض کی ادائیگی نا ہونے پر جیل جانا پڑے گا۔

اس وقت قاسم سلیمانی کی عمر لگ بھگ تیرہ برس کی تھی، اپنے خاندان کو بچانے کے لئے انہوں نے اپنے کزن احمد سلیمانی کے ساتھ فیصلہ کیا کہ وہ والد کی مشکل آسان کرنے میں مدد کر سکتے ہیں لہذا وہ دونوں محنت مزدوری کے لئے اپنے آبائی گاؤں رابور سے کرمان نکل پڑے جہاں سخت سردی اور مزدوری نا ملنے کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر پھر ایک سکول عمارت تعمیر کرنے پر انہیں مزدوری مل گئی جہاں دو تومان روزانہ مزدوری ملا کرتی تھی۔ آٹھ ماہ محنت مشقت کے بعد وہ اتنی رقم اکٹھی کرنے میں کامیابہو گئے کہ وہ واپس جا کر قرض اتار سکیں اور یوں وہ واپس اپنے گھر پہنچ گئے۔

قاسم سلیمانی کو باڈی بلڈنگ کا شوق تھا لہذا گاؤں واپسی کے بعد وہ اس شوق کو پورا کرنے میں مصروف ہو گئے۔ انقلاب ایران کے دوران بھی قاسم سلیمانی کافی متحرک رہے مگر انہیں شہرت ایران عراق جنگ کے دوران حاصل ہوئی جب انہوں نے ملک کے دفاع کے لئے فوج میں رضاکارانہ طور پر بھرتی ہونے کا فیصلہ کیا۔

انہیں آغاز میں فرنٹ لائن پر پانی پہنچانے کی ڈیوٹی دی گئی جو کہ صرف پندرہ روز کے لئے تھی۔ اس کے بعد وہ باقاعدہ فوج کا حصہ بن گئے اور فرنٹ لائن پر ہی رہنے کو ترجیح دی۔

جلد ہی قاسم سلیمانی کی بہادری اور دلیری کے چرچے ہونے لگ گئے اور دشمن فوج میں بھی اس نوجوان کا ذکر ہونے لگ گیا، عراق میں انہیں “بکری چور’ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا کیونکہ قاسم سلیمانی اکثر و بیشتر دشمن علاقے میں گھس کر وہاں سے بکری چوری کر لایا کرتا تھا جسے تمام فوجی مال غنیمت سمجھ کر دعوت کیا کرتی تھی۔یہ خطاب انہیں عراقی ریڈیو کی نشریات پر دیا گیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتداء سے ہی قاسم سلیمانی کے چرچے ایران اور عراق میں جاری ہو چکے تھے۔

جنگ کے دوران ہی انہیں کرمان بریگیڈ کا انچارج بنا دیا گیا جس میں اکثریت قاسم سلیمانی کے ذاتی دوستوں کی تھی جو اس کے ساتھ باڈی بلڈنگ کیا کرتے تھے، اس جنگ میں قاسم سلیمانی نے تقریباً تمام دیرینہ ساتھی گنوا دیئے یہاں تک کہ کزن احمد سلیمانی بھی 1984 میں ان کا ساتھ چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملا۔ اس جنگ میں قاسم سلیمانی بھی زخمی ہوئے مگر زندہ رہ کر ابھی بہت کچھ کرنا باقی تھا۔

ایران عراق جنگ کے دوران ایرانی قیادت نے ایک سبق سیکھا کہ وہ تنہا ہے اور دشمنوں میں گھرا ہوا ہے لہذا یہ فیصلہ کیا گیا کہ نئے دوست بنائیں جائیں، اس وقت قاسم سلیمانی افغانستان میں طالبان کے خلاف افغان گروہوں کو متحد کرنے میں مصروف رہا کیونکہ ایران جانتا تھا کہ عراق کے بعد افغانستان میں بھی دشمن کے قابض ہونے سے مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

جب طالبان نے افغانستان میں موجود ایرانی ایمبسی پر حملہ کر کے سفارت کاروں کا قتل عام کیا تھا تو ایران نے اپنی فوجیں افغانستان سرحد پر منتقل کرنا شروع کر دیں اور کسی بھی وقت ایران اس جنگ میں فریق بننے جا رہا تھا، تب قاسم سلیمانی ہی تھا جس نے اس فیصلے کی مخالفت کی اور حملے کو غلط فیصلہ قرار دیا، اس مخالفت کی وجہ سے ایرانی فوج افغانستان میں داخل ہونے سے باز رہی مگر قاسم سلیمانی اپنا کام کرتا رہا۔

قاسم سلیمانی کو 1998 میں قدس فورس کا سربراہ بنا دیا گیا، یہ فورس انقلاب کے فوراً بعد ہی تشکیل دی گئی تھی اور جب اسرائیل نے لبنان پر حملہ کر کے جنوبی علاقے پر قبضہ کیا تو یہ قدس فورس ہی تھی جس نے جنوبی لبنان کے نوجوانوں کو فوجی تربیت دینے کے لئے اپنے نمائندے روانہ کئے، جس کے بعد حزب اللہ جیسی منظم تنظیم کا آغاز ہوا، جس نے نا صرف جنوبی علاقہ بازیاب کروایا بلکہ اسرائیل سے تینتیس دن جنگ کر کے اپنا لوہا بھی منوایا، تینتیس دن جنگ ویسے تو اتنا بڑا کارنامہ نظر نہیں آتا لیکن جس چھوٹے سے ملک اسرائیل کے سامنے پورے عرب قوم کو صرف چھ دن میں ہی عبرت ناک شکست دے کر پوری دنیا کو حیران کر دیا تھا، وہی اسرائیل ایک چھوٹے سے ملک کی ملیشیا کے سامنے بے بس نظر آیا۔

طالبان کے افغانستان پر قبضہ کے بعد ایران کی سرحدیں غیر محفوظ ہوتی چلی گئیں، ایک طرف صدام حسین جیسا ظالم حکمران تو دوسری طرف طالبان جیسی سفاک تنظیم جسے ایران کے مسلک کی وجہ سے اس کے وجود سے ہی نفرت تھی۔ قاسم سلیمانی جانتا تھا کہ ایران ان حالات میں انتہائی غیر محفوظ ہے۔

ایران کی خوش قسمتی کہیں یا طالبان کی بیوقوفی کہ امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کا افسوس ناک واقعہ پیش آتا ہے، جس کا الزام القاعدہ پر عائد کیا گیا۔ القاعدہ کا سربراہ اسامہ بن لادن جو طویل عرصہ سے افریقہ میں چھپا ہوا تھا، واقعہ سے کچھ عرصہ قبل ہی افغانستان منتقل ہو گیا تھا لہذا امریکہ نے طالبان حکومت سے اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کیا جو کہ مسترد کر دیا گیا، جس کے بعد امریکہ اور نیٹو نے افغانستان پر حملہ کی تیاری شروع کر دی، جس کے لئے عرب ممالک اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے ایک دوسرے سے بازی لیتے نظر آۓ، افغانستان پر حملہ کے لئے سب سے اہم ملک پاکستان تھا اور یوں پاکستان بھی اس اتحاد میں شامل ہو گیا۔

افغانستان پر حملہ ہوا اور طالبان حکومت ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور ان کے خلیفہ عمر نے افغانستان سے بھاگنے میں ہی عافیت سمجھی اور یوں ساری قیادت جہاد چھوڑ کر جان بچاتی نظر آئی۔

یہ معاملہ ابھی حل ہوا ہی تھا کہ صدام حسین کو کویت پر حملے کی سوجھی اور یوں دوسرا دشمن بھی ماضی کے اپنے ساتھیوں کی نظر میں کھٹکنے لگا، افغانستان حملہ کے دو سال بعد ہی عراق پر بھی حملے کے منصوبے بننا شروع ہو گئے اور اس بار بھی عرب حکمران امریکہ کو اپنی خدمات پیش کرنے کی دوڑ میں سرفہرست نظر آۓ۔

یہ کہنا کہ ایران نے ان دونوں ممالک پر حملوں میں کوئی کردار ادا نہیں کیا تو یہ بھی جھوٹ ہو گا کیونکہ جب افغانستان پر حملے کی مکمل تیاریاں شروع ہو رہی تھیں تب امریکہ کے محکمہ داخلہ کا اہم عہدیدار کروکر جنیوا پہنچتا ہے جہاں وہ ایرانی سفارت کاروں سے ملاقات کرتا ہے اور ایران سے معلومات دینے کی درخواست کرتا ہے۔

ایرانی قونصلیٹ اس کا پیغام قاسم سلیمانی تک پہنچاتے ہیں جس پر قاسم سلیمانی طالبان کے خلاف معلومات دینے پر رضامند ہو جاتا ہے اور امریکہ کو نقشہ دیا جاتا ہے جس میں سب وہ معلومات موجود تھیں کہ طالبان کی فوج کس علاقے میں کس جگہ پر موجود ہے، یہ سلسلہ جاری رہا اور اس پر ایران کو اعتراض نہیں تھا کیونکہ وہ اپنی بہترین حکمت عملی سے ایک دشمن سے دوسرے دشمن کو ختم کروانے جا رہا تھا۔

دوسری طرف عراق پر امریکی حملے پر بھی ایران بظاہر خاموش رہا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ امریکہ اور اس کے عرب اتحادی کتنی سنگین غلطی کرنے جا رہے ہیں۔

عراق پر حملہ ہوتا ہے اور صدام فوج بھی طالبان کی طرح کاغذی شیر ثابت ہوئی اور گھنٹوں میں ہی صدام حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔

عراق میں اب ایران کا کام شروع ہوتا ہے، اس کی خواہش تھی کہ اب امریکہ کے عراق میں اپنے پنجے مضبوط نہیں ہونے چاہئیں۔ ایران کو امریکہ کا مقابلہ کرنے کے لئے عراق میں ایک جنگجو ملیشیا کی ضرورت تھی گو کہ ایک تنظیم البدر موجود تھی جس کی قیادت مقتدیٰ الصدر کر رہا تھا مگر قاسم سلیمانی کے نزدیک وہ شخص ناقابل اعتبار تھا۔ لہذا ایران نے صدام حسین کی بقیہ فوج کو اکٹھا کرنا شروع کیا اور انہیں امریکہ کے خلاف لڑنے کے لئے تیار کیا گیا مگر جلد ہی یہ منصوبہ الٹا پڑنا شروع ہو گیا کیونکہ بعثی جنگجو امریکہ سے لڑنے سے زیادہ شیعہ آبادی کو نشانہ بنانا شروع کر دیا جس کی وجہ سے ایران نے ان کی حمایت ترک کر کے نئی فورس بنانے کا منصوبہ بنایا اور یوں ایک تنظیم تیار کی گئی جو مکمل طور پر ایران نواز تھی۔

عراق میں امریکی فوجیوں پر حملے کافی بڑھتے جا رہے تھے اور شاید اس دوران ہی اسنائپر جیسے ہتھیار کو شہرت حاصل ہوئی، جس پر امریکہ میں بہت سی فلمیں بھی بنائی جا چکی ہیں۔

امریکہ سمجھتا تھا کہ یہ حملے صدام حسین کے بچے کھچے فوجی کر رہے ہیں جنہوں نے اپنی تنظیم تشکیل دے رکھی ہے۔

2006 میں اچانک کچھ عرصہ کے لئے امریکی فوج پر حملے کم ہو گئے جو کہ خوش آئند کے ساتھ ساتھ حیران کن بات بھی تھی لیکن ایک روز عراق کے اعلیٰ عہدیدار نے امریکی کمانڈر کو اپنے فون میں ایک میسج دکھایا جو قاسم سلیمانی کی طرف سے اس امریکی کمانڈر کے لئے تھا، جس میں کہا گیا کہ امید ہے تم لوگوں نے کچھ عرصہ کے لئے میری غیر موجودگی کو کافی محظوظ کیا ہو گا دراصل میں لبنان میں حزب اللہ سے اسرائیلی جنگ کے معاملے پر مصروف تھا، اب تمھیں پھر سے میری موجودگی کا احساس ہونا شروع ہو جائے گا۔

ایران جہاں چاہتا تھا کہ امریکہ عراق سے نکل جائے وہیں یہ خواہش بھی تھی کہ امریکہ افغانستان میں بھی کامیاب نا ہونے پائے کیونکہ اس کے بعد پہلی ترجیح ایران پر حملہ ہو گی لیکن افغانستان میں ایران کو وہ کامیابیاں نہیں مل پا رہیں تھیں جو عراق میں حالات تھے۔

اس دوران طالبان کو بھی نئے دوست بنانے کی اشد ضرورت محسوس ہوئی کیونکہ امریکی دباؤ کی وجہ سے پاکستان وہ مدد نہیں کر پا رہا تھا جتنی طالبان کو ضرورت تھی، دوم یہ کہ پاکستان ان سے ایسے کام بھی کرواتا تھا جو طالبان کے مفادات میں نہیں ہوتے تھے مگر مجبوراً ایسے کام سر انجام دینے پڑتے تھے کیونکہ پاکستان ہی ان کا آخری سہارا تھا۔ اس لئے جب نئے دوست بنانے کا فیصلہ کیا گیا تو طالبان نے چین اور ایران سے رابطہ کیا، چین اور ایران دونوں ہی امریکہ کی افغانستان میں موجودگی کو خطرہ سمجھتے تھے اور یوں دوستی کا ایک نیا باب شروع ہوا۔

کل کے بد ترین دشمن اب دوست بن چکے تھے جبکہ طالبان کو یہ فائدہ ہوا کہ اس کا صرف پاکستان پر انحصار ختم ہو گیا۔

طالبان کے امیر ملا منصور جسے کوئٹہ میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا تھا، وہ ایران سے ہی آ رہا تھا اور اطلاعات یہ بھی تھیں کہ ملا منصور کی فیملی ایران میں ہی مقیم تھی۔

دوسری طرف ایران نے عراق میں جہاں ملیشیا بنائی وہیں عراقی کردوں سے بھی روابط بڑھانے شروع کر دیئے اور یوں عراقی کرد بیک وقت امریکہ اور ایران کی دوستی کے مزے لوٹنے رہے۔ عراقی کرد قوم میں دو بڑے دھڑے ہیں،طالبانی گروپ اور برزانی گروپ۔ ایران کے طالبانی گروپ کے ساتھ اچھے تعلقات پیدا ہو گئے اور یوں قاسم سلیمانی کی کرد علاقے میں آمد و رفت شروع ہو گئی۔

امریکہ چاہتا تھا کہ کسی طرح قاسم سلیمانی کو گرفتار کر لیا جائے کیونکہ امریکہ کے نزدیک سب سے بڑا خطرہ یہی شخص تھا، عراق آمد کے دوران متعدد بار کوشش کی گئی کہ قاسم سلیمانی کو گرفتار کیا جا سکے مگر ہر بار قاسم سلیمانی بچ نکلنے میں کامیاب ہوتا رہا اور ایک دن خبر پہنچی کہ قاسم سلیمانی کرد علاقے میں موجود ہے، جب امریکی فوجی اربیل پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں ایرانی قونصلیٹ موجود ہے، عراقی حکومت بھی یہ بات نہیں جانتی تھی کہ وہاں ایرانی قونصلیٹ کام کر رہی ہے۔

علاقے کا سرچ آپریشن کیا گیا مگر قاسم سلیمانی نا ملا، امریکی فوج کو اطلاع ملی کہ قاسم سلیمانی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کرد رہنما مسعود برزانی کے گھر میں پناہ لے رکھی ہے اور مسعود برزانی نے یہ کہہ کر امریکی حکام سے تعاون کرنے سے انکار کر دیا کہ ایران ہمارا پڑوسی ہے اور ہم اس سے دشمنی مول نہیں لے سکتے۔

دو سال قبل جب عراقی کرد قوم نے الگ ریاست کا اعلان کیا تھا اور عراقی فوج نے کرد ملیشیا کے خلاف آپریشن کی تیاریاں شروع کر دی تھیں جبکہ کرد ملیشیا بھی مقابلے کے لئے تیار تھی، دنیا بھر کا عالمی میڈیا ایک دفعہ پھر خونی جنگ کے آغاز کی خبریں دے رہا تھا کہ اچانک کرد ملیشیا میں پھوٹ پڑ گئی اور آدھی ملیشیا نے مورچے چھوڑ کر واپسی کی راہ لی تھی۔

یہ سب نا صرف دنیا کے لئے بلکہ کردستان کے صدر مسعود برزانی کے لئے بھی حیران کن تھی اور یوں کرد ملیشیا نے سارا مقبوضہ علاقہ بنا کسی لڑائی کے واپس کر دیا، اس کارنامے کے پیچھے بھی قاسم سلیمانی کا ہاتھ تھا، جس نے ایک دن قبل طالبانی گروپ کے رہنماؤں سے ملاقات کر کے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

ایران کو ایک کمزور ملک سے طاقتور ملک بنانے میں سب سے زیادہ حصہ قاسم سلیمانی نے ڈالا ہے۔

لبنان، شام، یمن، عراق اور افغانستان میں ایران ایک مضبوط طاقت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اسی کی دہائی میں ایران کی سرحدوں پر سلگتی آگ کو روایتی حریف سعودی عرب کی سرحدوں پر منتقل کرنے کا سہرا بھی قاسم سلیمانی کے سر جاتا ہے۔

قاسم سلیمانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نہایت خاموش طبع انسان تھا، کتنی ہی اہم میٹنگ کیوں نا ہوتی وہ خاموشی کے ساتھ سب کو سنتا اور آخر میں اپنا موقف دیتا جو کہ ظاہر ہے کہ حتمی فیصلہ ہوتا تھا۔

ایران میں اگر قاسم سلیمانی کی مقبولیت پر بات کریں تو میرے نزدیک وہ ایران میں سب سے مقبول ترین شخص تھا شاید سپریم لیڈر خامنہ ای سے بھی زیادہ گو کہ قاسم سلیمانی سپریم لیڈر کے بعد ایران میں سب سے طاقتور شخص سمجھا جاتا تھا۔
سب سے مقبول اس لئے کہ قاسم سلیمانی کو فارسی قوم کا ہیرو سمجھا جاتا تھا اور اسے جہاں مذہبی افراد پسند کرتے تھے وہیں وہ لبرل ایرانی بھی اپنی قوم کا ہیرو سمجھتے تھے حالانکہ وہی لبرل اسلامی حکومت کے خلاف تھے۔

کہا جاتا تھا کہ ان کی مقبولیت کو دیکھ کر شاید قاسم سلیمانی کو سیاست میں لایا جائے لیکن قاسم سلیمانی کو سیاست سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی اور اس نے اپنے ملک کے لئے جو کیا وہ صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

قاسم سلیمانی کی شہادت ایران کے لئے انتہائی نا قابل تلافی نقصان ہے، ایسے شخص کا نعم البدل ملنا مشکل ہو گا۔

ایران جو کہ ہمیشہ سے ہی دشمن کے وار کا کہیں نا کہیں جواب دیتا آ رہا ہے، قاسم سلیمانی کی شہادت پر ایران ہرگز خاموش نہیں رہے گا۔

میرے خیال سے قاسم سلیمانی کا قتل ایران کے لئے سپریم لیڈر کے قتل سب بھی بڑا سانحہ ہے۔

امریکہ نے کوسوں دور بیٹھ کر اپنے دشمن کو انجام تک تو پہنچا دیا مگر اس کے نتائج مشرق وسطیٰ کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوں گے۔

ڈونالڈ ٹرمپ جیسے بیوقوف اور اکھڑ مزاج شخص نے قاسم سلیمانی کو قتل کروا کر انتہائی نا سمجھی کا مظاہرہ کیا ہے جس کے اثرات مدتوں مشرق وسطیٰ پر پڑے رہیں گے۔

امریکہ کو قاسم سلیمانی پر سب سے زیادہ غصہ اس بات پر بھی تھا کہ عرب خطے میں جو اس نے داعش کے نام پر لاکھوں دہشتگرد اکٹھے کئے تھے، اس نے مختصر عرصے میں ہی امریکہ کی پراکسی کو نیست و نابود کر دیا۔

جتنے دہشتگرد عراق اور شام میں قتل ہوئے ہیں شاید امریکہ کو پیدا کرنے میں کئی عشرے درکار ہوئے ہوں گے جبکہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں بھی ناکام رہے۔

دوسری طرف اسرائیل کو قاسم سلیمانی سے یہ مسئلہ تھا کہ وہ شام میں اسرائیلی سرحد کے قریب اپنی فورس کو مضبوط کر رہا تھا،یہی وجہ تھی کہ اسرائیل مسلسل کئی سالوں سے شام میں ایرانی مفادات پر حملہ کر رہا تھا مگر قاسم سلیمانی حوصلہ ہارنے کے موڈ میں ہی نہیں تھا۔

وہ شام میں ایسا کیا کر رہا تھا جس سے اسرائیل خوفزدہ تھا مگر اسرائیلی ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ بڑا ہونے جا رہا تھا، اسرائیل اس حد تک مجبور ہو گیا کہ حملے کے بعد اس کا اعتراف بھی کرنے لگ گیا حالانکہ اسرائیل کی تاریخ رہی ہے کہ اس نے جب بھی جہاں بھی حملہ کیا ہے کبھی اس کا اعتراف نہیں کیا بس خاموشی سے اپنا کام کیا۔

قاسم سلیمانی نے اپنی زندگی میں قدس فورس کو ایک انتہائی طاقتور اور خطرناک فورس بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ایران کی مقاومت پالیسی کو قاسم سلیمانی نے ایران سے نکال کر افریقہ اور یورپ تک پھیلایا۔

2010 میں جب اسرائیل اور امریکہ نے Siemens کے پرزہ جات میں اس وقت کا جدید وائرس ڈال کر ایرانی ایٹمی پروگرام کو آہستہ کر دیا جس سے ایران کو کافی نقصان اٹھانا پڑا تو اس وقت قاسم سلیمانی کے ہی مشورے پر سپریم لیڈر نے نئی فوج بنانے کا حکم دیا جو کہ سائبر فورس کے نام سے بنائی گئی۔

اس فورس نے چند سالوں میں اتنی ترقی کی کہ دنیا کی چھ بڑی سائبر فورس میں شمار ہونے لگ گئی۔

قاسم سلیمانی ایک کرشماتی شخصیت تھا جس نے جس کام کا بیڑہ اٹھایا اسے بلندی کی انتہا پر لے گیا۔

قاسم سلیمانی نے گزشتہ سالوں میں مقاومت کو اتنا طاقتور بنا دیا ہے کہ اسے آسانی سے ختم نہیں کیا جا سکتا مگر حماس سے حزب اللہ اور انصار اللہ سے کتائب حزب اللہ تک سب اس کمی کو محسوس کرتے رہیں گے کیونکہ قاسم سلیمانی جدید مقاومت کا بانی تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں