166

آگہی (نرجس کاظمی)

“عزت و وقار کے خلاف جرائم ،اور سائبر کرائم کی جانب سے سزا کا قانون اور سزا تین سال قید یا دس لاکھ جرمانہ یا دونوں ہی یعنی جرمانہ اور سزا”

ہم سب ہی جانتے ہیں۔ آج کا دور “cyber age”کہلاتا ہے۔ اس دور کی رنگینیاں تو بہت ہیں۔جن سے ہم لطف اندوز بھی ہوتے رہتے ہیں۔مگر اس کی سنگینیاں ہم میں سے کم لوگ ہی جانتے ہیں۔ ہمیں بہت آسان لگتا ہے کہ ہم اپنے گھر بیٹھ کر انٹرنیٹ پہ مختلف سوشل میڈیائی پیج کو اپنے استعمال میں لا کر خوب ،خوب شہرت اور دولت سمیٹیں۔ مشہور ہونے کیلئے اب ہمیں متعلقہ اداروں کی خاص ضرورت بھی نہیں رہی۔ اگر مشہوری کیلئے بات یہاں تک ہی رک جائے تو ٹھیک ہے۔ مگر کچھ لوگوں نے شہرت اور ہمدردیاں سمیٹنے کیلئے کچھ اوچھے ہتھکنڈے بھی استعمال کرنے شروع کر دئیے ہیں۔ 

مثال کے طور پر پہلے کسی بہت بڑے ادارے کے لوگوں کیساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے بات چیت شروع کرنا۔ پھر ان کیساتھ تعلقات بڑھانا۔ان کیساتھ تصویریں بنا کر اپنی وال پہ لگانا اور اگر دوسری شخصیت اسے  ہر طرح کی عزت و تکریم  دے اور اس کی فالوور شپ بڑھانے کیلئے اس کی تصاویر اپنی وال پہ لگا لے۔ اسے ہر طرح سے سپورٹ کرے۔ اور پھر جب مطلوبہ نتائج حاصل ہوجائیں تو اب باری آجاتی ہے اصل کام کی۔ اب چونکہ فرینڈز میوچل ہو چکے ہیں اور فالوورز بھی دونوں طرف بیٹھے ہیں تو کام کافی آسان ہوچکا ہے۔

کسی بھی بات پہ ایک با اثر فرد جو کہ اب فالتو ہی نہیں بلکہ آپ کے مقاصد کے راہ میں رکاوٹ بھی بن سکتا ہے/ یا آپکو ایک ٹاسک دیا جاتا ہے کہ اس شخصیت کو ہر لحاظ سے تباہ کرنا ہے یا اس کے متعلقہ ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے اپنے منصوبے کے مطابق۔ سادہ ترین الفاظ میں  تخریب کار یا دہشت گرد تنظیموں کے دئیے گئے ٹارگٹ تک حاصل کئے جاسکتے ہیں۔یہ سب کام کیسے ہوتے ہیں۔ آتے ہیں اس کی وضاحت کی طرف۔

  تو سب سے پہلے یہ لوگ  اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  پہ خود کو بے بس اور مجبور ظاہر  کر کے کہانی گھڑتے ہیں۔  جو کہ کچھ اسطرح ہوتی ہے کہ۔۔۔

سب سے پہلے راتوں کی نیندیں اور دن کے سکون چھن جانے کی دہائی ڈالی جاتی ہے اور چونکہ سوشل میڈیائی دوست اب ان کا سب کچھ بن چکے ہیں تو وہ  اپنے دکھ ان کے آگے پھولنے شروع ہونے لگے ہیں۔

  اس کہانی میں باقاعدہ اس شخص کا نام ، وہ جس ادارے میں کام کرتا ہے اس ادارے کا نام  شامل کیا جاتا ہے کہ موصوف/موصوفہ اس ادارے میں کام کرتا/ کرتی ہے ۔

میں تو انہیں بہت اچھا سمجھتا/ سمجھتی تھی وغیرہ ،وغیرہ۔۔۔۔۔۔ کہانی کے سکرپٹ کے دوسرے مرحلے میں وہ کچھ بھی کہہ سکتا/ سکتی ہے۔ میرے فرینڈز/ فالوورز کو اپنی آئی ڈی میں ایڈ کیا اور ان کیساتھ میرے بارے میں غلط معلومات شئیر کیں وغیرہ، وغیرہ ۔ 

اس کے بعد پھر کھل کر اس شخصیت کی عزت کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں یہ سوچ کر کہ چونکہ دوستوں کی لسٹ دونوں طرف اب ایک ہو چکی ہے تو کام آسان ہوچکا ہے۔ جو دل ہے کھل کر کہہ لو مطلوبہ شخصیت تو گھٹیا حرکتوں پہ بلاک مار یا تھوک کے چلی گئی/چلاگیا۔ فرینڈ لسٹ والے الو اور گدھے ہیں انہیں ہم  جو بھی سنائیں گے سن کر یقین بھی کر لیں گے۔اور ہمدردی میں دوسرے فریق کو بے نقط سنائیں گے۔ یہ جانے بغیر کہ یہ تو ایک باقاعدہ سازش کے تحت کیا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں وہ کن الفاظ کو اپنا ہتھیار بناتے ہیں یہ ان کے دل اور دماغ پہ منحصر ہے۔ بہرحال یہ ایک انتہائی گھٹیا فعل ہے۔ اور آپ کی زبان کے چسکے دوسری طرف کیا قیامت ڈھاتے ہیں اس کیلئے ایک چھوٹی سی کہانی دوبارہ شامل کرنا ضروری سمجھتی ہوں۔ 

پرانے وقتوں میں زیادہ تر آبادیاں دریاوں کے کنارے آباد ہوا کرتی تھیں اور ایک آبادی سے دوسری آبادی تک جانے کیلئے لوگ دریاوں کے کنارے موجود کشتیاں استعمال کرتے تھے۔ ملاح اپنے علاقے سے رابطے کا سب سے بڑا ذریعہ ہوا کرتے تھے،اپنے علاقے اور دوسرے دیہاتوں کا سب سے زیادہ  معروف شخص بھی۔ ایک موقع پر ایک شادی کی تقریب میں شرکت کیلئے بہت سے لوگ پار کے گاوں سے آئے۔ایک ملاح کی کشتی بہت بڑی تھی۔اور زیادہ تر لوگ اسی کی کشتی کو فوقیت دیتے تھے یہاں تک کہ واپسی کا وقت بتاتے ہوئے اس کو پابند بھی کیا جاتا تھا کہ اس وقت موجود رہنا ہم نے واپس بھی تمہارے ساتھ ہی جانا ہے۔ایسے ہی ان باراتیوں نے اس ملاح کو بھی پابند کردیا تاکہ واپسی پہ وہ ان کو دستیاب ہوسکے۔اگلے دن تڑکے سویرے وہ ملاح چاک و چوبند ان لوگوں کو دریا کنارے تیار کھڑا ملا۔سب لوگوں نے اس ملاح کو ان کے حکم  کی بجا آوری پہ شاباشی دی اور آرام سے کشتی پہ سوار ہوگئے۔ ملاح نے جیسے ہی کشتی کھینا شروع کی اچانک ایک آواز بلند ہوئی اوئے فلانے ڈھمکانے ملاح! سنا ہے، تیری بیٹی گھر سے بھاگ گئی ہے؟؟ ملاح نے بھی باقی لوگوں کی طرح چونک کر کچھ دیر مخاطب کی طرف  دیکھا۔اور سر جھکا کر کشتی کھینے لگا۔اب لوگوں کی نظروں کا زاویہ بدل گیا ان کی نظریں ملاح کے جھکے ہوئے سر اور زرد ہوتے ہوئے چہرے پر تھیں جلد ہی تمام لوگ معنی خیز انداز میں ایک دوسرے کو دیکھنے چہ مگوئیاں کرنے لگے۔اتنی دیر میں دریا کا دوسرا کنارہ آگیا۔کشتی کنارے لگی تمام مسافر اس کے ہاتھ میں کرایہ اور کندھے پہ دلاسے کی تھپکی دے گھروں کو روانہ ہوگئے۔آخر میں وہ شخص جس نے اس کو بیٹی کی  افسوس ناک خبر پہنچائی تھی۔سامنے آیا اور کرایہ پکڑاتے کاندھے پہ تھپکی دیتے زور سے ہنسا اور بولا۔اوہ یار ہنس دے میں نے مذاق کیا تھا۔ملاح نے اپنی ہی سوچوں میں گم دور جاتے آخری مسافر کی طرف دیکھتے ہوئے افسردہ سے لہجے میں سرگوشی کی “اب تو بھاگ چکی”۔

یہ کہانی دوہرانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ نے بڑی تفصیل سے کسی کے ذاتی راز اگلنے کی کوشش بھی کی، اس کے بارے میں جھوٹی باتوں کو اس کے معزز ادارے کیساتھ جوڑ بھی دیا۔ اسی ادارے کے ہائی آفیشلز پہ کیچڑ بھی اچھال دیا۔ اور پھر آخر میں جھوٹے پہ لعنت ڈال میدان سے یہ جا وہ جا۔ کہ جب کبھی بات ہوگی تو معذرت کی دو سطریں لکیروں گھسیٹ کہ جان چھڑا لیں گے اور ان لکیروں کی طرف دیکھتا بھی کون ہے۔ مطلب آپ اپنے پورے مقاصد حاصل کر کے بڑی بھی ہوجائیں گے۔ اور بات بھی ختم شد۔۔

مگر بات یہاں پر پرانے ملاح کے دور میں ختم ہو جاتی تھی یہ نیا دور ہے صاحب آج کے ملاح کے پاس آئی/ اینڈرائیڈ فونز ہیں۔ وہ بات ختم نہیں کرے گا۔ بھری کشتی میں بیٹھے مسافروں کے سامنے سپیکر آن کرے گا اور حتمی معلومات حاصل کر کے آپ کی پین دی سری کرنے کیلئے آپ کے گریبان پہ ہاتھ ڈال کر کشتی سے بیچ دریا پھینک کے ہاتھ جھاڑ کے باقی کشتی سواروں سے کڑکدار آواز میں پوچھے گا۔ ہاں بھئی! ” ہور کوئی”؟؟ تو بھیا گہرے پانی میں ڈوب کے مرتے ہوئے کو دیکھ کر کون ملاح کی بیٹی کو گھر سے بھگانے جیسے، جھوٹے پروپیگنڈے کا حوصلہ کرے گا۔ 

اگر ابھی تک آپ کو ” سائبر کرائم کے حوالے سے زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ تو میں بتاتی چلوں کہ اگر کوئی آپ کا باقاعدہ نام لے کر سوشل میڈیا پہ آپ کی کردار کشی/ شہرت کو نقصان/ بہتان/ الزام جیسے افعال کا مرتکب ہوتا ہے جسے انگریزی میں 

character assassination/Defaming

کہتے ہیں۔ تو آپ شخص پہ سائبر کرائم کے تحت مقدمہ درج کروا سکتے ہیں۔ یاد رکھیں آپ پہ تہمت لگانے والے نے جتنی زیادہ تہمتیں لگائی ہوں گی۔ یا اپنی طرف سے “جتنا زیادہ گڑ ڈالو اتنا میٹھا والا”  کام کیا ہو۔ اس پہ مقدمہ بھی اتنا ہی زیادہ سخت ہوگا۔

آپ کو مزید بتاتی چلوں کہ سائبر کرائم بل کے تحت ایسا مواد نشر یا شائع کرنا جرم قرار دیا گیا ہے جس سے کسی شخص کی کردار کشی ہو یا اس کی ساکھ کو نقصان پہنچے۔

اس قانون کے حوالے سے مکمل طور پر جاننے کیلئے آپ سائبر کرائم کے پیج پہ بھی جاسکتے ہیں مگر آپ کو بتا دوں کہ سائبر کرائم نہ صرف آپ کے دکھ کا مداوا بھی کرتا ہے اور زخموں پہ مرہم بھی لگاتا ہے۔ میری آپ سب سے درخواست ہے کہ کسی کے لگائے ہوئے الزامات پہ خاموش نہ رہیں یہ ملک ہم سب کا ہے اور ہم سب کو یکساں حصول بھی حاصل ہو چکے ہیں سائبر کرائم کی ٹیم ایک بہترین تربیت یافتہ ٹیم ہے جس کی ٹریننگ جدید اصولوں کی بنیاد پہ کی گئی ہے ۔ کسی کی کردار کشی کی سزا کے حوالے سے بھی بتادوں۔

عزت و وقار کے خلاف جرائم کے تحت کسی معلوماتی نظام مثلا (سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم وغیرہ) کے ذریعے کسی شخص کے خلاف ارداتاً اور سرعام جھوٹی اور شہرت کے لیے نقصان دہ معلومات کا اظہار یا نمائش یا منتقلی پر تین سال قید یا دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا یا دونوں ہو سکتی ہیں۔

اب یہ آپ پہ منحصر ہے کہ آپ اپنے کیس کو کیسے لے کر چلتے ہیں۔ میرے خیال میں، میں نے تمام معلومات بتا دی ہیں اوپر دی گئی مثالیں مختلف بھی ہو سکتی ہیں میں نے اپنی طرف سے ردو بدل ضرور کیا ہوگا۔ ہاں مگر آج کے دور کے ملاح والی کہانی آپ کی طرف سے ابھی ادھوری ہے مگر بلکل سچی ہے آپ بھی سائبر کرائم کیساتھ مل کر اس کہانی کو پورا کرسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں