394

جزیرہ ہفت تلار استولا آئرلینڈ پسنی گوادر (سید صفدر رضا)

ہمارا وطن عزیز دنیا بھر میں اپنی خوبصورتی کی نظیر نہیں رکھتا اس کے شمالی علاقے بے مثل اور حسین و دلکش ہیں مگر جنوبی سرزمین جو شاہ عبداللطیف بھٹائی، لال شہباز قلندر کی دھرتی کہلاتی ہے مگر اپنے ساحلی علاقے کی وجہ سے یہ ملکی دفاع میں اہمیت کی حامل ہے۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے جزیروں سے نوازا ہے جو اپنی خوبصورتی اور تاریخی لحاظ سے منفرد مقام رکھتے ہیں۔ کراچی سے پسنی تک کا سفر کوسٹل ہائی وے کی وجہ سے زیادہ تکلیف دہ اور دشوار گزار نہیں ہے بلکہ ساحلی پٹی اپنے ساتھ ملیر بیچ راج کماری آف بوپ مٹی آتش فشاں، بوزی پاس، پراسرار چٹانیں، بنگال نیشنل پارک اسمارا کے درمیان سے گزرتے ہوئے خوبصورت سمندری مناظر سیاحوں کو بار بار اپنی کشش سے متوجہ کرتے رہتے ہیں۔ ہسنی ضلع گوادر اور صوبہ بلوچستان کا اہم شہر ہے۔ یہاں کا مقبول ترین پیشہ ماہی گیری ہے لیکن ساحلی علاقے سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر جزیرہ ہفت تلار یا استولا ائیر لینڈ مہم جو سیاحوں کو اپنی تاریخی اور انفرادی حیثیت کی وجہ سے متوجہ کرتا ہے۔

دوستو کراچی تا پسنی کا سفر تقریبا 7 گھنٹوں اور دلرباہ مناظر دیکھنے ہوئے طے کرنا ایک جانب مگر دل میں تو اور ہی جذبات جنم لیتے ہیں۔ پسنی پہنچ کر رات کا قیام اور سفر کی تھکاوٹ دور کر کے نئے دن کا آغاز جوان ہوتی امنگوں کے ہمراہ ناشتہ کر کے جزیرہ ہفت تلار جانے کے لئے ساحل پر پہنچے، جہاں پہلے سے ہی کچھ سیاح اس بات کے منتظر تھے کہ موٹر بوٹ کی سواریوں کی تعداد پوری ہو تو سفر کا آغاز ہو۔ رجسٹریشن رات کو ہی کرالی تھی۔ موٹر بوٹ کے عملے میں کئی ٹرینر طبی امداد کے ماہر اور استولا ائیر لینڈ کی رہنمائی والے گائیڈ اور تیراکی کے ماہر موجود تھے۔ خوشدلی سے لانچ اسٹارٹ کرتے ہوئے عملے نے سلامتی کی دعائیں اور سفر کی بخیر تکمیل کی دعا کرتے ہوئے سمندر میں بڑھتے ہچکولے کھاتے سفر کے بعد استولا ائیر لینڈ پہنچے۔

اسکو ہفت تلار کہنے کی وجہ سات بلند پہاڑیوں کا سلسلہ ہے کشتی لنگر انداز ہوئی اس جزیرے کے فضائی نظارا کرنے والوں کے نزدیک اس کی شکل ایک مچھلی کی مانند ہے اس کی لمبائی تقریباً پونے سات کلومیٹر اور چوڑائی لگ بھگ ڈھائی کلومیٹر ہے اس کی اونچائی مختلف جگہ پر ڈھائی سو فٹ ہے اس میں کئی غاریں ہیں جن میں ماہی گیر انواع و اقسام کی خوبصورت مچھلیاں پکڑتے ہیں اور بھاری معاوضے کے عوض فروخت کرتے ہیں۔ یہاں بوتل کے منہ والی ڈولفنز بھی پائی جاتی ہیں جزیرے پر کوئی درخت نہیں پائے جاتے ہاں سخت جان کیکر کا درخت پایا جاتے۔ موسمی گھاس پھوس بارش جو کم ہوتی ہے کے دنوں میں پائی جاتی ہے۔ میٹھا پانی بالکل نہ ہے آپ ضرورت کا منرل واٹر ساتھ لائیں واش روم نہ ہونے کی وجہ سے پورٹ ایبل ٹائیلٹ بوٹ والے ساتھ لاتے ہیں۔ سنورکنگ، سکوبا ڈائیونگ اور ڈائیور اپنی دلچسپی کے شعبوں میں مشغول ہوگئے سکیورٹی کے عملے نے ذمہ داری سنبھال لی ہم تو پانی سے ڈرتے ہیں کنارے پر ہی پانی سے لطف اندوز ہوئے۔ گائیڈ نے بتایا کہ یہاں جزیرے پر ایک چھوٹی اور قدیم ٹوٹی پھوٹی مسجد ہے جو حضرت پیر خواجہ خضر سے منسوب کی جاتی ہے اور ہندو دیوی کلی کے مندر کے کھنڈرات بھی پائے جاتے ہیں اس لئے اس جزیرے کو ستا دپ بھی کہا جاتا تھا۔

سہ پہر کو سب لوگ پانی سے باہر کھانے پر اکٹھے ہوئے کھانا بہت لذیذ تھا رفتہ رفتہ سورج غروب ہو رہا تھا سمندر کے سینے پر آخری کرنیں بکھیر رہا تھا سب کیمپ نسب کرنے میں مصروف ہوگئے۔ تھکاوٹ کا عنصر چہروں پر عیاں تھا اب ایسے لگنے لگا جیسے سمندر نے سورج نگل لیا ہو اس جزیرے پر دسمبر تا فروری سیاحت کے لئے مناسب وقت ہے سورج کے غروب ہونے کے بعد جزیرے پر لائٹ ٹاور جو رات میں ماہیگیروں اور نیوی کی اور بحری جہازوں کی رہنمائی کرتا ہے جو 1987 میں شمسی توانائی پر منتقل کرنے سے روشن ہوتا ہے۔ ستمبر تا مئی میں ماہی گیروں کا محور و مرکز بن جاتا ہے اور جون تا اگست سمندری لہروں کے اچھال کی وجہ سے ملاح سمندر کا رخ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اب رات کی سیاہ چادر ماحول پر پھیل گئی، یہ خوش قسمتی تھی کہ چاند کی چاندنی چار سو پھیلتی جارہی تھی ماحول پر عجیب سا سحر طاری ہوتا جارہا تھا۔ بون فائر کے لیے الاؤ روشن ہوچکا تھا۔ سارے دن بھر کس کس طرح لطف اندوز ہوئے گائیڈ بتارہا تھا کہ یہاں سرد موسم میں سائیبیریا سے آنے والے پرندے اسے مزید پرکشش بنا دیتے ہیں یہاں ایک خاص قسم کے چوہے پائے جاتے ہیں جو پرندوں کے انڈوں کو کھا جاتے ہیں یہاں زیر آب جیلی فش بھی پائی جاتی ہے۔ گرین ٹرٹلز سبز کچھوے یہاں کی خاصیت ہیں ان چٹانوں پر ان کے چلنے پھرنے کے نشان واضح دیکھے جاسکتے ہیں۔

سکندر اعظم سے بھی اس جزیرے کو خاصی نسبت ہے یہ جزیرہ غیر آباد اور ساحلی پٹی سے اور بنی نوع انسان کی پہنچ ذرا دور ہونے کی وجہ سے آلودگی سے بچا ہوا ہے۔ ماحول صاف شفاف ہے، یہاں کے ماحول کو صرف ماہی گیروں کی بڑھتی ہوئی مداخلت سے خطرہ ہے یہ پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ اب سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو یقیناً سیاحتی صنعت کے فروغ میں معاون ثابت ہو گا۔ اگلی صبح واپسی پر طلوع آفتاب کا منظر نہ صرف دل فریب تھا بلکہ روح گرما رہا تھا حسین اور منفرد لطف لئے واپس لوٹے اور ایڈوینچر سے بھرپور وزٹ اختتام کو پہنچا۔ ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا ہے کہ اس نے ہماری پاک سرزمین کو کن کن نعمتوں سے نوازا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں