60

آبرو سے مرنے کا فیصلہ ہمارا ہے! (نسیم الحق زاہدی)

میرے آقا کریم ۖ کا فرمان ہے کہ وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا جس میں قانون امیر کے لیے کچھ اور ہوتا ہو اور غریب کے لیے کچھ اور ہوتا ہو امام ابن تیمیہکا قول ہے کہ کفر پر قائم معاشرہ چل سکتا ہے مگر ناانصافی پر قائم معاشرہ نہیں۔ عہد حضرت عمر فاروقؓ میں ایک بار مدینہ منورہ کی سرزمین پر زلزلہ آیا تو حضرت عمرؓ نے اپنا درہ زمین پر مارتے ہوئے زمین کو مخاطب کرکے فرمایا کہ کیا عمر تم پر انصاف نہیں کرتا اس کے بات آج تک اس پاک جگہ پر زلزلہ نہیں آیا۔ یہ تھا خلفائے راشدین کا دور اور “ریاست مدینہ” امیر الپاکستان کا اقتدار میں آنے سے پہلے اور اب تک یہی فرمان رہا ہے کہ وہ وطن عزیز کو “ریاست مدینہ” بنا کر ہی دم لیں گے ۔کیونکہ وہ خلفائے راشدین کے ادوار سے بہت متاثر ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت بری طرح ناکام ہوچکی ہے اس کی وجہ انصاف کے نام پر “انصاف” کا قتل ہے۔پہلے سو دن میں سب کچھ بدل دینے کی باتیں، سادگی مہم، وزاء کے پروٹوکول کے خاتمے سے لیکر نوکریاں، گھر، صحت کارڈ، فوری انصاف، پولیس اصلاحات، قرضہ نہ لینے کی باتیں، مہنگائی کا خاتمہ وغیرہ جیسے بلندوبانگ دعوے حسب دستور نکلے اور اب کرونا جیسا عذاب الٰہی میں ٹائیگر فورس کا قیام۔ یہ کیسی اور کہاں کی تبدیلی ہے کہ غریب کل بھی غریب تھا، آج بھی غریب ہے اور غریب ہی مرے گا۔ انصاف کل بھی بکتا تھا انصاف آج بھی بکتا ہے اور ہمیشہ بکتا رہے گا، پچھلے ستر برس سے ان مٹھی بھر سیاست دانوں نے اس ملک کو لوٹنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ہے اس کی اصل وجہ قوم کی بے راہ روی ہے کیونکہ رحمت کائنات جناب حضرت رسولۖ کا فرمان کریم ہے کہ جیسی قوم ہوتی ہے اللہ تعالیٰ ان پر ویسا ہی حکمران مسلط فرما دیتا ہے۔خدانخواستہ وطن عزیز کی دھرتی اتنی بانجھ ہوچکی ہے؟۔ کہ محمد بن قاسم، سلطان محمد فاتح، سلطان صلاح الدین ایوبی یا پھر غازی ارطغرل جیسا فرزند نہیں جن سکتی مگر افسوس کہ ہم اس وقت زوال اور انحطاط کی اس منزل کو پہنچ چکے ہیں۔ ہم بحیثیت ایک زندہ قوم کے ختم ہوکر مردہ ہو چکے ہیں ۔ہم اس قدر سرکش اور باغی ہو چکے ہیں کہ اب اگر ہماری اصلاح کے لیے آسمان سے فرشتے بھی اتر آئیں تو شاید ہم لوگ پھربھی نہ سدھر سکیں۔ کیا اس آزاد ریاست کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔؟ کیا اس کی تعبیر کے لیے قائد اعظم نے دن رات محنت کی تھی؟ کیا اس آزاد ریاست کے حصول کے لیے مائوں نے اپنے بچوں بہنوں نے اپنے بھائیوں اور سہاگنوں نے اپنے سہاگ کی قربانیاں دی تھیں۔؟ اس وقت فرنگی راج، ہندئو راج اور سکھ راج تھا عزتیں اس وقت بھی محفوظ نہ تھیں آج وطن عزیز میں وڈیرہ راج، جاگیردار راج، چوہدری راج، سردار راج، وزیر راج ،ایم این اے راج، ایم پی اے راج، وکلاء راج، پولیس راج حتیٰ کہ مولوی راج موجود ہے۔ اور یہاں تو سو سال کی مردہ خواتین سے لیکر تین ماہ کی جو ازادی اور آدم زادے کی عزت محفوظ نہیں ہے۔ کہاں ہے وہ انصاف، انصاف کا راگ کہ اب قاضی کا قلم نہیں بکے گا، اب وکیل ایک مجرم کو بچانے کے لیے جھوٹی دلیلوں کے انبار نہیں لگائے گا۔ ایک ڈاکٹر چند ٹکوں کی خاطر انسانی اعضاء نکال کر فروخت نہیں کرے گا، ایک ماں اپنی اولاد کی بھوک کے ہاتھوں مجبور اپنی عفت وعصمت نہیں بیچے گی، پولیس والے پیسوں کی خاطر کسی مظلوم ماں کے واحد سہارے کو جھوٹے پولیس مقابلے میں گولیوں سے چھلنی نہیں کرے گے، رشوت و سفارش کا زمانہ ناپید ہوجائے گا۔کچھ بھی تو نہیں ہوا اس مظلوم ذہنی مریض صلاح الدین کو اذیت ناک موت کیوں مارا گیا؟ اس لیے کہ اس کا جرم غریبی تھا، سانحہ ساہیوال کے مظلوموں کو انصاف مل گیا؟ سانحہ چونیاں انصاف کی مثال قائم ہوگئی؟ خانیوال تھانے دار کا دوستی سے انکار پر ماں کے سامنے اسکی بیٹی کو برہنہ کرکے ڈانس کرنے والے سانحہ پر بھی انصاف کی لازوال داستان رقم ہو چکی۔؟ ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کہ اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو پھر آج تک کسی وڈیرے بااثر کو سزا کیوں نہیں مل سکی ملک چوروں کو پروٹوکول اور روٹی کے چوروں کو تختہ دار پر کیوں لٹکا دیا جاتا ہے۔ آج تک کسی مجرم پولیس والے کو سزا نہیں مل سکی اس کی وجہ انصاف کا دوہرا معیار ہے اب ایک پولیس والا اپنی ساتھی کو کیسے گناہ گار لکھ سکتا ہے تھانے آج بھی بکتے ہیں۔ اگر گناہ سب کے سامنے ہوتا ہے تو اس کی سزا بھی سب کے سامنے ہونے چاہیے یہاں آکر ہمارا آئین اجازت نہیں دیتا اگر یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے تو اس میں اسلامی سزائیں کیوں نہیں دی جاتیں اور اگر یہ جمہوریہ ملک ہے تو یہاں جمہور کا قتل عام کیوں ہے؟ عید کے روز کھڈیاں میں پیش آنے والا دل سوز سانحہ حافظ سمیع الرحمن کو ناجائز تعلقات نہ رکھنے کے جرم میں ایک پولیس والے نے سرعام گولی مار کر ہلاک کردیا اس پولیس والے کا کردار اچھا نہیں یہ اہل علاقہ کا کہنا ہے مگر اس کو سزا مل سکے گی بالکل بھی نہیں پہلی بات کہ مقتول کے والدین شریف النفس لوگ ہیں ڈرا دھمکا کر معافی نامہ لکھوالیا جائے گا یا پھر اس حافظ قرآن کو چور ثابت کردیا جائے گا یا پھر کیس اتنا کمزور ہوگا کہ ملزم باعزت بری اور بات ختم ۔ لاہور کی ایک پارک کے اندر ایک غبارے بیچنے والے معصوم بچے کو ایک سرمایہ دار کا کتا دن دیہاڑے نوچتا رہا اور لوگ اوپر سے ویڈیو بناتے رہے۔ بحریہ ٹائون اسلام آباد میں ایک امیر زادے نے طوطا اڑ جانے کی صورت میں آٹھ سال کم سن ملازمہ کو زمین پر پٹخ پٹخ کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ایسے ایک نہیں ہزاروں بلکہ لاکھوں سانحات رونما ہوچکے ہیں اور میں پورے وثوق سے یہ کہتا ہوں کہ آج تک کسی ایک مجرم کو بھی سزا نہیں مل سکی کیونکہ پیسے میں بڑی طاقت ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک بریکنگ نیوز دیکھنے کو ملی تھی کہ ایک پان والے کو پانچ دن کی قید چھ سال بعد رہائی ملی اور فاضل جج نے اپنے ریماکس میں فرمایا کہ اس طرح کا انصاف تو پتھر کے دور میں بھی نہیں تھا۔ ہم بھی تو یہی پیٹ رہے ہیں کہ اس طرح کا انصاف تو پتھر کے دور میں بھی نہیں تھا۔ آج وطن عزیز ایک نازک ترین حالات سے گزر رہا ہے ایک طرف کرونا وباء دوسرے ممالک میں ختم ہوکر پاکستان میں اپنے پنجے گاڑ چکی ہے دوسری طرف بے روزگاری، غربت افلاس نے انسانوں کو نگلنا شروع کردیا ہوا ہے۔ اور ادھر ہمارا حنوط شدہ میڈیا اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کی بات کرنے کی بجائے عذاب سے لڑنے کی تلقین کررہا ہے۔ حضرت رسولۖ نے فرمایا تھا کہ ”وبائیں کیوں آتی ہیں ”جب کسی قوم میں علانیہ فحش (فسق و فجور اور زنا کاری) ہونے لگ جائے، تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں جو ان سے پہلے کے لوگوں میں نہ تھیں۔(ابن ماجہ 4019) باقی تبدیلی کا یہ سفر ” ایّاکَ نَعْبُدُ وَ ایّاکَ نَسْتَعین۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں