لاپتہ افراد کیلئے قائم قومی کمیشن نے 31 مئی 2019 تک 3847 کیسز نمٹا دیئے: رپورٹ

اسلام آباد (ڈیلی اردو) لاپتہ افراد کے لئے قائم قومی کمیشن نے 31 مئی 2019ء تک 3847 کیسز نمٹا دیئے۔ لاپتہ افراد کے لئے قائم قومی کمیشن کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی ذاتی کوششوں کے نتیجہ میں یہ نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔

لاپتہ افراد کے انکوائری کمیشن کے سیکرٹری فرید احمد خان کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق مئی2019 کے دوران 73 نئے کیس موصول ہوئے ۔ جس کے بعد جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق کیسز کی تعداد مجموعی طورپر 6124 ہو گئی جن میں سے لاپتہ افراد کے لئے قائم قومی کمیشن نے 31 مئی 2019ء تک 3847 کیسز نمٹا دیئے۔ لاپتہ افراد کے انکوائری کمیشن نے مئی 2019 کے مہینے میں 314 سماعتیں کیں جن میں سے اسلام آباد میں 130 سماعتیں اور کراچی میں 184 سماعتیں کی گئیں۔

لاپتہ افراد کے لئے قائم قومی میشن کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال اور دیگر ممبران نے 31 مئی 2019ء تک3847 لاپتہ افراد کے کیسز نمٹا دیئے۔ اس سارے عمل کے دوران کمیشن کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال اور دیگر ممبران نے نہ صرف لاپتہ فرد کی فیملی کا موقف ذاتی طور پر سنا بلکہ ان کی جلد بازیابی کےلئے بھی بھرپور کوششیں کیں۔

لاپتہ افراد کے عزیز و اقارب نے بھی کمیشن کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال کی گرانقدر کوششوں کو سراہا۔ جسٹس جاوید اقبال جبری طور پر لاپتہ افراد کے کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے نہ صرف سرکاری وسائل استعمال نہیں کرتے ہیں بلکہ لاپتہ افراد کے قومی کمیشن کے کی حیثیت سے اپنے عہدے کی تنخواہ بھی نہیں لیتے اور اس کو قومی خدمت کے طور پر اپنے فرائض منصبی سر انجام دے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں