289

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے (بشریٰ نسیم )

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں فرمایا تھا کہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنایا جائے گا لیکن یہ کیا ہوا وزیراعظم یو ٹرن کے ماہر تو ویسے بھی ہیں انہوں نے اس بار شاید تاریخ کا بڑا یوٹرن لے لیا اور ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کا خواب دیکھنے والی قوم کو قبر تک پہنچا دیا اور بھوک، افلاس، مہنگائی، بے روزگاری کے عفریت میں پھنسی ہوئی قوم کو یہ مشورہ دیدیا کہ سکون تو صرف قبر میں ہی ملتا ہے۔ اب وزیر اعظم کو کون سمجھائے کہ قبر میںبھی انہی کو راحت نصیب ہو گی جن کے اعمال اچھے ہو نگے۔ اس سے تو یہی مطلب نکالا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دنوں وطن عزیز میں ٹھٹرتی و جان لیوا سردی میں اپنے بچوں کو گرم کپڑے نہ دلوانے پر خودسوزی کرنے والے لااچار، غریب باپ کو قبر میں سکون مل گیا ہو گا۔ تو کیا اب اس کے پانچ بچے بھی سکون کے لئے اپنی جانیں لے لیں۔ کیونکہ ریاست مدینہ کی طرز پر ملک میں حکومت بنانے والے وزیر اعظم کا یہ قیمتی مشورہ ہے کہ وہ تنگدستی و عسرت اور بھوک سے بلکتے اور گرم کپڑوں کے لئے ترستے بچوں کے رونے سے نہ گھبرائیں بلکہ انہی سمیت سکون کے لئے قبر میں اتر جائیں۔ وزیراعظم سے ہی مودبانہ گزارش ہے کہ وہ اشرافیہ کو چھوڑ کروڑ غریب عوام کے لئے مفت قبریں بنوا دیں کیونکہ آپ کی ریاست مدینہ میں جینا تو مشکل تھا ہی مرنا بھی دشوار ہو چکا ہے۔ قبرستان ٹیکس، قبر بنوانے کی فیس میں اضافے نے 80 فیصد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے پاکستانیوں سے باعزت موت کو گلے لگانے اور بعدازاں وقار سے دفن ہونے کی استطاعت بھی چھین لی ہے ۔ موجودہ حالات میں ایک عام پاکستانی اس مشہور شعر کی صورت بن چکا ہے۔

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

یہ بھی بہت بڑی تلخ حقیقت ہے کہ غربت انسان کوگمراہ کردیتی ہے ۔غربت سے تو نبیوں نے بھی اللہ کی پناہ مانگی تھی لہٰذا مشکل ترین دور میں زندگی کیلئے جدوجہد کرتے لوگوں میں مایوسی پھیلانے والے عمل ی اگفتگو سے گریز کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ قبر میں سکون کی زندگی میسر آئے گی یا عذاب ملے گا اس کا فیصلہ کرنا ہمارے اختیار میں نہیں۔ یہ فیصلہ تواعمال کے مطابق عادل حقیقی اللہ رب العزت فرمائے گا۔ بطور مسلمان یہ تو کوئی بھی نہیں جانتا کہ اس کے مرنے کے بعد کیا ہو گیا وزیر اعظم کیسے کہہ سکتے ہیں سکون قبر میں ہی ملتا ہے کیا انہیں یہ کہنے کا بھی اختیار حاصل ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ مرنے کے بعد جب گھر والے قبر میں اتار کر چلے جاتے ہیں اور فرشتے انسان سے قبر میں سوال وجواب سے فارغ ہو جاتے ہیں تب نیک وپرہیزگار اور گناہ گار قبر میں قیامت تک ایک جیسی پرسکون زندگی گزاریں گے یا پھر برابر عذاب میں مبتلا رہیں گے۔وزیر اعظم کا ماننا ہے کہ سکون قبر میں ملے گا میں لیکن اپنے ملک کی اشرافیہ، امیر و دولتمند طبقے اور قومی وسائل کی بندر بانٹ میں ملوث بااثر خاندانوں کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ سکون دنیا میں بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ اشرافیہ کے بیوی بچوں کے عیش و آرام اور بیگمات کی لاکھوں نہیں کروڑوں روپوں کی شاپنگ، ان کے برانڈڈ پہناووں سے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ کیا ان کے لئے تو یہ عارضی زندگی بھی جنت ہے اور ہمارے ملک کے غریبوں کے لئے تو یہ دنیا بھی کسی جہنم سے کم نہیں وہ روز اپنی جائز ضرورتوں کی عدم تکمیل پر مرتے اور جیتے ہیں اب وزیر اعظم کے مشورے نے انہیں حوصلہ دیدیا ہے کہ کوئی غم نہیں اگر انہیں اس دنیا میں سکون نہیں تو مر جائیں! قبر میں سکون میسر ہو گا۔وزیر اعظم صاحب! آپ 22 کروڑ لوگوں کی امید ہے آپ کو تبدیلی، انصاف، ترقی کے نام اور وعدے پرمنتخب کیا تو اس نئے پاکستان میں ان کے حصے میں کیا آیا اور اس ڈیڑھ سال میں آپ کی حکومت نے کیا دیا سوائے مایوسی اور صبر کی تلقین کے ۔ٹیکسوں کی بھرمار، بجلی گیس مہنگی، پٹرول پہنچ سے باہر، آٹا، گھی، دالیں، چینی اور سبزیوں کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں ایسے میں سکون تو قبر میں ملے گا مگر کیسے۔ مرنے کے بعد کفن دفن کا انتظام، میت پر رونوں والوں کے لئے کھانے کا بندوبست، قل خوانی پر دیگیں یہ سب کون کرے گا؟ آپ سوچیئے کہ اس کے مرنے پر ریاست مدینہ کی ماڈل حکو مت میں اس کی مہنگائی کی چکی میں پستی ہو ئی اولاد کیا کرے گی کیسے سارا اہتمام و بندو بست کرے گی ؟۔ میرا تو وزیر اعظم سے ایک ہی بلکہ آخری مطالبہ ہے کہ ہمارے لئے مفت قبریں ہی بنوا دیں تاکہ ہم لوگ آسانی سے انہی میں زندہ دفن ہو جائیں تا کہ ہمیں سکون مل سکے۔ آفٹر آل ہمارے وزیر اعظم نئے پاکستان کے حکمران کا نیک مشورہ ہے۔ فرمان مصطفی ۖہے کہ یہ دنیا کی زندگی مومن کے لئے ایک آزمائش ہے ایک قید خانہ ہے(دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے) اور وہ اس میں سزا کاٹ رہا ہے جس کے بعد اس کی ابدی جزا کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔ زندگی آسانی کا نام نہیں مشکلات سے عبارت ہے۔ویسے بھی انسان کسی حال میں خوش نہیں۔ ہم نے خود اپنی زندگیوں کو مشکل میں ڈالے رکھنے میں کردار ادا کیا۔خود کو مشکلات میں مبتلا ہم نے خود کئے رکھا۔ ہمیں سکون تب ہی ملے گا جب ہماری آخری سانس نکل جائے گی۔خوشی تو اس بات کی ہے کہ ہمارے وزیر اعظم کو یہ الہام ہوچکا ہے کہ پاکستان کی غریب ،بے بس ،لا چار عوام کو قبریں نصیب ہو جائیں گی اور انکو قبروں میں سکون مل سکے گا ۔بہت شکریہ حاکم وقت حشر میں پھر ملیں گے۔۔۔

مجھے خوف کہاں موت کا
میں تو زندگی سے ڈر گئی ہوں


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں