66

عدل کب صاحب اولاد ہوگا؟ (نسیم الحق زاہدی)

افلاطون کہتا ہے کہ “قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جس میں کیڑے مکوڑے تو پھنستے ہیں مگر بڑے جانور اس کو پھاڑ کر نکل جاتے ہیں”افلاطون کے اس قول کی لاکھوں کے حساب سے زندہ مثالیں وطن عزیز میں مل سکتی ہیں کہ کس طرح ایک روٹی چور ،فروٹ چور کو عمر قید ہوگئی اور ملک چور کو باعزت بری کرتے ہوئے عدالت نے معافی بھی مانگی ۔چلو ماناکہ قانون کی آنکھوں پر تو پٹی بندھی ہوئی ہے مگر ہماری جاہل اور شخصیت پرست عوام بھی اندھی ہے ۔ایک غریب فروٹ چرانے والے بچارے کو تو سرعام ڈنڈے،ٹھڈے ،مکوں اور لاتوں سے مار مار کرماردیتے ہیں اور ملک لوٹنے والوں کو لیڈر بنا کر انکی قصیدہ گوئی کرتے ہیں ۔لاکھوں لوگوں نے میڈیاپر دیکھا کہ ایک سابق ایم پی اے مجید اچکزئی نے سرعام دولت اور اقتدار کے نشے میں یقینا شراب کا نشہ بھی ہوگا جوکہ بعد میں زیتون بن گیا ہوگامیں آکر ٹریفک سارجنٹ کو گاڑی تلے کچل دیا کیس چلا اور عدم ثبوت کی بنا پر عدالت نے باعزت بری کردیا۔ مجید اچکزئی کو علم تھا کہ قانون اس کے در کی لونڈی ہے تبھی تو میڈیا والوں کو بھی گالیاں دے رہا تھا ۔ریاست مدینہ کے دعویدار حاکم پاکستان آپ نے تو وہ مشہور واقعہ پڑھا ہی ہوگا جوصحیح بخاری اور احادیث کی دیگر کتب میں موجود ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی تو نبی کریم ۖسے درخواست کی گئی کہ اس عورت نے چوری کی ہے ،لیکن شریف گھرانے کی ہے ،اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے ،کوئی اور سزاء دے دی جائے۔ نبی رحمت ۖکو یہ بات سخت ناگوار گزری۔ آپ ۖ نے فرمایا کہ قومیں اسی طرح تباہ ہوئی ہیں کہ ان میں جو بااقتدار اور شریف سمجھے جاتے تھے انہوں نے اگر کوئی غلط کام کیا تو انکو سزا ء نہیں دی گئی اور جو کمزور تھے انکو سزاء دی گئی ۔پھر اس کے بعد آپ ۖ نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو کہ یقینا زبان رسول عربیۖ ہی کی زبان صادق سے ادا ہوسکتا تھا ۔آپ ۖ نے فرمایا کہ محمدؐ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو آج میں محمدۖ اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا (متفق علیہ) آپ ۖ نے یہ ثابت کردیا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے ۔اس سے کوئی مستثنیٰ نہیں ۔یہ اتنا صاف اور واضح تصور ہے کہ قانون کی برتری کا اس سے بہتر اور واضح تصور پیش نہیں کیا جاسکتا ۔اسی طرح وطن عزیز میں تما م بااقتدار اور صاحب ثروت افراد کو یہ علم ہوتا ہے کہ قانون جو کہ انکے در کا غلام ہے ان کا کیا بگاڑ سکتاہے زیادہ سے زیادہ انصاف کی بولی ہی لگے گی اور وہ اچھے دام دیکر باعزت بری ہوجائیں گے۔مشہور کامیڈین امان اللہ نے ایک جگت کہی تھی کہ رات اس کے گھر چور آگئے ،میں نے اندر سے کلاشنکوف نکالی اور چور بھاگ گئے ۔پندرہ منٹ بعد پولیس آگئی ،کہ تمہارے گھر کلاشنکوف ہے میں نے دیکھا یا اور کہا کہ بھائی یہ تو بچوں کا کھلونا ہے چوروں کو ڈرایا تھا بس ،پولیس گئی اور چور پھر آگئے ۔سی سی پی اور عمر شیخ کا بیان انتہائی نامعقول اور جاہلانہ تھا ۔انکی رعونت اور فرعونیت سے بھرپور گفتگو کو دنیا بھر میں سنایا گیا، عمر شیخ کی توہین آمیز اور اشتعال انگیز گفتگو نے پوری قوم کو رنجیدہ اور شرمندہ کیا ۔ایک محافظ اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالتے ہوئے مظلوم کو کوس رہا کہ تم نے فریاد کیوں کی؟ سی سی پی او عمر شیخ نے اپنے انداز بیاں سے ہرکسی کو رسوا اور اس کی عزت نفس کو اپنے بوٹوں تلے روندا ہے۔ عمر شیخ سی سی پی او کا تشخص ایک روز بعد ہی دھڑام سے زمین پر آگرا۔ پتا نہیں ایسے ہیرے ہمارے حکمران کہاں کہاں سے ڈھونڈلاتے ہیں۔ جناب نے کبھی دین کا مطالعہ کیا ہوتا تومعلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں ایک خاتون زیورات کے ساتھ اکیلی سفر کررہی تھی تو ایک شخص نے اسے تنبیہ کی کہ اور کہا کہ تو اتنے زیورات کے ساتھ اکیلی کیوں سفر کررہی ہے تو اس خاتون نے جواب دیا کہ تو شاید عمر فاروق کو نہیں جانتا یا تو خود عمر ہے ۔سانحہ گجر پورہ پر چند فصلی اور خود ساختہ تازہ تازہ مولوی اورسوشل میڈیا تک دین کے علمبرداروں نے بڑی سیاست کی کسی نے کہا کہ کہانی میں جھول ہے تو کسی نے خود ساختہ سانحہ قرار دیا ،غرض ہر بندے نے اپنی دانشوری کے جوہر دکھائے ۔بے شک اسلام میں عورت کا محرم کے بغیر سفر کرنا ممنوع ہے میرا اس حدیث شریف پرایمان ہے۔ کہ حضرت رسول عربی ۖ کی زبان اطہر سے یہ کلمات ادا ہوئے آپ ۖ نے فرمایا کہ عورت اپنے محرم کے بغیر سفر نہ کرے ۔ویسے بچے بھی تو محرم ہی تھے اور یہاں ملتان کے اندر دوستوں نے مل کر ایک دوست کی بیوی کو اس کے شوہر (محرم) کے سامنے ریپ کیا ۔بے شک اس عورت نے بغیر محرم کے سفر کرکے گناہ کیا مگر اس کا ہرگز یہ مطلب بھی نہیں کہ اس اسلامی ریاست میں درندے اتنے آزاد ہوں کہ جب چاہیں جس وقت اور جس کو چاہیں کھا جائیں ۔جنگل کا بھی کوئی قانون اور اصول ہوتا ہے ۔اب آتے ہیں اس طرف جنہوں نے اسمبلیوں میں بیٹھ کر اسلامی سزائوں کی مخالفت کی ۔اصل میں وہ جانتے ہیں اگر ریپ کیسز میں پھانسیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تو انکی باری بھی جلد آجائے گی ۔کیونکہ یہ بات پورے وثوق کے ساتھ قابل تحریر ہے کہ وطن عزیز میں سو فیصد ایسے سانحات میں یہ عوامی نمائندے یا تو خود یا پھر انکے سہولت کار ملوث ہوتے ہیں ۔اور پولیس کا فرض عوام کی تذلیل و تضحیک کرنا ہے اور یہاں سارے قانون غریبوں پر لاگو ہوتے ہیں یہاں شاہ زیب جتوئی بے قصور ،شرجیل میمن بے قصور ،ایان علی بے قصور،انور مجید بے قصور ،راجہ پرویز اشرف بے قصور ،مجید اچکزئی بے قصور،۔یہاں معاشرے کا ایک کردار ماسٹر اللہ دتہ جو کہ ایک کمزور انسان ہے بگڑے ہوئے رئیس زادوں کے آوارہ کتے اسکی بیٹی کو سکول ،کالج آتے جاتے تنگ کرتے تھے ،اس نے پولیس اسٹیشن شکایت کی تو پولیس والوں نے اس کے بیٹے کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کرلیا اور لڑکی کا دن دیہاڑے ریپ کردیا گیا، یہاں ماسٹر اللہ دتہ مجرم ہے ۔یہاں مولانا جس نے صحابہ کرام کی گستاخی کرنے والوں کو اخلاق سے سمجھانے کی کوشش کی تو انکو راتوں رات مسجد کی کھڑکی ٹور کر مسجد کا تقدس پامال کرتے ہوئے مذہبی دہشتگردی کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا، مجرم ہے۔ یہاں غریب حمیدے کی بیوہ جو کہ اپنی عزت کی حفاظت کرتے ہوئے اپنے معصوم بچوں کی بھوک کو مٹانے کے لیے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے، کو چند ہوس کے پجاری کتوں نے نوچ ڈالا وہ مجرم ہے ۔یہاں وہ قلم کا مزدور جس کے گھر میں فاقہ کشی کے سواء کچھ نہیں اور افلاس اسکے گھر کی دولت ہے جس کو سچ کی بیماری لگ گئی اور اسے سرعام گولیوں سے بھون دیا گیا مجرم ہے۔ یہاں وہ پندرہ سالہ بچہ جس کی ماں بیمار ہے اور گھر میں کھانے کو کچھ نہیں اور وہ اپنی بھوک کو مٹانے کے لیے ایک کلو فروٹ چوری کرتا ہے مجرم ہے۔ منصف ہو تو حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے ؟ آخر میں ایک سوال عادل وقت سے جب ظلم چند منٹوں میں ہوتا ہے تو سزا ملے میں سالوں کیوں لگتے ہیں؟؟؟


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں