203

عصمت خانجڑیو۔۔۔مردہ قوم کی مردہ بیٹی (ساجد خان)

عصمت خانجڑیو مر گئی بلکہ مار دی گئی، بہت سے افراد اس نام سے ہی واقف نہیں ہوں گے اور نا ہی یہ جانتے ہوں گے کہ اس قوم کی بیٹی کے ساتھ کیا ظلم ہوا کیونکہ اس کے ساتھ اتنا ظلم ہونے کے باوجود بھی اس خبر نے پاکستانی میڈیا کو زیادہ متوجہ نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکمرانوں کو بھی اس واقعہ پر نوٹس لینے کی زحمت نہیں ہوئی مگر یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے لئے ندامت سے سر جھکانے کے لئے کافی ہے۔

کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری کالونی کی عصمت خانجڑیو ایک غریب ماہی گیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، جس نے غربت کے ساۓ میں تعلیم حاصل کی اور انڈس ہسپتال میں ٹی بی کے شعبہ میں ملازمت اختیار کی مگر کچھ عرصے کے بعد ہی ایک افسر ڈاکٹر شکیل کے رویہ سے دل برداشتہ ہو کر سندھ گورنمنٹ ہسپتال میں تبادلہ کروایا مگر پھر ملازمت چھوڑ دی۔

کچھ دن قبل اسے دانت کے درد کی شکایت ہوئی تو وہ سندھ گورنمنٹ ہسپتال میں معائنے کے لئے جاتی ہے، جہاں اسے ایک ہفتے کی دوائی دے کر ایک ہفتے کے بعد دوبارہ چیک اپ کے لئے کہا گیا۔ ایک ہفتے کے بعد وہ دوبارہ چیک اپ کے لئے ہسپتال جانے لگتی ہے تو اپنی والدہ سے یہ کہتی ہے کہ میں واپس آ کر کھانا بنا لوں گی،اس لئے تم تکلیف مت کرنا۔

عصمت ہسپتال چلی جاتی ہے اور اس کی والدہ اس کے انتظار میں بیٹھی رہی کہ کب وہ آۓ اور کھانا بنائے لیکن جب تین گھنٹے کے بعد بھی بیٹی واپس نہیں آتی تو وہ کھانا تیار کرنے لگ جاتی ہے مگر کئ گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی جب وہ واپس نہیں آتی تو ماں کو تشویش لاحق ہوتی ہے۔

اس دوران اسے ایک کال آتی ہے کہ آپ کی بیٹی کی طبیعت بگڑ گئی ہے اور اسے جناح ہسپتال منتقل کر دیا ہے لہذا آپ جلد از جلد وہاں پہنچیں۔ عصمت کی ماں گھبرا کر جناح ہسپتال کی طرف روانہ ہو جاتی ہے کہ راستے میں دوبارہ کال آتی ہے کہ آپ جناح ہسپتال مت جائیں کیونکہ آپ کی بیٹی کو سندھ گورنمنٹ ہسپتال میں شفٹ کر دیا گیا ہے، اس لئے آپ یہاں پہنچ جائیں،جب وہ سندھ گورنمنٹ ہسپتال کے قریب پہنچی تو انہیں ایک دفعہ پھر کال آتی ہے کہ آپ کی بیٹی کو دوبارہ جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے لہذا آپ وہاں پہنچیں۔

ماں کو یہ سب عجیب محسوس ہوا، اس لئے اس نے پہلے سندھ گورنمنٹ ہسپتال جانا ہی بہتر سمجھا اور ہسپتال میں اپنی بیٹی کو تلاش کرتے کرتے جب ٹی بی وارڈ میں داخل ہوئی تو سامنے ہی اپنی بیٹی کی لاش دیکھی جبکہ اسی کمرے میں اسٹاف کے ساتھ انڈس ہسپتال کے ڈاکٹر شکیل کو بھی بیٹھا دیکھا،جس کی وجہ سے عصمت خانجڑیو کو ایک سال قبل ملازمت چھوڑنی پڑی تھی۔

عصمت کی والدہ کو دیکھ کر ڈاکٹر شکیل خاموشی سے وارڈ سے باہر چلا گیا جبکہ وہاں پر موجود ڈاکٹر ایاز نے بتایا کہ آپ کی بیٹی کو علاج کی غرض سے اینٹی بائیوٹک انجیکشن لگایا گیا تھا،جس کی وجہ سے ری ایکشن ہو گیا اور اس کی حالت بگڑ گئی اور اس کی موت واقع ہو گئی۔

عصمت کی والدہ کو اس کہانی پر یقین نہیں آیا کیونکہ ڈاکٹر شکیل کی موجودگی سے معاملہ مشکوک ہو چکا تھا لہذا اس نے بیٹی کی لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا۔

علاقہ مکینوں کو جب اس افسوسناک واقعہ کی خبر ہوئی تو وہ ہسپتال میں جمع ہونا شروع ہو گۓ اور عصمت کے پوسٹ مارٹم کا مطالبہ کیا جانے لگا۔

ہسپتال انتظامیہ پر دباؤ بڑھا تو عصمت کے پوسٹ مارٹم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جب پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آئی تو اس میں عصمت خانجڑیو سے نا صرف جنسی زیادتی کے شواہد ملے بلکہ یہ بھی انکشاف ہوا کہ عصمت کو زیادتی کے بعد زہریلا انجیکشن لگایا گیا، جو اس کی موت کا سبب بنا۔

عصمت خانجڑیو کے کیس کا کیا فیصلہ ہو گا،یہ تو نہیں معلوم لیکن اس واقعے نے ہمارے مسیحاؤں کے بھیس میں چھپے چند وحشی جانوروں کو ضرور بینقاب کر دیا ہے۔

ہمارے ہسپتالوں میں خواتین مریضوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا پہلا کیس نہیں ہے اور نا ہی آخری واقعہ ہے۔ ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے کیونکہ ریاست ان معاملات کو سنجیدہ ہی نہیں لیتی۔ تفتیش سے لے کر عدالت کے فیصلے تک ایسی کمزوریاں پیدا کی جاتی ہیں کہ مجرم کچھ عرصہ کے بعد ہی باعزت بری ہو جاتے ہیں۔

وفاقی حکومت کی اگر بات کریں تو انہیں چالیس سال پہلے کے زمانے میں جنرل ایوب خان کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو کھڑا نظر آ جاتا ہے مگر کراچی میں قوم کی بیٹی کے ساتھ ہوتا ظلم نظر نہیں آتا۔
سندھ حکومت کو پشاور میں بی آر ٹی میں خامیاں نظر آ جاتی ہے مگر اپنی ناک کے عین نیچے ہوتا یہ ظلم نظر نہیں آیا۔
ہم بنیادی طور پر مردہ قوم بن چکے ہیں جن کو اس ظلم عظیم پر رتی برابر بھی دکھ نہیں ہوا۔ ہماری سول سوسائٹی، ہماری عورتوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والی تنظیمیں اس معاملے پر آنکھیں بند کۓ بیٹھی ہیں۔ عصمت نے زندگی میں نجانے کتنے خواب دیکھے ہوں گے جو اجاڑ دیئے گئے۔

ایک لمحہ کے لئے تصور کیجئے کہ جب اس کے جسم میں زہر اتارا جا رہا ہو گا تو اس نے کس کس کو پکارا ہو گا۔ اسے اپنا باپ،اس کے لئے سمندر میں لہروں سے لڑتا نظر آیا ہو گا جو اپنی بیٹی کی شادی کے لئے پیسے کمانا چاہتا ہو گا۔ اسے ماں یاد آئی ہو گی جو اس کی واپسی کی راہ تک رہی ہو گی مگر ہوس کے ان پجاریوں نے ایک لمحہ میں ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا۔

اس کا قصور کیا تھا،فقط یہ کہ اس کے جسم سے چند وحشیوں نے اپنی ہوس کی آگ بجھائی اور پھر اپنے گناہ کی سزا اس بیگناہ کو دے دی کہ وہ دنیا کی نظروں میں پارسا رہیں۔ ایسے وحشیوں کے لئے جتنی بھی سخت سزا مقرر کی جائے،وہ کم ہے۔

آپ سعودی عرب اور ایران سے لاکھ اختلاف رکھتے ہوں لیکن میری نظر میں ان ممالک میں ایسے وحشیوں کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے، یہ اسی کے حقدار ہیں۔
انسان کے بھیس میں چھپے یہ درندوں کو چند دنوں میں ہی سعودی عرب کے قانون کی طرح سرعام سر قلم کر دینا چاہئے یا ایران کے قانون کے مطابق سرعام پھانسی پر لٹکا دینا چاہئے کیونکہ ایسے لوگ کسی صورت بھی رحم کے قابل نہیں ہیں بلکہ انسانیت کے نام پر بد نما دھبہ ہیں لیکن سوال پھر یہی ہے کہ یہ کام کرے تو کون کرے ؟


نوٹ:کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں ۔ ادارے  اور اس کی پالیسی کاان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں