مشر محمود اچکزئی کا بنوں میں جرگہ کا اعلان، تاریخی پیش و پس منظر…! (احمد طوری)

پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے رہنما اور سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ پیر 21جون کراچی میں انتقال کر گئے، ڈاکٹر صمد پنزئی نے کہا کہ یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ عثمان کاکڑ کو کیسے چوٹ لگی اور ان کے اہل خانہ کو وہ ڈرائنگ روم میں قالین پر ملے تھے اور ان کے سر سے خون بہہ رہا تھا ,میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے عثمان خان کاکڑ کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا,جناح پوسٹ گریجویٹ کی ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے کہا کہ سر میں مبینہ چوٹ کے بارے میں فی الحال تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔

سینیٹ میں ارکان نے مرحوم سینیٹرعثمان خان کاکڑ کی خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے لئے بڑا کام کیا،نظریاتی سیاستداں تھے، ہمیشہ وفاق کے لئے لڑتے رہے، سول بالادستی مشن تھا، آج پاکستانی سیاست مضبوط آواز سے محروم ہو گئی ہے، عثمان کاکڑ کی وفات سے پاکستان میں جمہوری تحریک اور بالخصوص بلوچستان کے حقوق کی تحریک کو بڑا دھچکا لگا ہے، وہ کمزور طبقوں کی آواز، انسانی حقوق کے بہت بڑے علمبردار اور اٹھارھویں ترمیم کے طاقتور محافظ تھے، بعض ارکان نے عثمان کاکڑ کی وفات کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔

محمود خان اچکزئی نے مرحوم عثمان خان کاکڑ کے جلوس جنازہ سے خطاب کرتے ہوئے ایک نمائیندہ پختون جرگہ بنوں میں بلانے کا اعلان کیا تو اس مضمون میں بنوں میں جرگہ منعقد کرنے کے حوالے سے تاریخی تناظر سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ پختونستان ایشو کے مختلف پہلو ہیں، اس کالم میں باچا خان پر بات ہوگی اور افغانستان پر مختصر بات ہوگی کہ کیسے انہوں نے اس ایشو سے سیاسی فائدے اُٹھائے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانوی امپائر زوال پزیر ہوئی تو ہندوستان کو آزادی دینے فیصلہ کیا اور تقسیم کا فارمولا پارلیمنٹ سے منظور کرنے کے بعد مشاورت شروع کی۔ اور 3 جون 1947 کو وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی سربراہی میں قائداعظم اور جواہر لال نہرو لندن میں ملاقات کی اور اس ملاقات لیاقت علی خان اور سردار عبدالرب نشتر، بلدیو سنگھ، اچاریہ بھی شامل تھے۔ اس کو 3 جون پلان بھی کہا جاتا ہے۔

مگر 2 جون کو باچا خان لندن میں ہی گاندھی کو لے کر لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے ملے اور سرحدی صوبہ کے گونر اولف کیراؤ (دی پٹھان کتاب کے مؤلف) کے ہٹانے کا مطالبہ کیا، جو رد کردیا گیا، یاد رہے ، پختونخواہ میں اُس وقت ڈاکٹر خان صاحب (باچا خان کے بھائی) کانگریس کی طرف سے وزیراعلی تھے، اور باچا خان متحدہ ہندوستان کی سیاست کرتے تھے اور تقسیم ہند کے خلاف تھے۔

1: تین جون پلان کے تحت پختونخواہ میں ریفرنڈم کا فیصلہ ہوا تو باچا خان نے فسادات بھڑکنے کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے شدید اختلاف کیا، باچا خان نے مذہبی بنیادوں پر ریفرنڈم سے بھی اختلاف اسی لئے کیا تھا کہ مذہبی نفرت پھیلے گی اور مذہبی بنیادوں پر قتل و غارت ہوگی۔ یہی وہ وقت تھا جب باچا خان خان عبد الغفار خان نے گاندھی سے کہا کہ “آپ نے ہمیں بھیڑیوں کے حوالے کیا ہے” اور باچا خان اور گاندھی نے صوبہ سرحد ریفرنڈم میں پاکستان اور ہندوستان کی بجائے پاکستان اور پشتونستان تجویز کی۔

تو یہاں سے پشتونستان کی تحریک شروع ہوتی ہے کیونکہ باچا خان پشتونوں کے لئے ایک علیحدہ ملک یا شناخت دینے کے حق میں تھے۔ باچا خان کانگرس پارٹی کے پختونخواہ (اس وقت شمال مغربی سرحدی صوبہ) کے روح رواں تھے اور گاندھی صاحب کے قریبی رفقاء میں شامل تھے۔

تین جون پلان منظوری کے بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن، جناح اور گاندھی لائیو ریڈیو پر تقسیم ہند کا اعلان کیا۔ تو باچا خان نے جناح صاحب کو خدشات سے آگاہ کیا اور قائداعظم کو صوبہ سرحد دورے کی دعوت دی جو سیاسی وجوہات کی وجہ سے ملتوی ہوگیا۔

آٹھ جون کو باچا خان نے گاندھی کو خط لکھ کر باقاعدہ آگاہ کیا کہ وہ “ریفرنڈم کےخلاف ہیں” اور مزید یہ کہ وہ “پاکستان کے خلاف ہیں اور آزاد پشتون ریاست کے حق میں ہيں جو ہندوستان کے ساتھ ملحق ہوگا”

2: گیارہ جون کو ایک اور خط میں باچا خان نے اپنے مطالبات دہرائے۔ مگر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے گاندھی نے 16 جون 1947 کو ایک خطاب میں باچا خان سے مخاطب ہوکر کہا کہ “پختون مذہب کے نام پر قتل و غارت کیوں کریں گے جب ہم سالوں سے خدائی خدمتگار اور عدم تشدد کے فلسفے کی ترویج کررہے ہیں ”؟

3: گاندھی نے باچا خان کی دکھتی رگ ہر ہاتھ رکھا! یہ بات باچا خان کو بھی پتہ تھا کہ پختون یا ہندو یعنی مذہبی لوگ جتنے بھی سیاسی ہوجائیں وقت آنے پر اپنی اصل رنگ دکھاتے ہیں اور وہی تقسیم ہند کے وقت لاکھوں افراد کی قتل و غارت گری سے یہ بات ثابت بھی ہوئی۔

گاندھی اور ہندوؤں سے ناُمید ہو کر اب باچا خان نے قائداعظم سے ملنے کا فیصلہ کیا اور 18 جون کو قائداعظم سے مل کر دو مطالبات انکے سامنے رکھ دیئے۔ نمبر1 یہ کہ ریفرنڈم کو ملتوی کریں اور نمبر2 صوبہ سرحد کو اپنی حال پر چھوڑ دیں، بعد میں کسی وقت ہم (پشتون) فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے۔

4: اُنّیس جون کو ڈان اخبار میں بے بنیاد خبریں شائع ہوئیں اور الزامات لگائے، تو باچا خان نے جناح صاحب سے خط لکھ کر خدشات کا اظہار کیا اور کہا کہ “میں اس لئے آپ سے ملا کہ اگر ممکن ہو ایک معلومات کا ایک پُرامن اور باعزت راہ حل نکالیں، مگر ہم مزید متفق نہیں”۔ جناح اور باچا خان کی یہ ملاقات بے نتیجہ رہی۔

5: بیس جون 1947 کو نیو یارک ٹائم اخبار نے سُرخی لگائی کہ “گاندھی نے پٹھانستان کی حمایت کردی”

یوں پشتونستان کا مسئلہ بین الاقوامی ہوا اور افغانستان اپنا حصہ ڈالنا شروع کردیا۔ مگر باچا خان نے گاندھی سمیت سب کو پٹھانستان کی بجائے پختونستان کا لفظ استعمال کرنے کی تاکید کی۔

پختون مؤرخ ڈاکٹر نفیس رحمن کے مطابق 21 جون 1947 کو باچا خان، ڈاکٹر خان، عبدالصمد اچکزئ (محمود خان اچکزئ کے والد) اور حاجی مرزا علی خان (فقیرایپی)نے بنوں میں ایک جرگہ کیا جس میں بہت سے نمائندہ پشتون مشران شامل تھے۔ بنوں جرگہ میں مشترکہ قرارداد منظور کی کہ” پختونوں کی ایک آزاد ریاست قائم کی جائے، جس کا آئین جمہوری، مساوات اور معاشرتی انصاف کے اسلامی تصور پر مبنی ہو” اس جرگے نے تمام پختونوں کو متحد ہونے اور اغیار کا تسلط قبول نہ کرنے کی اپیل کی۔

اس جرگہ کی قرارداد جناح صاحب کو بھی بھیج دی گئی۔

6: پشاور میں بھرپور کمپین چلاتے وقت باچا خان نے 27 جون کو کارکنوں سے ایک خطاب میں کہا کہ” آئیں! ہم ہرکسی کے تسلط آزاد ایک ایسا ریاست قائم کریں جو دوسرے مسلمان ممالک سے برادرانہ تعلقات رکھیں” برادرانہ مسلمان ممالک کا ذکر کرتے ہوئے باچا خان سب سے پہلا نام “افغانستان” کا لیتے ہیں، بعد ایران، عراق، عربیہ اور مصر کام نام لیتے نظر آتے ہیں۔

7: باچا خان ایک آزاد پختون ملک یا ریاست چاہتے تھے۔ سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ باچا خان نے افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا ذکر کیوں کیا؟ کیا باچا خان آزاد پختونستان حاصل کرکے افغانستان کے جھولی میں ڈالنے والے تھے؟ یہ سوچنے اور سمجھنے والی بات ہے، اور اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔ باچا خان کو افغان ایجنٹ کہنے والوں کے لئے بھی اس خطاب میں نشانیاں ہیں اور ان لوگوں کے لئے بھی جو “لر و بر” ایک افغان کا نعرہ لگاتے ہیں ان کے لئے بھی اس میں سبق ہے۔

مسلم لیگ نے پروپیگنڈا شروع کردیا کہ خان برادرز نے افغانستان سے مدد مانگ لی ہے اور یہ کہ افغانستان نے نہرو سے ڈیورنڈ لائن معاہدہ پر نظر ثانی کا مطالبہ کردیا ہے۔ افغاستان نے باچا خان تحریک ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا جب وہ اس پروپیگنڈا میں شامل ہوئے اور پشتونستان تحریک کی مدد کا فیصلہ کیا، اور انگریزوں سے رابطہ کرکے ڈیورنڈ لائن پر نظر ثانی کا مطالبہ دہرایا۔

باچا خان کے بھائی اور صوبہ سرحد کے وزیراعلی، ڈاکٹر خان نے نہرو کو خط لکھ کر یقین دلایا کہ” ہم نے کھبی سوچا بھی نہیں کہ افغانستان کے ساتھ الحاق کریں” ہمیں تو ابھی پتہ چلا ہے کہ افغانستان نے ہندوستان سے باقاعدہ رابطہ کیا ہے، ہمیں ناگفتہ بہ اور ناخوشگوار صورتحال سے دوچار ہوگئے ہیں، افغانستان صورتحال سے فائدہ اُٹھا رہی ہے، ہم نے افغانستان سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے”۔

8: قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی پختونستان کی مخالفت کرتے ہوئے اسے 3 جون پلان کے خلاف ورزی قرار دی، مسلم لیگ سرحد نےباچا خان پر سنگین الزامات لگائے اور گاندھی نے باچا خان پر سنگین الزام “باچا خان افغانستان کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے” رد کرتےہوئے کہا کہ “باچا خان ایک زیرک سیاستدان ہیں اور کھبی بھی افغانستان کے ساتھ الحاق نہیں چاہیں گے ”

9: باچاخان کی مخالفت کے باوجود 6 جولائی 1947 کو ریفرنڈم منعقد ہوا، اور باچا خان کی “خدائی خدمتگاروں” اور “ویخ زلمی” نے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا۔ باچا خان کے بائیکاٹ کا اثر نہ ہونے کے برابر تھا کیونکہ جس انداز سے ریفرنڈم منعقد ہوا تھا، اس سے صاف واضح تھا کہ لوگ ضرور ووٹ ڈالیں گے۔ گاندھی نے باچا خان کو بائیکاٹ نہ کرنے کا کہا تھا، باچا خان کو بھی بعد میں ضرور محسوس ہوا ہوگا کہ انتخابات یا ریفرنڈم کا بائیکاٹ کتنا مضر ہوتا ہے۔

10: خیر! سبز رنگ کے ڈبے میں پاکستان کے لئے ووٹ ڈالے گئے اور سُرخ رنگ کے ڈبے میں ہندوستان کے لئے ووٹ ڈالے گئے۔ 18 جولائی تک جاری رہنے والے ریفرنڈم میں 572,798 رجسٹرڈ ووٹوں میں سے 298,244 ووٹ سبز ڈبوں میں پاکستان کے حق میں پڑے جو ڈالے گئے ووٹوں کا 99.02% بنتے ہیں جبکہ 2874 ووٹ جو %0.98 بنتے ہیں یعنی ایک فیصد سے بھی کم ووٹ ووٹ سُرخ ڈبوں میں ہندوستان کے حق میں پڑے۔

11: جب 20 جولائی کو ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان ہوا تو باچا خان نے سوال اُٹھائے کہ “بنوں میں جو نمائندہ پشتون جرگہ ہوا تھا اس کے چئیرمین امیر محمد خان کا ووٹ بھی پاکستان کے حق میں ڈالا گیا تھا”۔ اور پنجاب سے لوگ لائے جانے کا ذکر کیا۔

باچا خان یہ بھی چاہتے تھے کہ ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ پشتونستان کا بھی ایک ڈبہ شامل کیا جائے! اگر ایک ڈبہ کسی اور (نیلے) رنگ کا پشتونستان کے لئے رکھ دیا جاتا تو ریفرنڈم کے نتائج کیا ہوتے؟

اس کا فیصلہ آپ خود سوچ لیں، میں آگے بڑھتا ہوں۔

12: ریفرنڈم کے بعد 27 جولائی 1947 کو آخری بار ہندوستان جا کر گاندھی سے ملاقات کرتے ہیں اور گاندھی نے باچا خان کو پاکستان “پاک” کرنے کا مشورہ دیا۔ پاک کا مطلب عدم تشدد کے فلسفے کا پرچار لیا جا سکتا ہے۔ گاندھی اس سے پہلے بھی باچا خان کو یہ مشورہ دے چکے تھے۔ یوں باچا خان آخری بار ہندوستان سے پاکستان واپس ہوئے۔

پاکستان 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا۔

قائداعظم نے 21 اگست کو ڈاکٹر خان کی حکومت برطرف کرتے ہوئے عبدالقیوم کو سرحد کا نیا وزیراعلی بنایا۔

باچاخان نے 3 اور 4 ستمبر 1947 کو چارسدہ (سرداریاب) میں صوبائی جرگہ بلایا جس میں قبائلی مشران، پارلیمانی پارٹی، زلمی پختون اور خدائی خدمتگار شامل تھے، جرگے سے خطاب کرتے ہوئے باچا خان نے تین قراردادیں پیش کی۔

1. خدائی خدمتگار (باچا خان کی پارٹی) پاکستان کو اپنا ملک مانتے ہیں اور یہ عہد کرتے ہیں پاکستان کی مفاد اور تحفظ کے لئے بھرپور کوشش کریں گے اور اس مقصد کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

2. خدائی خدمتگار ڈاکٹر خان حکومت کی برطرفی غیر جمہوری عمل قرار دیتی ہے لیکن چونکہ ملک نازک مرحلے سے گزر رہا لہذا اس کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھایا جائے گا۔

3. تقسیم کے بعد خدائی خدمتگار تنظیم نے آل انڈیا مسلم لیگ سے تمام روابط منقطع کئے اور اپنا جھنڈے کو تین رنگوں (ترانگا) کی بجائے ایک رنگ (سرُخ) رنگ علامت کے طور پر اپنایا۔

13: پاکستان بننے کے بعد باچا خان نے یہ رہنما اصول وضع کیئے اور فروری میں دارالحکومت کراچی پہنچے، 23 فروری کو قومی اسمبلی میں ممبر کی حیثیت سے حلف اُٹھا کر پاکستان سے وفاداری کا واضح اظہار کیا۔

باچا خان نے ، 23 فروری1947 کو قومی اسمبلی میں ممبر کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔

اگلے دن یعنی 24 فروری کو گونر جنرل پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے باچاخان خان عبد الغفار خان کو چائے کی دعوت دی، باچا خان خان نے دعوت قبول کرتے ہوئے جب پہنچے تو قائداعظم پرتپاک استقبال کرتے ہوئے باچا خان کو گلے لگایا اور کہا کہ “پاکستان کا خواب آج شرمندہ تعبیر ہوا ہے”۔

گونر جنرل پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور باچاخان خان عبد الغفار خان ملاقات

تاریخی اور خوشگوار ملاقات میں باچا خان نے قائداعظم کو سرحد کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ قائداعظم پھر باچا خان کئ دعوت پر سرحد گئے مگر مسلم لیگ سرحد اور عبدالقیوم جو ایک سازشی شخصیت تھے، کی وجہ سے باچا خان اور خدائی خدمتگاروں سے ملاقات نہ ہوسکی۔

14: کراچی میں پریس سے باچا خان نے پختونستان کے نظریئے کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد وہ پختونوں کے حقوق کے لئے پاکستان کے اندر جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اور کہا کہ “ پنجاب، پنجابیوں کے لئے، سندھ سندھیوں کے لئے، بنگال، بنگالیوں کے لئے، بلوچستان بلوچوں کے لئے، لہذا پختونوں کے لئے پختونستان (صوبہ) ہونا چاہئے، سرحد کا نام انگریزوں کی “بدعت” ہے۔

یوں پشتونستان یا پختونستان کے لئے باچا خان کی جدوجہد ختم ہوئی مگر افغانستان آج تک پروجیکٹ کو استعمال کررہا ہے۔

بدقسمتی سے پختونخواہ کا نام ستر سال بعد قومی اسمبلی سے تبدیل ہوا جو پاکستان بننے کے فوری بعد تبدیل کرنا چاہیے تھا۔

اور انگریزوں کا مسلط کردہ ایف سی آر بھج ستر سال بعد ہٹا کر پختونخواہ میں ضم کردیا ہے مگر معدنیات پر قبضے کے علاوہ قبائلی اضلاع کی کوئی اور خدمت نہیں کی جارہی۔

سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی ناگہانی موت کے بعد محمود خان اچکزئی اور عثمان کاکڑ مرحوم کے بیٹے نے جو سوالات اُٹھائے ہیں حکومت کو فی الفور خدشات دور کرنے کے لئے جیوڈیشل کمیشن قائم کرنا چاہئے تاکہ موت کے چھان بین ہوسکے اور قتل کے محرکات کا پتہ چلایا جا سکے۔

محمود خان اچکزئی صاحب نے مرحوم عثمان خان کاکڑ کے جلوس جنازہ سے خطاب کرتے ہوئے ایک نمائیندہ پختون جرگہ بنوں میں بلانے کا اعلان کیا تو اس مضمون میں بنوں میں جرگہ منعقد کرنے کے حوالے سے تاریخی تناظر سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ بنوں جرگہ میں پختون قوم کا کیا ردعمل آتا ہے، مگر 1947 میں تاریخی پختون جرگہ کے بعد حاجی میرزعلی خان (فقیر ایپی) نے ایک آزاد “پختونستان” کا اعلان کیا تھا اور بندوق اُٹھا کر موت تک مسلح جدوجہد جاری رکھی۔

اقوام متحدہ میں 30 ستمبر 1947 کو پاکستان 54 ممالک نے ووٹ دے کر تسلیم کیا اور صرف ایک افغانستان کا ووٹ پاکستان کے خلاف پڑا جنہوں پاکستان کو تسلیم نہیں کیا۔

15: دوسری جنگ عظیم کے دوران افغانستان کے ظاہر شاہ نے غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا مگر پختونستان ایشو کو ہوا دے کر افغان شاہی خاندان نے پختونوں اور باچا خان کو مشکلات سے دوچار کیا۔

16: ظاہر شاہ سلطان محمد طلائی کے نواسے تھے جنہوں نے سکھوں (رنجیت سنگھ) اور انگریزوں سے مل کر پشاور کو افغانستان سے علیحدہ کر دیا تھا۔ اور معاہدہ گندمک کے شرمناک معاہدے میں بھی سلطان محمد طلائی کے بیٹے یحی خان نے انگریزوں کے سہولتکار کا کردار ادا کیا تھا، افغان امیر یعقوب خان جنہوں نے گندمک معاہدے پر دستخط کئے وہ یحی خان کے داماد تھے۔

سلطان محمد طلائی کا ایک واقعہ بطور مثال پیش کرتا ہوں باقی پڑھنے والے نتیجہ خود نکالیں کہ آج تک افغانستان کے حالات کیوں دگرگوں اور ناگفتہ بہ ہیں۔

17: جب 1832 میں ہرات کے حالات خراب ہوئے تو انگریزوں اور رنجیت سنگھ (سکھوں) نے شاہ شجاع کو ورغلا کر کندھار پر حملے کے لئے اُکسیا۔ 1833 میں شا شجاع کندھار پہنچے تو امیر دوست محمد خان کابل سے کندھار روانہ ہوئے۔ جب افغان آپس میں کندھار اور ہرات میں لڑنے لگے تو رنجیت سنگھ نے پشاور پر حملہ کرکے 1834 میں مکمل قبضہ کرلیا اور “سلطان محمد طلائی” باجوڑ کی طرف چلے گئے۔ باجوڑ میں انہیں پتہ چلا کہ افغان بھائی سب ہرات اور کندھار میں مصروف ہیں تو جلال میں لشکر تیار کرنے لگے کہ کابل پر قبضہ کریں!

شاہ۔ شجاع کو کندھار میں شکست دے کر جب دوست محمد خان فاتح کابل واپس پہنچے تو سلطان محمد طلائی صاحب نے جلال آباد میں بندوق رکھ کر پھولوں کے ہار لے کر کابل پہنچے اور دوست محمد خان جانتے بوجھتے خوش آمدید کہا! مگر پشاور پر حملہ کرنے رنجیت سنگھ سے واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

سلطان محمد طلائی کے ساتھ 20 ہزار افغان لشکر پشاور پر حملے کے لئے بھیجا اور پیچھے امیر دوست محمد خان بھی 30 ہزار لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے۔ جب جنگ شروع ہوئی تو سلطان محمد طلائی رنجیت سنگھ کے سپاہ سالار ہری سنگھ نلوا سے مل گئے اور رات کی تاریکی میں افغان لشکر چھوڑ کر سکھ لشکر کے ساتھ شامل ہوگئے۔ افغان امیر دوست محمد خان لاچار اور بےبس کابل واپس روانہ ہوئے اور اگلی جنگ کی تیاری کرنے لگے۔

سلطان محمد طلائی انگریزوں اور سکھوں کو ٹیکس تو دینے کے لئے تیار تھے مگر افغانستان میں اپنے بھائی کی حکومت تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے۔ شاہ شجاع نے 1838 میں انگریز مگناٹن اور رنجیت سنگھ کے ساتھ جو معاہدہ کیا اس کے تحت افغان سندھ، بلوچستان، اور کشمیر سمیت پشاور، ڈیرہ جات اور قبائلی اضلاع سے مکمل طور پر دستبردار ہوئے تھے، معاہدہ گندمک میں امیر یعقوب علی خان نے ہتھیار ڈال دیئے اور امیر عبد الرحمن خان نے ڈیورنڈ لائن معاہدے پر دستخط کرکے سب کچھ انگریزوں کے حوالے کیا۔

18: سلطان طلائی کی اولاد نے یہی بس کیا ہوتا تو اچھا تھا! مگر غازی امان اللہ خان کے پیٹھ میں چھرا بھی انہی کی اولاد نے گھونپ کر نادر شاہاور بھائیوں نے راستہ بنایا، 1827 میں خوست کے گونر نادرشاہ کے بھائی نے گوڈ مُلا کے ذریعے پروپیگنڈا مہم شروع کی، اس وقت بدنام زمانہانگریز جاسوس “لارنس آف عربیہ” وزیرستان سے کمپین کو مانیٹر کررہے تھے جبکہ روس میں نادر شاہ کے ایک اور سفیر بھائی تھے، ان کےروابط پکڑے گیے، غازی امان اللہ خان نے نادرشاہ کو چیف آف آرمی، سے ہٹایا اور فرانس میں “سفیر” بنا کر سائیڈ لائن کردیئے گئے، توانکے بھائیوں نے بیچ بوکر سب فرانس پہنچے، اور بالآخر ایک ڈاکو حبیب اللہ کلکانی اور کابل کے پیر فضل عمر مجددی المعروف مُلا شوربازار کےذریعے غازی امان اللہ کے خلاف کافر، زندیق اور مرتد کے فتوے صادر کرنے اٹھارویں صدی کی ابھرتی ہوئی افغانستان کو پتھر کے زمانےتک واپس پہنچایا، غازی امان خان ملک چھوڑ کر دیار غیر میں وفات پائے تو جنازہ افغانستان لایا گیا مگر تیسرے دن ہی اس کے خاندان کوملک بدر کردیا۔

ظاہر شاہ نے پیر فضل عمر مجددی المعروف مُلا شوربازار اپنا پیر بنا کر کابل میں انعام و اکرام سے نوازا۔ اپنے چچا زاد سردار داؤد خان نے ظاہرشاہ کا دھڑن کیا تو پاکستان کے لئے مزید مشکلات پیدا ہوئے، مگر پاکستان نے بھی ملا عمر اور طالبان کی حمایت کرکے دیکھ لی، ڈیورنڈ لائنمنوانے میں ملا عمر، ظاہر شاہ، داؤد خان، نجیب اللہ اور حامد کرزئی و اشرف غنی سب ایک پیج پر ہیں۔

جب سینیٹ میں کسی نے محمود خان اچکزئ کی توہین کی تو مرحوم عثمان کاکڑ نے ببر شیر کی طرح دھاڑتے جواب دیا کہ “سن لو! ہم نے شاہشجاع کو نہیں بخشا ہے تو تم کیا چیز ہو، ہم کسی کو برداشت نہیں کریں گے جس نے انگریزوں کی غلامی کی ہو” عثمان کاکڑ کا ایک جملہ میرے مضمون کا نچوڑ ہے۔ کہ افغانستان کے بعض حکمران پختونوں کے لے لئے باعث عار و ننگ ہیں۔

میں حیران ہوں کہ ان سارے معاہدوں اور جنگوں کے بعد کیسے کوئی تاریخ کا دھارا تبدیل کرسکتا ہے اور دریائے سندھ کو اُٹھا کر کابل میں دودھ اور شہد کی ندیاں بہا سکتے ہیں۔ مگر اس کا مقصد یہ نہیں کہ پختون پاکستان کے اندر اپنے حقوق سے بھی فافل رہیں یا کوئی پختونوں کے حقوق غصب کریں، پختونوں کو متحد ہوکر پاکستان کے اندر اپنے حقوق کی جنگ دبنگ طریقے سے لڑنا چاہئے، اور اپنے حقوق حاصل کرنے کی تحریک جاری رہنی چاہیے۔ حکومت کو سیاسی اور جمہوری جہد کے ذریعے آوازوں کو دبانے سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ پریشر کوکر بن کر پھٹ نہ جائے۔ پختونوں کے جائز حقوق کے لئے آوازوں کو دبایا گیا تو بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں جو عثمان کاکڑ مرحوم کے جنازے میں دیکھنے کو ملے۔

عبدالصمد خان اچکزئی خان شہید پاکستان بنتے ہی گرفتار کردیئے گئے، اور چھ سال بعد صرف چھ مہینوں کے لیے رہا کردیئے گئے اور ایوبی مارشل لاء ختم ہونے کے بعد 1968 میں رہا کردیئے گئے، مگر یہ راہی کافی نہیں تھی! اب کچھ اور ہونے والا تھا!!! جب پاکستان میں آئین اور جمہوریت کا دور شروع ہورہا تھا تو کوئٹہ میں 2 دسمبر 1973 عبدالصمد خان اچکزئی ایک دھماکے میں قتل کردیئےگئے، باپ کے خون میں لت پت چادر 25 سالہ محمود خان اچکزئی نے کندھے پر رکھ کر والد کی سیاسی جدوجہد آگے بڑھانے کی کوشش کی تو“عمران خان” جیسے سیاستدان بھی اس پر جملے کستے نظر آتے ہیں! تو پختونوں کو غصہ بھی نہ آئے؟ پھر کہتے ہیں کہ اچکزئی تُند و تیز باتیں کرتےہیں۔ عبدالصمد خان اچکزئی سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے تھے، سیاست میں مذہبی جنونیت کے خلاف تھے۔

عبدالصمد خان اچکزئی

قتل کرنے والوں نے تو “قومی اور نسلی فرقہ واریت” کو دفن کرنے کی کوشش کی مگر محمود خان اچکزئی نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ عبدالصمدخان اچکزئی کو ایسے قتل کیا گیا جیسے بلوچ نوروز خان، جیسے اکبر بگٹی، مگر نہ بلوچ اپنے حقوق سے پیچھے ہٹے، نہ پختون اپنے حقوق پر ڈاکہ ڈالنےوالوں سے ڈرے ہیں، اب ایک الگ بات ہے کہ پختون متحد نہیں، اور حقوق حاصل کرنے کا مناسب پلیٹ فارم بھی نہیں، مگر پختونزیادتی بھولتے نہیں!!! وہ ایک ایک کرکے اپنے سے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو جمع کرتے ہیں، اور وقت آنے پر حساب چھکاتے ہیں، وہبھی سود سمیت۔ اور یہ بات تین سو سالوں سے ایرانیوں کو بھی پتہ چلا ہے، انگریز اور روسی ادبی حلقوں کو بھی احساس ہوچکا ہے،حکمرانوں کو بھی ہوجائے گا اور اب امریکہ کو بھی بیس سال لڑنے کے بعد یہی احساس ہوا کہ سو سال تک لڑیں تو بھی افغانستان میں کچھہاتھ آنے والا نہیں اور بھاگنے کی تیاری کیئے ہوئے ہیں۔

بتانا صرف یہ تھا کہ ظلم اور زیادتی اتنا کریں، جتنا آپ خود برداشت کرسکتے ہیں۔ بنگالیوں کے ساتھ جو ہو رہا تھا، کسی کو احساس نہیں ہوا،مگر 1971 کے بعد جو حال ہوا، اس کا ملبہ آج بھی ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے، مگر زیادتی کی نشاندہی ہوئی، نہ کوئی تسلی بخش جوابات ملے، حمود الرحمن کمیشن کو دبایا گیا۔

References:

1. Abdul Ghaffar Khan: faith is a battle by D. G. Tendulkar: Page 424.

2. Ibid: Page 433

3. Link Gandhi Speech: Post Prayer Speech 1947-06-16 : Mahatma Gandhi

4. Abdul Ghaffar Khan: faith is a battle by D. G. Tendulkar: Page 438

5. Link The New York Times: Gandhi Backs Pathanistan – nytimes

6. Abdul Ghaffar Khan: faith is a battle by D. G. Tendulkar: Page 439

7. Ibid: Page 441

8. Ibid: Page 443

9. Ibid: Page 444

10. Ibid: Page 446

11. Ibid: Page 433

12. Ibid: Page 450 & 451

13. Ibid: Page 452

14. Ibid: Page 452

15. United Nations Resolution Link Admission of Pakistan to membership in the United Nations.

16. The Pashtunistan Issue & Politics in Afghanistan, 1947-1952 Theses by Faridullah Bezhan

17. The History of Afghanistan: Fayż Muḥammad (سراج التوريخ) by Mcchesney & Khorram: P 209

18. Waqiat e Shah Shuja: by Shah Shuja: Page 198-213


احمد طوری ایک سوشل ایکٹوسٹ ہیں جو سیاسی امور، سماجی و معاشرتی مسائل، تاریخ اور پشتون علاقوں کے معاہدات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں