193

اورماڑہ میں سیکیورٹی فورسز پر حملہ مقامی دہشت گردوں نے کیا: ایف سی کمانڈنٹ بلوچستان کا انکشاف

اسلام آباد (ڈیلی اردو) فرنٹیئر کوربلوچستان کے کمانڈنٹ نے سینٹ کمیٹی کو بریفنگ میں انکشاف کیا ہے کہ سرحد پر باڑ لگانے کے دوران ایران سے مزاحمت ہوئی، بلوچستان کی طرف سے داخل ہو کر حملہ کیا گیا، جوابی کارروائی میں 15 شرپسند ہلاک کر دیئے گئے ۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ نے داتا دربار دھماکے کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے کہاکہ حکومت داتا دربار دھماکے میں ملوث دہشتگرد، سہولت کار و نیٹ ورک کو بے نقاب کرے جبکہ کمیٹی نے سکیورٹی صورتحال پر نیکٹا، صوبوں کے آئی جیز، ہوم سیکرٹریز اور سیکرٹری دفاع سے بریفنگ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اجلاس سینیٹر رحمان ملک کی زیرصدارت ہوا۔ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے دھماکے کے شہداء کیلئے فاتحہ خوانی اور اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔

رحمنٰ ملک نے کہاکہ لگتا ہے پاکستان دشمن عناصر پھر سے متحرک ہوچکے ہیں۔ سینٹ کمیٹی کو ایف سی کمانڈنٹ بلوچستان نے بتایا کہ پاک ایران بارڈر پر باڑ لگانا شروع کر دی ہے لیکن ایران کی طرف سے مزاحمت کی جا رہی ہے، پاک ایران بارڈر پر 3 سے 4 سال تک باڑ لگانے کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ پاک ایران بارڈر پر قلعے بھی بنائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران انٹیلی جنس معلومات پر کارروائیاں کی ہیں۔ سرحد پار سے آنے والے دہشت گردوں کو ہلاک کرنا بڑی کامیابی ہے۔ تاہم نیوی اہلکاروں کو شہید کرنیوالے تمام دہشتگرد ایران سے نہیں آئے تھے، 15 میں سے 12 مقامی غداروں نے ان کا ساتھ دیا۔

اس پر سینیٹر رحمن ملک کا کہنا تھا کہ اب واضح ہوا کہ بلوچستان دھماکے میں ملوث سارے حملہ آور ایران سے نہیں آئے تھے، ان کے چند ماسٹر مائنڈ ایران سے آئے تھے جو واپس چلے گئے۔

رحمان ملک نے کہا کہ بلوچستان میں بہت سے جرائم کے پیچھے بھارتی ایجنسی را ملوث ہے ۔ مودی نے کھلم کھلا دھمکی دی تھی کہ پاکستان کو بلوچستان میں سبق دیں گے ۔

ہمیں بارڈر کی مانیٹرنگ کے لئے ای سسٹم لانا چاہئے ۔آئی جی ایف سی کی طرف سے کمیٹی کو بتایاگیاکہ رواں مالی سال کے دوران ڈیمانڈ سے 59 فیصد کم بجٹ دیا گیا، فورس کا آپریشن متاثر ہوتا ہے ، نئے ونگز کے بقایاجات بھی نہیں دئیے گئے ۔کمیٹی ارکان نے ایف سی بلوچستان کو ضرورت سے کم بجٹ دینے پر شدید تحفظات کا اظہارکیا ۔

کمیٹی داخلہ نے ایف سی کے شہید کے لئے ایک کروڑ امداد اور اہلکار کی تنخواہ پولیس اہلکار کے برابر کرنے کی سفارش کر دی۔چیئرمین کمیٹی نے سینیٹر رانا مقبول احمد کے زیر صدارت ذیلی کمیٹی تشکیل دی۔

اجلاس میں پاکستانی لڑکیوں سے چین کے لڑکوں کی شادی کی خبروں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔رحمان ملک نے کہا ہو سکتا ہے کہ یہ بھی سازش کے تحت کیا جا رہا ہو۔ کمیٹی نے وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کرلی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں