206

داتا دربار دھماکا: خودکش بمبار کی شناخت صادق اللہ مہمند کے نام سے ہو گئی، سہولت کار گرفتار

لاہور (ڈیلی اردو/ ویب ڈیسک) پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی ( سی ٹی ڈی) اور انٹیلی جنس بیورو ( آئی بی ) نے داتا دربار خودکش حملے کے ایک سہولت کار کو گرفتار کر لیا جبکہ خودکش حملہ آور کی شناخت بھی کر لی ہے۔

سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق مبینہ سہولت کار محسن خان کو بھاٹی گیٹ کے علاقے سے گرفتار کیا گیا اور وہ چارسدہ کے علاقے شبقدر کا رہائشی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور کی شناخت صادق اللہ مہمند کے نام سے ہوئی ہے۔

سی ٹی ڈی ذرائع نے بتایا کہ خودکش حملہ آور افغانستان کا رہائشی تھا اور افغان پاسپورٹ پر 6 مئی کو طورخم بارڈر سے پاکستان میں داخل ہوا۔

خودکش حملہ آور صادق اللہ مہمند کو طیب اللہ نامی شخص نے طورخم بارڈر سے لے کر لاہور پہنچایا جہاں دونوں نے 7 مئی کو سہولت کار محسن اور نور زیب کے گھر (بھاٹی گیٹ) پر قیام کیا۔

ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چارسدہ کے علاقے شبقدر سے تعلق رکھنے والے بہرام خان کے بیٹے محسن خان کو حراست میں لیا۔

محسن نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند کے رہائشی طیب اللہ عرف راکی نے افغان شہری صادق اللہ مہمند کے پہنچنے پر ان سے ملاقات کی تھی، جو 6 مئی کو طورخم بارڈ کے ذریعے افغانستان سے پاکستان پہنچے تھے اور پھر انہیں لاہور پہنچایا تھا جہاں 8 مئی کو ہونے والے بم دھماکے میں ایلیٹ فورسز کے 5 اہلکاروں سمیت 13 افراد شہید ہوگئے تھے۔

دھماکے سے قبل سہولت کار (محسن)، ہینڈلر اور خودکش بمبار بھاٹی گیٹ کے علاقے میں ایک مکان میں رہائش پذیر تھے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد کے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی شاخ کالعدم تنظیم حزب الاحرار سے تعلقات تھے، جنہوں نے حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔

دھماکے کے فورا بعد تحقیقات کے لیے سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس بیورو کے افسران پر مشتمل جوائنٹ آپریشن ٹیمز تشکیل دی گئیں تھیں۔

ذرائع کے مطابق تفتیشں کاروں نے بمبار کی شناخت، دھماکا خیز مواد کی نوعیت اور مقدار سے متعلق تحقیقات کے لیے سائنسی بنیادوں پر جائے حادثہ سے شواہد اکٹھے کیے تھے۔

متاثرین، عینی شاہدین اور مشتبہ افراد کے انٹرویو لیے گئے تھے جبکہ تفتیش کاروں نے ڈیجیٹل فارنسک پر بھی توجہ مرکوز کی تھی۔

اس حوالے سے لاہور سمیت ملک کے مختلف خاص طور پر داتا دربار کے علاقے میں ہیومن انٹیلی جنس ذرائع کی سرگرمیاں بڑھادی گئی تھیں۔

تفتیش کاروں نے انکشاف کیا کہ محسن خان بھاٹی گیٹ کے علاقے میں نور زیب کی جانب سے کرائے پر لیے گئے ایک کمرے میں رہائش پذیر تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے دوران یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ چند سال قبل سعودی عرب میں ان کے قیام کے دوران طیب اللہ نے محسن خان کو گمراہ کیا تھا۔

محسن نے بتایا کہ 8 مئی کی صبح کو طیب اللہ، خودکش بمبار کو دھماکے کے مقام سے قریبی جگہ پر لے کر گئے تھے۔

گرفتاری کے دوران محسن نے بڑی تعداد میں دھماکا خیز مواد اور 2 ایم پی 3 پلیئرز بھی برآمد کیے گئے۔

ذرائع نے بتایا کہ ‘ اس مرتبہ خودکش جیکٹ اور دھماکا خیز مواد کو پورٹیبل الیکٹرانک ایم پی 3 پلیئرز میں چھپا کر لایا گیا تھا تاکہ پکڑے جانے سے بچا جاسکے’۔

شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہینڈلر طیب دھماکے کے کچھ دیر بعد ہی فرار ہوگیا تھا، سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے اداروں کے حکام اس کی گرفتاری کے لیے ملک بھر میں کارروائی کررہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ‘ اس کیس کو انتہائی مختصر وقت میں حل کرنا سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس بیورو کی بڑی کامیابی ہے۔

یاد رہے چند روز قبل سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے داتا دربار خود کش حملے میں ملوث ایک خاتون سمیت 3 دہشت گردوں کو داتا دربار کے قریب بھاٹی گیٹ سے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا۔

رکشہ ڈرائیور کی نشاندہی پر دونوں سہولت کاروں تک رسائی ملی تھی۔ ملزمان دھماکے کی صبح سوا چھے بجے داتا دربارمیں دیکھے گئے۔ سیاہ شلوار قمیض پہنے ایک سہولت کار نے سلیپر، دوسرے نے چپل پہن رکھے تھے۔ بمبار نے بھی کالے کپڑے پہن رکھے تھے۔

واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے سانحہ داتا دربار خودکش حملے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی تھی، جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق جے آئی ٹی کے سربراہ سی ٹی ڈی کے ایس پی صہیب اشرف ہوں گے، جے آئی ٹی میں آئی بی، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندے شامل ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں