آخوند خراسانی اور ایران کی تحریک جمہوریت…! قسط پنجم (حمزہ ابراہیم)

آخوند خراسانی، جدید اصلاحات اور مغرب

جیسا کہ ہم پہلے جان چکے ہیں، بنیادی طور پر آخوند خراسانی کے نزدیک تحریکِ جمہوریت کا مطلب فعال اور اچھی اصلاحات کرنے والی جدت پسند حکمرانی تھا جو بالخصوص ایران اور بالعموم مسلم دنیا کو مغرب کے تسلط سے بچا سکے ۔چنانچہ اپنی خط و کتابت میں آخوند خراسانی کبھی اپنے مخاطبیں کو یہ یاد دلانا نہ بھولے کہ ایران کو اپنی فوج اور ہتھیاروں میں جدت لانے کی کس قدر ضرورت ہے تاکہ وہ نئی قسم کی جنگ کیلئے آمادہ ہو، [95]معاشی ڈھانچے میں جدت لانے اور خاص طور پر ایک بڑے ملی بنک کے قیام کی کس قدر ضرورت ہے، [96] تعلیم کو عام کرنے کیلئے جدید سکول و کالج بنانا کتنا اہم ہے [97] اور صنعتیں اور کارخانے لگانے کی کیا اہمیت ہے ۔[98] اس ضمن میں انہوں نے امام زمانہؑ کی راہ میں جہادِ اقتصادی کی بات کی ۔[99] وہ ایرانیوں کو یہ بتانے سے بھی نہ ہچکچائے کہ سلطنتِ عثمانیہ میں بھی تجدید کی ضرورت کو محسوس کیا جا رہا تھا ۔[100]انہوں نے کہا کہ جدت کی تحریک کو عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا تو لوگ وحشی بن کر دنیا سے پیچھے رہ جائیں گے ۔[101] انہوں نے عوام کو بتایا کہ یہ اصلاحات شرعی طور پر بھی واجب ہیں:

”متمرد از آن یا جاہل و احمق است یا معاند دین حنیف اسلام“

ترجمہ: ”(ان اصلاحات کا) مخالف یا جاہل اور بیوقوف ہے یا اسلام کا دشمن ہے ۔“ [102]

اور یہ کہ: ”تہیہ اسباب استغنا از مصنوعات خارجہ و احداث کارخانجات و ترویج امتعہ داخلیہ و افتتاح مکاتب و مدارس کاملہ بہ تعلیم و تعلم علوم و صنایع محتاج الیھا، با کمال مراقبت و تحفظ بر عقائد و اخلاق و اعمال اطفال مسلمین، نہ مثل معلم خانہ ہای سابقہ کہ از روی بے انضباطی جز فساد عقائد نتیجہ نداد. تا آنکہ بوسیلہٴ تعلم این علوم و صنایع کہ ہم خودش فی نفسہ واجب کفایی و ہم امروزه تحفظ حوزہ بیضہٴ اسلام بر آن متوقف و لہذا از اہم واجبات است، دین و دنیای مسلمانان محفوظ و از چنگال اعادی مستخلص شوند.“

ترجمہ:”خارجی مصنوعات کی ضرورت سے آزاد ہونے کے اسباب، کارخانوں کا قیام، مقامی مصنوعات کی ترویج، مسلمان بچوں کے عقائد اور اخلاق کے تحفظ کا خاص اہتمام کرتے ہوئے سکولوں اور کالجز کا قیام کہ جن میں جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم دی جائے، ایسا نہ ہو کہ جیسے پہلے زمانے میں اتالیق گھر پڑھانے آتا تھا اوراس کی کام چوری اور بے راہروی کی وجہ سے بچوں کی سوچ پر برے اثرات پڑنےکے سوا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا تھا، تاکہ ان علوم اور صنایع کی تعلیم، کہ جو نہ صرف فی نفسہٖ واجب کفایی ہے بلکہ آج اسلام کا تحفظ اس پر منحصر ہے اور یوں یہ باقی واجبات پر مقدم ہے، کی بدولت مسلمانوں کے دین و دنیا محفوظ ہو جائیں اور دشمنوں کے چنگل سے آزاد ہو جائیں ۔“[103]

اسلامی اخلاق و عقائد کے سائے میں جدید سائنس کی تعلیم دینے والے اداروں کا قیام آخوند خراسانی کی نظر میں ہنگامی عجلت کا معاملہ تھا ۔[104] یہاں ممکن ہے وہ مسیحی مشنری سکولوں کے اثرات سے بھی پریشان ہوں کہ جن پر انہوں نے کئی مواقع پر بھی تنقید کی ہے ۔ممکن ہے وہ 1851ء میں قائم ہونے والے دار الفنون جیسے اداروں کی طرف اشارہ کر رہے ہوں جس کا منصوبہ بنانے اور اسے قائم کرنے کا سہرا ایران کے روشن خیال وزیر اعظم امیر کبیر (متوفی 1852ء) کے سر ہے ۔

مغربی علوم کی ایسی واضح حمایت کے سلسلے میں آخوند خراسانی کا موقف ثقۃ الاسلام تبریزی کے موقف سے قابل مقایسہ ہے:

”کیا یہ ضروری نہیں ہے کہ مخالفین جیسی ہی مادی اور اخلاقی قوت فراہم کی جائے؟ جیسا کہ آیہ مقدسہ میں کہا گیا ہے: وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة ومن رباط الخيل، [105]اس وقت یہی چیزیں دشمن کے تسلط اور نفوذ میں اضافے کا سبب ہیں ۔کیا سکول قائم کرنا لازم نہیں؟ جیسا کہ اس آیہ شریفہ میں آیا ہے: فمن اعتدى عليكم فاعتدوا عليہ بمثل ما اعتدى عليكم، [106] ہمیں دولت پیدا کرنی چاہیے، روزمرہ کی زندگی کی ضروریات کیلئے ٹیکنالوجی حاصل کرنی چاہیے، سیاسی علوم اور دوسرے علوم سیکھنے چاہئیں ۔یہ چیزیں ہمیں غیر ملکیوں پر انحصار کرنے سے نجات دیں گی ۔یہی انحصار اس کا سبب بنا ہے کہ آج مسلمانوں کے علاقوں پر کفار کا قبضہ ہے ۔لہذا ہمیں انہی طریقوں سے انہیں جواب دینا ہو گا جن کو انہوں نے ہمارے خلاف استعمال کیا ہے ۔“ [107]

آخوند خراسانی کی طرف سے حکمت عملی میں جدت پیدا کرنے کی مہم ان کے مغربی طاقتوں کے ساتھ پیچیدہ قسم کے تعلقات کے ہمراہ تھی ۔آخوند خراسانی ایک طرف تو یہ سمجھتے تھے کہ آئینی جمہوریت ہی ایران کو مغرب کے ممکنہ قبضے میں جانے سے بچا سکتی ہے، وہیں وہ برطانیہ کے سیاسی نظام کو ایران کیلئے مناسب سمجھتے تھے ۔کئی سالوں سے وہ روسی اور برطانوی طور طریقوں اور اہداف میں فرق کا ادراک رکھتے تھے، اور اسی طرح جرمنی اور فرانس کے سیاسی ڈھانچوں میں فرق کو بھی وہ سمجھتے تھے ۔تحریکِ جمہوریت کے آغاز سے پہلے ایران روس کا بہت زیادہ مقروض ہو چکا تھا اور یہ روس ہی تھا جس کی نظریں آذربائیجان اور خراسان پر لگی تھیں ۔آخوند خراسانی نے برطانیہ کے بارے میں ایک تدبیر سوچی ۔1909ء کے موسم گرما میں انہوں نے بغداد میں برطانوی سفارت خانے میں سفیر سے ملنے کیلئے اپنے نمائندے بھیجے تاکہ روسی فوج کے حملے کے خلاف برطانیہ سے کمک حاصل کی جا سکے ۔[108] وہ برطانوی وفود سے ملاقات بھی کیا کرتے تھے اور کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر ایڈورڈ براؤن (متوفی 1926ء) سے بھی خط و کتابت کیا کرتے تھے ۔29اکتوبر 1908ء میں یہ پروفیسر صاحب ”پرشیا کمیٹی“ کے نام سے قائم ہونے والی ایک لابی کے بانیوں میں شامل تھے جس کا مقصد سر ایڈورڈ گرے (متوفی 1933ء) کے ماتحت چلنے والے محکمہٴ خارجہ پر دباؤ ڈالنا تھا کہ وہ ایران کی بابت اپنی حکمت عملی کو تبدیل کریں اور ایران میں جمہوری قوتوں کی حمایت کریں ۔[109] پرشیا کمیٹی کی سربراہی معروف تاجر ہنری لنچ (متوفی 1913ء) کر رہے تھے اور پروفیسر ایڈورڈ براؤن اس کے نائب صدر تھے ۔پرشیا کمیٹی کے ارکان 1907ء میں برطانیہ اور روس کے درمیان ہونے والے معاہدے کے ناقد تھے جس میں ایران کے دو حصوں پر ایک دوسرے کا نفوذ مانا گیا تھا ۔کمیٹی نے ایران کی تحریکِ جمہوریت کے ان کارکنان کی بھی مدد کی جو ایران سے پناہ کی تلاش میں برطانیہ گئے اور وہاں کے عوام میں ایران کے حالات کے بارے میں شعور پھیلانا چاہا ۔پروفیسر ایڈورڈ براؤن نے دسمبر 1911ء میں اپنی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے تبریز میں روسی افواج کے ہاتھوں ہونے والے قتلِ عام میں برابر کا شریک ٹھہرایا ۔[110]

اگرچہ آخوند خراسانی اکثر اپنے خطوط اور تحریروں میں ان مختلف ممالک کو عموماً دول اجنبیہ، [111] یا حتیٰ کفار[112] بھی کہتے ہیں، لیکن انہوں نے رمضان 1908ء اور ربیع الاول 1910ء میں اپنے پیغامات میں ان ممالک کیلئے دول متمدنیہ، [113] دول مسیحیہ، [114] اور ملتِ نجیب اور دولتِ فخیمہ [115]جیسے القاب بھی استعمال کئے ہیں ۔ان القاب کی توجیہ وہ اس طرح کرتے ہیں کہ ان ممالک نے بہت پہلے یہ سمجھ لیا ہے کہ آزادی ایک خدائی تحفہ ہے اور اس کے حصول کی کوشش ہر انسان کا بنیادی حق ہے، جبکہ ایران میں ہمیں سابقہ بادشاہ مظفر الدین شاہ قاجار کا اس بات پر شکریہ ادا کرنا پڑا کہ اس نے ملک کو اس سمت جانے کی اجازت دی ۔[116] یہ آخری نکتہ سبھی جمہوریت پسند علماء کیلئے نہایت اہم تھا جو آزادی کے شعور کو معاشرے میں اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور آزادی کو بے لگامی، بد نظمی اور بے دینی سے الگ کرکے سمجھانا چاہتے تھے ۔مثال کے طور پر ثقۃ الاسلام تبریزی آزادی کو خدا کے اس انعام سے تعبیر کرتے ہیں جو قرآن کے مطابق بنی اسرائیل کو دیا گیا تاکہ وہ اپنے آپ کو فرعون کے ظلم سے نجات دلا سکیں:

”یہ آزادی اس طرح کی ہے جو خالقِ مہربان نے بنی اسرائیل کو عطا کی تاکہ ان کو فرعون سے آزاد کرے ۔“ [117]

آخوند خراسانی کا اصلی ہدف ان ممالک، بالخصوص برطانیہ، کو اس بات کی طرف مائل کرنا تھا کہ انسانی بنیادوں پر روس کی ایران میں پیش قدمی روکنے کی کوشش کریں ۔[118] لیکن 31اگست 1907ء کے برطانیہ روس معاہدے کے بعد جو کچھ ہوا، اس سے آخوند خراسانی کی مایوسی میں اضافہ ہوتا گیا ۔4 نومبر 1910ء کو اپنے خط میں وہ کہتے ہیں کہ برطانیہ جنوبی ایران میں اپنا تسلط اور نفوذ قائم کرنے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے اور جمہوری قوتوں کی کوئی حقیقی مدد کرنے کے بجائے روس کی طرح کے کام ہی کر رہا ہے ۔[119] اس کے کچھ دن بعد11 نومبر 1910ء کو برطانیہ کی طرف روانہ کئے گئے خط میں انہوں نے کہا کہ کوئی ایرانی برطانیہ سے اس خیانت کی امید نہیں رکھتا تھا:

”ہر گز گمان نبود کہ آن دولت حق پرست آزادی خواہ کہ در اقطار عالم خود را معرفی بہ طرفداری از حقوق نوع بشر فرمودہ اند، مسلک قدیم و قویم خود را از دست دادہ، در محو آزادی و استقلال ایران، با دولت روس ہمدست شوند، و نظیر معاملات روس در شمال ایران را نسبت بہ جنوب ایران در صدد بر آیند.“

ترجمہ: ”کوئی گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ آزادی اور حق پرستی کا نعرہ بلند کرنے والا ملک کہ جو خود کو اقوام عالم میں انسانی حقوق کے حامی کے طور پر پیش کرتا ہے، اپنے قدیم اور پختہ مکتب فکر کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایران کی آزادی اور استقلال کے خاتمے کیلئے روس کے ساتھ مل جائے اور جو کچھ روس ایران کے شمالی علاقوں میں کر رہا ہے وہی کچھ یہ ملک جنوبی ایران میں کرنے لگے ۔“

اس سلسلے میں پروفیسر ایڈورڈ براؤن کے نام لکھے گئے خطوط کافی اہم ہیں، اگرچہ ان کی تعداد بہت کم ہے ۔پروفیسر نے 1 جنوری1910ء کو علماء کے نام ایک خط لکھا اور اس کے بعد ان کے اور آخوند خراسانی کے مابین پارلیمنٹ کے دوسری بار ٹوٹنے سے کچھ ماہ پہلے 1911ء کے موسم گرما تک خط و کتابت ہوتی رہی ۔ان خطوط میں ایک دوسرے کو بہت احترام سے مخاطب کیا جاتا تھا ۔پروفیسر ایڈورڈ براؤن انہیں ”ہمارے حجۃ الاسلام“ کہہ کر پکارتے [120]اور آخوند خراسانی ان کیلئے ”حضرت العالم الفاضل“ کے القابات استعمال کرتے تھے ۔[121]ایڈورڈ براؤن اپنے خطوط میں اس بات کا یقین دلاتے کہ وہ ایران کی تحریکِ جمہوریت کے ساتھ ہیں اور یہ کہ برطانیہ میں وہ اکیلے ہی نہیں جو اس مقصد کیلئے کوشاں ہیں ۔برطانیہ کی لبرل پارٹی کے کچھ ارکان نے قیادت سے اس مسئلے پر اختلاف کر کے پرشیا کمیٹی میں شمولیت اختیار کر لی اور پھر کئی مفکرین، بائیں بازو کے لوگ اور کچھ اخباروں؛ جیسے مانچسٹر گارڈین اور دی لیبر لیڈر اینڈ جسٹس؛ کے ایڈیٹرز بھی ان سے آ ملے ۔[122] یہ دو اخبارات لیبر پارٹی اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے داخلی دھڑوں کے نشریاتی ادارے تھے ۔1912ء میں پرشیا کمیٹی کی طرف سے منعقد کئے گئے جلسے میں چھ ہزار افراد نے شرکت کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لابی کتنی قوت پکڑ چکی تھی ۔[123]

آخوند خراسانی کے نام اپنے خط میں پروفیسر ایڈورڈ براؤن امید افزا لہجے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ برطانوی حکومت مسلم دنیا کے بارے میں اپنی حکمت عملی میں اصلاح کی طرف جا رہی ہے ۔وہ یہاں تک کہتے ہیں کہ وہ خود کو ایرانی سمجھتے ہیں، اور یہ کہ ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس سے بہت متاثر ہوئے ہیں اور وہ اس قوم کی تقدیر کیلئے دعاگو ہیں ۔[124] وہ ایرانیوں کی اس بات سے متفق تھے کہ ایران پر بیرونی حملے کا خطرہ منڈلا رہا ہے، لیکن وہ ایرانیوں کو اس عمل میں اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہ رہنے کی بھی تلقین کرتے ہیں ۔چنانچہ وہ ایران میں اصلاحات کے عمل میں تیزی لانے پر زور دیتے ہیں تاکہ برطانوی فوج کو (اپنے شہریوں کے مفادات کے تحفظ کے نام پر) مداخلت کا کوئی جواز نہ مل سکے، اور اس سلسلے میں شاہراہوں پر امن و امان کی صورت حال اور جنوبی ایران میں بختیاری قبائل اور قشقائی قبائل کے بیچ جنگوں کے ختم نہ ہونے والے سلسلے کا خاص طور پر ذکر کرتے ہیں:

”واضح سی بات ہے کہ جب بھی برطانوی تاجروں کے قافلے اغوا کر کے لوٹے جاتے ہیں، بالخصوص جب اس دوران کچھ لوگ مارے بھی جاتے ہیں، تو تاجر برطانوی حکومت کے ایوانوں میں اپنی بات منوانے کی کوشش کریں گے اور کسی مداخلت کی درخواست کریں گے ۔لیکن اگر ایسی چیزیں نہ ہوں تو وہ انہیں مداخلت کے جواز کے طور پر پیش نہیں کر سکیں گے ۔“ [125]

اس ضمن میں ایڈورڈ براؤن نے یہ بھی کہا کہ ان معاملات پر کوئی ٹھوس کاروائی نہ کرسکنا ایران کے ساتھ بھی خیانت ہو گی:

”چنانچہ یہ بہت ضروری ہے کہ ایرانی قبائل کی جہالت بیرونی قوتوں کو ایسا کوئی جواز فراہم نہ کرے اور وہ یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ڈاکے اور لوٹ مار کرنے والوں پر الزام آیا کرتا ہے ۔اس وقت جب ایران مشکلات میں پھنسا ہوا ہے، ایسے کام مادرِ وطن سے خیانت ہیں ۔“ [126]

ایک اور جگہ کہتے ہیں:

”ایران کی طاقت اور عزت اس کے اتحاد اور آئین کی اطاعت میں ہے، قانون کے نہ ہونے اور ہرج مرج میں نہیں ۔“ [127]

جنوری 1910ء میں وہ بھی حکومتی بجٹ میں بد انتظامی کی طرف متوجہ ہوئے، کہ یہ بھی بیرونی مداخلت کا ایک بہانہ بن سکتا تھا ۔[128] آخر میں انہوں نے قوم کیلئے ذاتی مفادات کی قربانی دینے کی بات کی:

”فرد کی عظمت اس میں ہے کہ وہ اپنی ذات سے بالا تر ہو کر اپنے وطن کی بہتری کیلئے سوچ سکتا ہو ۔“ [129]

ایڈورڈ براؤن کے بیانات ایران میں پڑھے جاتے تھے، جیسا کہ حزبِ دموکرات کے رکن اور ایران کے وزیرِ خارجہ حسین قلی خان نے ہنری لنچ سے وعدہ کیا کہ وہ ان سفارشات پر غور کر کے جنوبی ایران میں شاہراہوں کے امن کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گا۔

آخوند خراسانی نے ان متعدد نکات کا جواب ایک مختصر خط میں دیا جس میں ایڈورڈ براؤن کو یقین دلایا کہ انہوں نے ان کا بغور مطالعہ کیا ہے اور وہ ان سے کلی طور پر متفق ہیں اور وہ برابر ایرانیوں کو ان اصلاحات کی دعوت دیتے رہتے ہیں ۔ظاہر ہے کہ شیخ فضل الله نوری اور اس کے درباری ساتھیوں نے تحریکِ جمہوریت کے علماء اور برطانوی افراد کے بیچ خط و کتابت کا پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور مراجع کو مغرب کا ایجنٹ، بابی فرقے کا ایجنٹ اور اسلام کا غدار قرار دیا ۔[130]

نوٹ: یہ سلسلہٴ مضامین پروفیسر ڈینس ہرمن کے مقالے کا اردو ترجمہ ہے جو اقساط کی شکل میں پیش کیا جاۓ گا-


ڈاکٹر حمزہ ابراہیم مذہب، سماج، تاریخ اور سیاست پر قلم کشائی کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں