روح اور حیات انسانی قسط نمبر2 (میر افضل خان طوری)

روح سے متعلق تمام آیات جو انسان کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، نشاندہی کر رہی ہے کہ انسانی روح ایک غیر معمولی حقیقت ہے۔ تفسیر المیزان جلد 13، ص 195۔

امام جعفر صادق علیہ السلام کے قول کا مفہوم یہ ہے کہ “انسان جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ساری کائنات وہی ہے۔ پیدائش کے وقت اس کے رونے کا بھی یہی سبب ہے کیونکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کی موت واقع ہو رہی ہے۔ لیکن درحقیقت وہ ایک کائنات سے دوسری کائنات میں منتقل ہو رہا ہوتا ہے”۔
بقول ڈاکٹر غلام جیلانی برق ” تمام فلسفوں اور مذہبوں کی بنیاد اس نظریے پر ڈالی گئ ہے کہ حیات میں تسلسل ہے۔ انسان پیدا تو ہوتا ہے لیکن مرتا نہیں۔ جس کو ہم موت کہتے ہیں وہی ایک نئی حیات کی ابتدا ہوتی ہے۔ جب یہ جسم خاکی بیکار ہوجاتا ہے تو حیات جسم لطیف میں منتقل ہوجاتی ہے اور اعمال کے مطابق مقام حاصل کرتی ہے”۔
مشہور یونانی فلسفی فیثاغورت کے مطابق انسان جسم مادی اور جسم لطیف ( روح ) کا مرکب ہے۔ فیثاغورت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جسم مادی کو چھوڑ کر جسم لطیف پرواز کیا کرتا تھا۔ اسی طرح یونانی فلسفی سقراط وجود خدا پر کامل یقین رکھتا تھا۔ وہ کبھی کبھار اپنے مسائل کے حل کیلئے الہامی قوت سے بھی رجوع کرتا تھا۔
“روح” اور “تسلسل حیات” اسرار کائنات میں سے بڑے راز ہیں۔ جس کے ادراک سے عقل انسانی ہمیشہ قاصر رہی ہے۔
فرانسیسی سکالر اور فزیالوجسٹ رچٹ ( Richet ) نے اپنی کتاب ( Thirty years of physical research ) میں روح اور جسم کے حوالے سے بہت بہترین بحثین کی ہیں۔ اس کتاب میں مٹافزکس کے اصولوں کے تحت نامعلوم انٹیلجنٹ فورسز پر سائنسی طریقے سے بحث کی گئ ہے۔ اس نے اپنی اس کتاب میں عالم روح اور ایتھر کے وجود کا اعلان کیا ہے۔
ایت اللہ شہید دستغیب رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب نفس مطمعنہ میں فرماتے ہیں کہ “روح ایک لطیفہ غیبیہ ہے۔ جو “عالم امر” سے “عالم مادی” میں ظہور پذیر ہوا ہے۔ روح کا تعلق جب مادے کے ساتھ قائم ہوجائے تو نفس بن جاتا ہے”۔
“نفس انسانی” کے حوالے سے آگے تفصیل سے بحث کرینگے۔
روح کو اہل فن جسم لطیف اور اسٹرل بادی کہتے ہیں۔ یہ مستقل اور غیر فانی ہے۔
پادری لیڈ بیٹر لکھتا ہے کہ ” تم جسم نہیں ہو۔ یہ جسم تمہاری قیام گاہ ہے۔ اجسام محض خول ہیں۔ جنھیں ہم موت کے وقت یوں پرے پھینک دیتے ہیں۔ جس طرح کہ کپڑے اتار دیئے جاتے ہیں”۔
دنیا کی قدیم ترین ویدک ہندوستانی فسلاسفا نے روح یعنی آتما کو حیاتی سانس کہا ہے جو کہ انسان میں موجود ہے۔ بعد میں اسکو ذات عالم کہا گیا ہے۔اور آخر میں کہا گیا ہے کہ وہ ذات جو انسان میں ہے ایک ذات اعظیم سے وجود پذیر ہوا ہے جسکے علم سے انسان پاک ہوجاتا ہے، جو اس عالم سے ربط رکھتا ہے اور پھر اس پر غالب آجاتا ہے”۔
روح وہ “امر الہی” ہے جس کی وجہ سے کائنات کا ذرہ ذرہ زندہ ہے۔

آگے جاری ہے۔۔۔۔


نوٹ:کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں ۔ ادارے  اور اس کی پالیسی کاان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں