140

ارکان پارلیمنٹ کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ الیکشن کمیشن میں 40 سے زائد ارکان پارلیمنٹ کے گوشواروں میں تضاد سامنے آ گیا

اسلام آباد( ڈیلی اُردو) الیکشن کمیشن میں ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے گوشواروں کی چھان بین کے دوران 40 سے زائد ارکان پارلیمنٹ کے گوشواروں میں تضاد سامنے آ گیا، الیکشن کمیشن نے وضاحت مانگ لی۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن میں ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے گوشواروں کی چھان بین جاری ہے، 40 سے زائد ارکان پارلیمنٹ کے گوشواروں میں تضاد سامنے آگیا، الیکشن کمیشن نے چالیس ارکان پارلیمنٹ سے وضاحت طلب کرلی ہے، الیکشن کمیشن کاکہناتھاکہ مالی سال 2017 اور 2018 کے گوشواروں میں مطابقت نہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیر آبی وسائل فیصل واڈا، وفاقی وزیر عمر ایوب، حنا ربانی کھر، وفاقی وزیر زبیدہ جلال، امیر حیدر ہوتی، شاہ زین بگٹی، کنول شوزب، دانیال عزیز کی اہلیہ مہناز عزیز، اکبر چترالی، وفاقی وزیر ریلوےشیخ رشید، غلام سرور خان، علی حیدر، سلیم رحمان، بشیر خان، شیر احمد خان، محمد نواز خان، صالح محمد خان، انور تاج، عمران خٹک، نور عالم خان، ارباب عامر ایوب، محمد اقبال خان، منصور حیات خان، ملک احسان اللہ ٹوانہ، قیصر احمد شیخ، راؤ محمد اجمل، محمد منیر وٹو، سید فخر امام، احمد حسین، میاں شفیق، سید مصطفی محمود، مرتضی محمود، آفتاب شعبان میرانی، خالد لنڈ، نور محمد شاہ جیلانی، سکندر علی راہوپٹو، عبدالشکور شاہ، شائستہ پرویز، نصرت واحد، شہناز بلوچ کے گوشواروں پر تضاد نکل آیا،

ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے متعدد ارکان کو دوبارہ خطوط ارسال کردئیے، الیکشن کمیشن نے 15 روز میں ارکان سے تضاد دور کرنے کی ہدایت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں