افغان جنگ کا قبائلی اور نسلی پہلو۔…! (احمد طوری)

افغانستان میں جاری حالیہ جنگ میں امریکی انخلاء کے بعد تیزی آئی ہے جو 2001 ء میں طالبان کی اسلامی ریاست کے خاتمے کے بعد شروع ہوئی۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ڈیڑھ لاکھ فوج کے ساتھ افغانستان پر حملہ آور ہوئے مگر بیس سال میں پورے افغانستان میں امن قائم کرنے میں ناکام رہے، جنوبی افغانستان کے بیشتر پشتون علاقے طالبان کے کنٹرول میں رہے اور ہزاروں امریکی و اتحادی افواج کو نشانہ کر قتل بھی کرتے رہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی انخلاء کا اعلان کرتے ہوئے طالبان سے مزاکرات شروع کیئے تو جو بائیڈن نے صدارت سنبھالتے ہوئے سب سے پہلے افغانستان سے فوج واپس بلانے کا اعلان کیا، اور طالبان سے قطر کے دارالحکومت میں ایک ڈیل پر دستخط کیئے جو ابھی تک سامنے نہیں لایا گیا ہے مگر ایک ہزار امریکی فوجیوں کے علاوہ بیشتر اتحادی افواج افغانستان سے نکل چکے ہیں۔

امریکی فوجی انخلاء شروع ہوتے ہی طالبان نے پچھلے دو ماہ سے افغانستان کے طول و عرض میں کارروائیاں تیز کردی اور کابل حکومت کے بیدار ہونے تک آدھے سے زیادہ افغانستان پر قبضہ کرچکے ہیں۔ کل تک افغان حکومت یہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ آدھے ‫افغانستان پر ‫طالبان کا قبضہ ہوچکا ہے! مگر اب امریکی وزیر جنگ نے کہا ہے کہ 419 میں سے 213 اضلاع طالبان کے قبضے میں ہیں! بڑے شہر اور صوبائی دارالحکومت پر قبضہ نہ کرنا طالبان کی سٹریٹیجی ہوسکتی ہے، اور 13 صوبائی دارالحکومت طالبان کے محاصرے میں ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ 3 سے 6 ماہ میں طالبان سے علاقے واگزار کرائیں گے! جبکہ گمبھیر صورتحال یہ ہے کہ کندھار شہر میں جنگ ہورہی ہے، ہرات، کندوز، تخار، بدخشان اور مزار شریف کے اس پاس جنگ ہورہی ہے۔

کندھار کے سپین بولدک میں واقع سابق افغان جنرل عبدلرازاق کے گھر پر طالبان کا دھاوا، لوٹ مار کرکے گھر کا سارا سامان لوٹا گیا اور قبضہ کرکے سابق جنرل کے گھر کو طالبان نے اپنے ضلعی دفتر میں تبدیل کیا ہے، جہاں جنگجو آتے ہیں اور جنرل عبد الرزاق کے ہاتھوں قتل دوسرے قبائلی نوجوانوں کو یاد کرتے ہیں، اور ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شئیر کرتے نظر آتے ہیں۔

کندھار میں قبائلی جنگ کی تین سو سالہ تاریخ ہے جس میں قبائل اثر رسوخ اور قبضے کے لئے آپس میں لڑتے رہے ہیں۔ ان میں غلجی افغان، ابدالی، اچکزئی اور نورزئی قبائل قابل ذکر ہیں۔

قبائلی جنگ کی شروعات تو گونر گورجین نے کی جب انہوں نے 1700ء میں ابدالی قبائل کو کندھار سے نکال کر ہرات اور فرح کی طرف دھکیل دیئے، اور غلجی قبائل سے مل کر کندھار پر حکومت کرتے رہے، مگر میر اویس ھوتک (میرویس نیکہ) نے جلد گورجین کو اکھاڑ کر کندھار پر قبضہ کیا اور ایک ابدالی خاتون سے شادی کرکے اس جنگ کو کچھ عرصہ کے لیے ختم کردیا، مگر احمد شاہ ابدالی (احمد شاہ بابا) نے کندھار میں ھوتک قبیلے کی حکومت ختم کرکے 1747 میں ابدالی (درانی) قبیلے کی سرکردگی میں پہلی دفعہ لوئیی افغانستان (گریٹر افغانستان) کی حکومت بنائی اور کندھار میں قبائلی تناسب ایک بار پھر بگڑنے لگا۔ بارکزئی دور میں، دوست محمد خان کے بھائی کہندل خان اور پردل خان قابض رہے، جبکہ ان ادوار میں اچکزئ اور نورزئی قبائل کا کندھار کی سیاست میں کلیدی کردار رہا۔ مزید طوالت دیئے بغیر یہ بات ثابت کرنا مقصود ہے کہ کندھار میں وہی قبائلی سیاست اور رسہ کشی آج بھی اسی طرح جاری ہے۔

حامد کرزئی کندھار میں بیٹھے ہیں تو غلجی قبیلے سے تعلق رکھنے والے اشرف غنی کی کابل میں حکومت ہے، جبکہ جنرل عبد الرزاق اچکزئی کے اوپر امریکی الزام لگاتے رہے کہ انہوں نے ریاست کی رٹ قائم کرنے کے بہانے مخالف قبائل کے لوگوں کے قتل میں ملوث ہے۔ جنرل عبد الرزاق اور حامد کرزئی کے بھائی پر منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کا بھی چرچا رہا ہے۔ اب جبکہ طالبان کندھار شہر میں لڑ رہے ہیں اور سپین بولدک پر قابض ہوئے ہیں تو وہ سیاسی، قبائلی اور منشیات کے ڈیلروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹ رہے ہیں اور سپین بولدک میں مخالف قبائل کے سو سے زیادہ لوگوں کے قتل کے الزامات سامنے آئے ہیں، جسے افغان حکومت جنگی جرائم کہہ رہے ہیں، کیونکہ گھر گھر تلاشی کرکے لوگوں کو باہر لایا جارہا ہے اور قتل کیا جارہا ہے۔

جولائی کے پہلے ہفتوں میں، طالبان نے صوبہ قندھار کے جنوب مشرق میں واقع اسپن بولدک پر حملہ کیا۔ یہ ضلع ڈیورنڈ لائن پر واقع ہے۔ ضلع کا مرکز، ایک قیمتی تجارتی اور سیاسی اثاثہ ہے ، جو افغانستان کو پاکستان کے ساتھ مربوط کرنے والے ایک انتہائی اہم سرحدی گزرگاہ ہے۔ 19 جولائی 2021 کو ، افغانستان میں مختلف فیس بک پیجز میں حاجی فدا محمد افغان کے بیٹے شیر محمد اور محمود خان کے قتل کی اطلاع ملی۔

افغان، جسے حاجی فدا اکا (یا چچا) بھی کہا جاتا ہے، اچکزئی قبیلے کے ایک اہم قبائلی بزرگ اور قندھار کی صوبائی کونسل کے رکن ہے۔قندھار کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ دونوں افراد یا تو نورزئی قبیلے کے افراد یا نورزئی قبیلے کے افراد جو طالبان جنگجوؤں کے ساتھ مل گئے ہیں، ان کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ نورزئی سمیت سب قبائل کا یہ خاصہ رہا ہے کہ وہ بدلہ لینے کے لئے یا تو حکومت/ ریاست کے حامی بن کر دوسرے قبائیل سے بدلہ لیتے ہیں، یا مخالف (طالبان) جو بھی ہوں ان کے ساتھ مل کر اپنے وقت کا انتظار کرتے ہیں اور وقت آنے پر بدلہ لیتے ہیں، جو اب ہورہا ہے۔ بدلہ ! شیر محمد اور محمود خان کے قتل کو طالبان نے اچکزئی قبیلے کے خلاف انتقامی کارروائی قرار دیا تھا۔ اچکزئی کا تعلق پشتونوں کے درانی قبائل سے ہے۔ درانی جنوبی افغانستان کے علاقے لوئی قندھار ، یا گریٹر قندھار میں سب سے بڑا قبائلی گروہ ہیں۔ درانی کو مزید زیرک اور پنجپئ (پانج پائی) شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ زرق روایتی طور پر غالب رہا ہے۔ سابق شاہی خاندانوں کا تعلق زیرک شاخ میں بارکزئی یا پوپل زئی سے تھا۔ اچکزئی کا بھی تعلق زیرک سے ہے۔ دوسری طرف ، پنجپئ میں اسحاق زئی ، نورزئی اور علی زئی جیسے چھوٹے لیکن اہم قبائل شامل ہیں۔

سپن بولدک کی تاریخ اور قبائل اسپن بولدک میں بنیادی طور پر نورزئی اور اچکزئی آباد ہے۔ یہ پہلے سوویت یونین کے قبضے کے دوران ایک قبائلی فلیش پوائنٹ کے طور پر سامنے آیا تھا، 1984 میں جنرل عصمت اللہ اچکزئی مجاہدین چھوڑ کر کمیونسٹ حکومت میں شامل ہوگئے اور بولدک کے مقام پر منافع بخش بارڈر کراسنگ پر قبضہ کرلیا۔ مسلم کو 1988 میں اسپن بولدک سے بے دخل کردیا گیا۔ عصمت کے کزن اور جنرل عبد الرازق کے چچا منصور اچکزئی نے ملیشیا کا چارج سنبھال لیا۔ منصور نے ایک بار پھر مجاہدین میں شامل ہو کر اپنی وفاداری بدلی۔ 1994 میں ملا عمر کی زیرقیادت ، طالبان ایک سیاسی تحریک کے طور پر منظم ہوگئے۔ انہوں نے منصور کو پھانسی دے دی۔

2001 کے آخر تک ، امریکہ نے طالبان امارت کا تختہ الٹنے کا عزم کیا تھا۔ قندھار کے اندر ، جہاں طالبان سب سے زیادہ مضبوط تھے ، امریکی صدر کا اہم اتحادی ، حامد کرزئی تھا، جو پوپل زئی سے تعلق رکھنے والے ممتاز کندهاری رئیس کا بیٹا تھا ، وہ بھی زیرک درانی کی ایک شاخ ہے۔ کرزئی نے قبائلی رابطوں کے نیٹ ورک پر انحصار کیا ، انہوں نے امریکی حملے کی بنیاد رکھنے کے لئے طالبان کے مضبوط گڑھ قندھارمیں بغاوت کو مشتعل کرنے کے لئے متحدہ محاذ بنانے کی کوشش کی۔ اس میں انہوں نے سی آئی اے کے ایک اور اثاثہ بارکزئی قبیلے کے گل آغا شیرزئی سے شراکت قائم کی۔ کرزئی ایک اور اتحادی فدا محمد افغان تھے، جو بولدک کی حالیہ شورش میں ہلاک ہونے والے دو نوجوانوں کے والد ہیں۔

احمد ولید کے مطابق امارت اسلامیہ (طالبان) کے خاتمے کے بعد، نئی حکومت نے قندھار میں جو شکل اختیار کی تھی ، وہ ڈالروں سے کھیل رہے تھے، شیرزئی نے 2004 تک گورنر کی حیثیت سے حکمرانی کی ، اس دوران وہ نہ صرف بدعنوانی کی وجہ سے بدنام ہوئے ، بلکہ اپنے منصب کو اپنے اور اپنے قبائل کو بااختیار بنانے کے لئے استعمال کیا ، جن میں سے تقریبا سبھی بارکزئی شامل تھے۔ صدر کرزئی کے بھائی احمد ولی کرزئی قندھار کی صوبائی کونسل کے چیف کے عہدے پر فائز رہے ، اس پر بھی منشیات کی تجارت میں مبینہ طور پر شامل ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ پاک افغان بارڈر اسپن بولدک میں ، 80 کی دہائی میں عصمت اللہ اچکزئی تعینات تھے تو طالبان کے بعد انکے ہم قبیلہ جنرل عبد رازق بارڈر پولیس کے چیف کی حیثیت سے تعینات تھے، مبینہ طور پر صرف منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کی افواہیں ہی گردش نہیں کر رہے تھے ، بلکہ قبائلی دشمنی کے بدلے لینے کی رپورٹس بھی آتی رہیں، ایک دفعہ جنرل رازق نے دعویٰ کیا کہ انہون نے 16 افراد قتل کئے، جو پاکستان سے دراندازی کرنے والے طالبان تھے۔ امریکی تفتیش کے بعد پتہ چلا کہ قتل ہونے والے افراد باغی (طالبان) نہیں تھے ، بلکہ وہ جنرل رازق کے قبائلی دشمن تھے، جن میں بزنس مین شین نورزئی بھی شامل تھے۔ سرکاری عہدہ ذاتی اور قبائلی اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے استعمال کرنے کا ایک اور واقعہ، 2006 کے موسم گرما میں ، رازق اور اس کی ملیشیا کو قندھار شہر کے مغرب میں ، نورزئی ( پنج پایئی) پانج پائی اکثریتی علاقے میں تعیناتی تھا ، جہاں مبینہ طور پر طالبان کی سرگرمیوں میں اضافہ بتایا گیا تھا۔ یہ تعیناتی ناکام ہوگئی اور ستمبر تک کینیڈا کے زیرقیادت آپریشن میڈوسا کرنی پڑی تاکہ اس علاقے کو طالبان کی موجودگی سے پاک کیا جاسکے۔ کینیڈین صحافی گریم اسمتھ نے اپنی کتاب ‘The Dogs Are Eating Them Now’ میں لکھا ہے کہ بارکزئی کے ایک بزرگ حاجی محمد قاسم نے اعتراف کیا ہے کہ رازق اور اس کی اچکزئی ملیشیا کو مخالف قبائل کے خلاف استعمال کی وجہ سے مخالف قبائل ریاست کے خلاف ہوگئے اور طالبان کے ساتھ مل گئے”۔ اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا!!!

اس طرح طریقہ واردات جنرل رازق نے اسحاق زئی کے خلاف میوند اور پنج پائی میں بھی استعمال کیا ، جنھیں طالبان کے حامی بتا کر نشانہ بنایا گیا۔ فطری طور پر، اسحاق زئی نے طالبان کی طرف جھکاؤ اختیار کیا ، خاص طور پر جب طالبان امیر اختر منصور کا تعلق بھی ایک اسحاق زئی قبیلے سے تھا۔
اگر حالیہ واقعات صرف قبائلی دشمنی ہیں، تو پھر یہ طالبان کی طرف سے شروع کردہ تنازعہ نہیں بلکہ اور افغان حکومت امریکہ کی طرف سے شروع کی جانے والی مسلح دشمنیوں کا تسلسل ہے، کرزئی ، شیرزئی اور رازق امریکی اتحادی تھے اور اشرف غنی اس کا تسلسل ہے، ان کی حکومتیں خدمات کی فراہمی یا وسیع تر عوامی شرکت پر مبنی نہیں بلکہ قبائلی دشمنیوں کو اپنے سرپرستی کے نیٹ ورک بنانے کے لئے تشکیل دی گئی تھی۔ ان نیٹ ورکس کو واشنگٹن نے مالی اعانت فراہم کی اور حکومت کے متوازی چلتے رہے، جس کے نتیجے میں قبائلی دشمنیوں نے جنم لیا ، اور امریکہ نے مالی اعانت فراہم کرکے اس جنگ کو بڑھاوا دیا۔

احمد ولید کاکڑ کے مطابق افغان ریاست کی قبائلی نوعیت ، عدم مساوات پر مبنی اور بعض باثر قبائل کی سربلندی ، ایک تاریخی حقیقت ہے۔ مگر قبائلی تناؤ کو بڑھاوا دینے کے لئے مقامی حلیفوں کے ساتھ اتحاد کی امریکی پالیسی تباہ کن ثابت ہوئی، جس نے جنرل رازق جیسے قبائلی سرداروں کی فوجی، مالی اور سفارتی مدد کی، جس نے صرف قندھار میں ہزاروں لوگوں کو قتل کیا، اور اب اس کے مضمرات سامنے آ رہے ہیں، جو کچھ سپین بولدک اور کندھار میں قتل عام ہورہا ہے۔ مغربی ذرائع اس کی ایک چھوٹی سی اطلاع دیتے تھے۔ لنکس (یہاں ، یہاں ، یہاں اور یہاں دیکھیں)۔

تاہم ، افغان جنگ کے صرف قبائلی پہلو پر توجہ مرکوز کرنا بھی درست نہیں۔ کچھ زمینی حقائق قبائلی تقسیم سے متصادم بھی ہیں۔ مثلاً سابقہ کمیونسٹ جنرل عبد الجبار قہرمان، جو طالبان کا ایک سخت دشمن تھا جو 2018 میں مارا گیا، نورزئی تھا۔ اور طالبان کے شریک بانی اور پولیٹیکل آفس کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر پوپل زئی (کرزئی کے ہم قبیلہ) ہیں۔ قندھار میں طالبان کی دو بڑی چوکیاں اس وقت اچکزئی کمانڈر کے زیر انتظام ہیں۔ دوحہ میں کابل کی مذاکراتی ٹیم کا قائد مسعوم ستانکزئی ہے ، جبکہ اس کا رشتہ دار شیر محمد عباس ستانکزئی طالبان کے سیاسی دفتر کے سینئر ممبر ہیں۔ جب جنرل رازق پریشانی میں مبتلا ہوگئے، تو قندھار کے غلزئی گورنر اسداللہ خالد ہی تھے جنہوں نے اس کی حفاظت کی۔

افغانستان کے طول و عرض میں اسطرح کے واقعات اب بھی سامنے آرہے ہیں، تاجک، اُزبک اور ہزارہ قبائل بھی یہی الزامات لگاتے رہے ہیں کہ طالبان مخالفین کے گھر مسمار کررہے ہیں، نسلی اور مذہبی بنیادوں پر لوگوں کو گھروں سے اُٹھا کر قتل کیا جارہا ہے، اور کابل شہر کے پوش علاقوں میں اغوا برائے تاوان کے واردات کرکے لوگوں سے رقم وصول کئے جارہے ہیں، مگر افغان ریاست نظر نہیں آرہی! اغوا برائے تاوان کا واقعہ کابل میں میرے ایک قریبی دوست کے ساتھ بھی پیش آیا ہے، جس کے بیٹے کو اغوا کرکے بھاری رقم کے عوض چھوڑ دیاگیا ہے۔

دوسری طرف ہرات سے چند کلومیٹر دور افغانستان کے سابق وزیرخارجہ رنگین داد کے گھر پر طالبان نے حملہ کردیا، تو رنگین داد نے ٹویٹ کرتے ہوئے حکومتی اور سیکیوریٹی اداروں سے تحفظ مانگنے کی اپیل کی، جس کا واضح مطلب ہے کہ افغان ریاست طالبان کے سامنے بےبس نظر آرہے ہیں۔

لگ بھگ پانچ مہینے پہلے ہزارہ برداری نے کوچی قبائل کو اپنے علاقے ضلع بہسود میدان وردک میں قبضہ کرنے سے روکا تو سب سے پہلے طالبان نے کوچی (پشتون) قبائل سے مل کر ہزارہ قبائل سے کے خلاف جنگ شروع کی، تو امراللہ صالح اور افغان صدر اشرف غنی بھی پیچھے نہیں رہے، ہیلی کاپٹر بھیج کر علیپور ہزارہ کے خلاف اعلان جنگ کردیا، جب ہیلی کاپٹر گھروں پر بمباری کررہی تھی اور پرواز بہت نیچھے تھی تو کسی نے گھر سے نکل کر راکٹ سے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا! پھر کیا تھا! جیسے علیپور ہزارہ نے “ارگ” پر حملہ کیا ہو، ایسے سارے افغان لیڈر علیپور ہزارہ کے خلاف متحد ہوئے اور علیپور ہزارہ کے خلاف بھرپور آپریشن ہوا، پورے علاقے راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ علیپور ہزارہ کو صرف اس لئے ٹارگٹ کیاگیا کہ ان کی ملیشیا جو مکمل دفاعی ملیشیا تھی/ہے، ریاست کے لئے چیلنج بن سکتی ہے، مگر غنی یا حامد کرزئی کے دور میں ایسی کارروائی طالبان کےخلاف دیکھنے میں نہیں آئی، اور کیا افغان حکومت اب خود قبائل کو مسلح کرکے ملیشیا کھڑے نہیں کررہے؟
علیپیور ہزارہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ “جو لوگ اپنے آپ کو افغانستان میں محفوظ تصور نہیں کرتے وہ کہیں آور چلے جائیں”۔

کیا اشرف غنی صاحب اب بھی اپنے اس بیان پر قائم ہیں؟

طالبان کے تاجک اور اُزبک علاقوں پر قبضہ بھی کوئی انہونی بات نہیں، گزشتہ بیس سالوں سے ان علاقوں کو جنگجو قبائلی لیڈرز اور حکومت نے مکمل نظر انداز کیا تھا، سب رہنما کابل میں مزے لے رہے تھے، اب وہ لوگ ان رہنماؤں کی لڑائی کیوں لڑے؟ اس لئے طالبان کے خلاف کسی نے بندوق اُٹھانے کی زحمت نہیں کی، جبکہ طالبان نے بھی گزشتہ بیس سالوں میں ان علاقوں میں اثر و رسوخ حاصل کرکے بہت سے ناراض قبائلی رہنماؤں کو اور کچھ مذہبی شدت پسندوں کو اپنے ساتھ ملایا تھا جنہوں نے طالبان کے لئے راہ ہموار کی، جبکہ ڈیڑھ ماہ قبل ایک آرٹیکل میں قطر منصوبے کے متعلق لکھا تھا کہ بہت سے قبائلی اور سیاسی رہنماؤں کو رشوت دے کر خریدا گیا تھا، جس کی امراللہ صالح نے گالیوں بھرے ایک ٹیلی فون کال میں بھی تصدیق کی۔

حاصل گفتگو یہ ہے کہ افغاستان میں جنگ و جدل کا ایک پہلو نہیں، امریکہ، روس، چین، برطانیہ، ایران، پاکستان اور بھارت کی مداخلت اپنی جگہ مگر افغانستان میں قبائلی جھگڑے کون ختم کرے؟
افغان حکومت زیادہ تر پشتون علاقے طالبان کے حوالے کرکے باقی اُزبک، تاجک اور ہزارہ پر حکومت کرنا چاہتے ہیں تو یہ کسی کو بھی قبول نہیں ہوگا، ٹولو نیوز کے مطابق کل ہی صوبہ کنڑ کے ضلع نرئیی کو افغان سیکیوریٹی فورسز نے طالبان کے حوالے کرکے علاقہ چھوڑ دیا ہے۔

افغانستان کا ایلیٹ کابل میں بیٹھ کر بیس سال تک امریکی اور دیگر غیر ملکی امداد آپس میں بانٹتے رہے، جبکہ دیگر علاقے مکمل نظر انداز کئے گئے! اب ان علاقوں کے عوام اشرف غنی کے ساتھ کیوں کھڑے ہوجائیں؟

افغانستان میں موجود سب اقوام جو نظر انداز ہوئے ہیں سب خاموش ہیں اور اپنے گھروں اور علاقوں کے دفاع کے علاوہ ریاست کے بچاؤ میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے! ان کو پتہ ہے کہ ریاست ان کے ساتھ پھر وہی کرے گی جو علیپور ہزارہ کے ساتھ کیا گیا!!!

الغرض افغانستان میں قبائلی، نسلی، نظریاتی اختلافات، مادی/مالی فوائد ، ذاتی دشمنی، پسند ناپسند اور دیگر کئی وجوہات کی بنا پر ایک ہی قبیلے کے رہنما دو مخالف کیمپوں میں بیٹھے نظر آتے ہیں، اور یہ سینکڑوں سال سے روش رہی ہے۔افغان تنازعہ صرف نسلی، یا قبائلی دشمنی کی نظر سے دیکھنا بھی درست نہیں، بلکہ حماقت ہے، جو اکثر مغربی یا مشرقی صحافی و تجزیہ نگار سمجھتے ہیں۔ افغانی قبائلی طور پر منقسم تھے ، ہیں اور رہیں گے، لیکن پچھلی دو دہائیوں کے دوران مغرب کی افغان مہم جوئی ناکام ہونے کی وجہ صرف قدیم قبائلی تنازعات نہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ افغانوں میں فوجی قبضے غیر مقبول رہے ہیں، چاہے برطانیہ کا قبضہ ہو، روس ہو یا اب امریکہ، افغان عوام نے ڈٹ کر سب کا مقابلہ کیا ہے۔

مگر افغان رہنما پھر بھی اسی مغرب پر منحصر ہیں، پاکستان اور بھارت کے محتاج بھی نظر آتے ہیں، جن کو وہ پانچ وقت نمازوں میں اور صبح دوپہر شام بددعائیں دیتے تھکتے نہیں۔ طالبان نے لگ بھگ پانچ سال افغانستان پر حکومت کی، مگر میرا نہیں خیال کہ انہوں نے کوئی پرائمری سکول بھی بنایا ہو، ہسپتال، کالج یونیورسٹی تو دور کی بات، سائنس و ٹیکنالوجی کا نام لینا بھی حرام تھا اور افغانستان خواتین کے لئے قبرستان سے کم نہیں تھا، مگر یہ الگ بات ہے کہ اوریا مقبول جان، انصارعباسی جیسے قبیل کے داعشور مین سٹریم میڈیا میں طالبان کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں، جس پر پاکستان کی ریاست کو نوٹس لینا چاہیے۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے واضح اعلان کیا ہے کہ پاکستان افغان مسئلے کا کوئی فریق نہیں، افغان ہمارے بھائی ہیں، آپس میں بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے جو بھی حکومت قائم ہوئی اس کی حمایت کی جائے گی، یہی امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی کہا ہے۔
مگر اشرف غنی، امراللہ صالح اور حمدواللہ محب جیسے افغان سیاستدان سمجھتے ہیں کہ طالبان کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے، جو اوپر بتائے گئے مضمون اور زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے دوسرے پڑوسی یہ ضرور چاہیں گے کہ کابل میں ان کی دشمن حکومت قائم نہ ہو، اگر بھارت نواز حکومت قائم ہوتی ہے تو پاکستان کے قبائلی اضلاع اور بلوچستان پر اس کے اثرات ضرور پڑیں گے! مگر افغانستان کو ایک وسیع البنیاد حکومت قائم کرنی چاہئے جو افغان امنگوں کا ترجمان ہو، اگر ایسا ہوتا ہے تو پچاس لاکھ افغان گزشتہ چالیس سے پاکستان میں زندگی گزار رہے ہیں، تعلیم حاصل کررہے ہیں، اور تجارت کررہے ہیں وہ کھبی پاکستان مخالف نہیں ہوسکتے۔

اگر افغان جہاد کا ملبہ صرف پاکستان پر ڈالا جارہا ہے تو یہ افغان رہنماؤں کی سنگین غلطی ہے، افغان جہادی رہنما امریکہ کے دورے کرتے رہے اور امریکہ سے مدد کی درخواستیں کرتے رہے، پاکستان میں جنرل ضیاالحق نے اپنی ناجائز حکومرانی کو طول دینے کے لئے نام نہاد افغان جہاد کا نعرہ بلند کیا، مگر وہ پالیسی اب دفن ہوچکی ہے، پاکستان مزید کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا تہیہ کرچکے ہیں۔

مگر افغان طالبان رہنماؤں اور صدر اشرف غنی کو بھی چاہئے کہ اسلام آباد، تاشقند، تہران، واشنگٹن، ماسکو، لندن اور برلن کی طرف ضرور دیکھیں مگر جرگے کابل میں کریں، کابل میں لویہ جرگہ بلائیں، طالبان امیت تمام اقوام اور قبائل آپس میں بیٹھ کر بات چیت کریں، متفقہ آئین بنائیں جو طالبان سمیت تمام اقوام اور قبائل کے لئے قابل قبول ہو، اگر افغانستان کو بطور ملک اور ریاست متحدہ دیکھنا ہے، ورنہ تین سو سال سے جاری قبائلی اور نسلی سمیت دیگر لڑائی کھبی نہیں ختم ہوگی۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ افغاستان کے حالات پر تجزیہ کرنا نہایت مشکل ہے کیونکہ اس جنگ اتنے پہلو اور اتنی جہتیں ہیں جن کے متعلق پیشین گوئی کرنا ناممکن ہوجاتا ہے، مگر اس پر سب متفق ہیں کہ افغانستان میں جنگ بندی نہیں ہوئی اور فریقین آپس میں بیٹھ کر مزاکرات کے ذریعے حل نہیں نکالتے تو مسئلہ دن بدن مزید بگڑتا اور پیچیدہ تر ہوتا جارہا ہے، حالات تو ابھی بھی اس قابل ہیں کہ مکمل خانہ جنگی روکی جا سکتی ہے لیکن خانہ جنگی تو شروع ہوچکی ہے، گھر گلیاں اور کھیت کلیان تو ویران ہوچکے ہیں اور لوگ بھی مررہے، بےگھر ہورہے ہیں، مگر بڑے شہروں کے لوگ اس آس میں بیٹھے ہیں کہ امریکہ نے طالبان کے خلاف فضائی حملوں کا وعدہ کیا ہے اور افغان افواج بھی حرکت میں آئی ہیں، جس نے کئی علاقے طالبان سے واپس بھی لئے ہیں، مگر جس طرح بامیان میں نیا گونر تعینات کرکے انہوں طالبان کے خلاف بھرپور ایکشن کیا اور دو اضلاع واپس لئے اسی طرح اشرف غنی صاحب کو چاہئے کہ تازہ دم اور متحرک اہلکار تعینات کرکے طالبان کی پیش قدمی روکیں، اگر ایک دفعہ لڑائی بڑے شہروں تک پہنچی تو راتوں رات وفاداری کے تبدیلیوں سے مرکزی حکومت کابل تک محدود ہوسکتی ہے۔


احمد طوری ایک سوشل ایکٹوسٹ ہیں جو سیاسی امور، سماجی و معاشرتی مسائل، تاریخ اور پشتون علاقوں کے معاہدات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں