157

2 سال میں دہشت گردی کے 19 بڑے حملے ناکام بنائے، برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید

لندن (ویب ڈیسک) وزیر داخلہ ساجد جاوید نے سکاٹ لینڈ یارڈ میں سیکورٹی افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ میں گزشتہ 2سال کے دوران دہشت گردی کے 19بڑے حملے ناکام بنائے گئے۔

انھوں نے کہا کہ ان میں سے 14 حملے جہادیوں کی جانب سے کئے گئے تھے جبکہ 5 دائیں بازو کے انتہا پسند نظریات پر یقین رکھنے والے برطانوی باشندوں نے باغیوں کے زیر تسلط علاقوں میں کئے گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم سب ہی اس طرح کے حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

دریں اثنا ساجد جاوید نے ایک دوسرے موقع پر کہا ہے کہ غداری سے متعلق برطانوی قوانین میں دہشت گردی و حکومت مخالف سرگرمیوں کو بھی شامل کیا جائے گا، تاکہ دہشت گردوں کو سزا دی جا سکے۔ اس موقع پر انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ شمالی شام میں موجود تمام برطانوی باشندے 28 دن کے اندر علاقہ چھوڑ دیں ورنہ برطانیہ واپسی پر انھیں10 سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ شام کے شمال مٖغربی علاقے ادلب سے برطانوی شہریوں کی واپسی روکنے کیلئے نئے اختیارات بروئے کار لائیں گے، وہ باغیوں کے زیر قبضہ صوبے کو انسداد دہشت گردی کے نئے قانون کا پہلا نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ عینی برٹ، جو بلاجواز اس علاقے میں موجود ہیں، ایک ماہ کے اندر وہاں سے واپس آجائیں، ورنہ مقدمے کاسامنا کریں۔

انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے افسران سے کہاہے کہ وہ شام سے متعلق اختیارات کے استعمال کیلئے قریبی تعاون سے کام کریں۔ تاکہ جو کوئی بھی بلاجواز اس علاقے میں ہے، اسے نظر میں رکھا جاسکے۔

انھوں نے برطانوی شہریوں کو داعش میں شمولیت سے روکنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کی بھی وضاحت کی۔ انھوں نے کہا کہ پولیس اور سیکورٹی حکام نے داعش میں شمولیت کیلئے بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والوں کی نشاندہی کیلئے انتھک کوششیں کی ہیں۔

انھوں نے سرحد پر ایسے لوگوں کے پاسپورٹ ضبط کئے اور انھیں ملک چھوڑنے سے روک دیا۔ انھوں نے کہا کہ متعلقہ دوستوں، فیملیز اور سرکاری اداروں کے دوستوں کے ساتھ خطرے سے دوچار سیکڑوں افراد نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شمولیت سے روکنے کے ہمارے پروگرام میں تعاون کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ برطانیہ کے غداری سے متعلق قوانین میں دہشت گردی اور حکومت مخالف سرگرمیوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ ساجد جاوید نے کہا کہ برطانیہ واپس آنے والے جہادیوں کو سزا دلوانے کیلئے موجودہ قوانین کو اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے، کیونکہ موجودہ قوانین کے تحت ان کو سزا دلانا بہت مشکل ہے۔ انھوں نے کہا کہ غداری کے پرانے قوانین کو وقت کی ضرورت کے مطابق بنانے سے حکومت مخالف سرگرمیوں کا تدارک کیا جاسکے گا۔ سالسبری میں نووی چوک حملوں کے بعد جاسوسی کا قانون بھی تیار کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ قوانین میں کافی خلا اور سقم موجود ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت امریکہ کی طرح فارن ایجنٹ رجسٹریشن بھی شروع کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس حوالے سے امریکی قانون کے تحت کسی سیاسی یا نیم سیاسی حیثیت میں کسی غیر ملکی طاقت کی نمائندگی کرنے والوں کو اپنی سرگرمیوں اور مالی حالت کے بارے میں معلومات ظاہر کرنا لازمی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں ملکی اور بیرونی طورپر برطانیہ کو لاحق خطرات کا تدارک کرنے کیلئے ضروری اختیارات کی ضرورت ہے۔ ساجد جاوید نے کہا کہ یہ معاملہ بریگزٹ کے بعد کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے۔

انھوں نے کہا کہ جاسوسی سے متعلق قانون سے ہماری سیکورٹی سروسز اور اتھارٹی کو اس خطرے سے نمٹنے کیلئے درکار جدید اختیارات حاصل ہوجائیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں