195

حافظ سعید سمیت کالعدم جماعتوں کے اہم رہنماؤں پر دہشت گردی کے 23 مقدمات درج

لاہور + اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) صوبہ پنجاب کے محکمہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے کالعدم تنطیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید احمد سمیت 12 افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت 23 مقدمات درج کر لیے۔

تفصیلات کے مطابق کالعدم جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید احمد سمیت 12 رہنماؤں کے خلاف دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مقدمات درج کرلیے گئے۔

ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کالعدم جماعت الدعوۃ، لشکر طیبہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے رہنماؤں کے خلاف دہشت گردی کے لیے مالی وسائل جمع کرنے کے الزام کے تحت 23 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

ذرائع کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی) کے مطابق جن تنظیموں پر مقدمات درج کیے گئے ہیں ان میں دعوة الارشاد ٹرسٹ، معاذ بن جبل ٹرسٹ، الانفال ٹرسٹ، المدینہ فاونڈیشن ٹرسٹ اور الحمد ٹرسٹ کے نام شامل ہیں۔

سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق “مقدمات میں حافظ سعید احمد، عبدالرحمٰن مکی، امیر حمزہ، محمد یحیٰی عزیز اور بعض دیگر اہم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ان افراد پر ٹرسٹ کے نام پر دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے کیلئے فنڈز اکٹھا کرنے کے الزامات ہیں”۔

ترجمان کے مطابق ان تنظیموں اور ان کے سربراہوں کے خلاف صوبہ پنجاب کے تین اضلاع میں مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں لاہور، گوجرانوالہ اور ملتان شامل ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ بالا افراد پر ٹرسٹ کی آڑ میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کیلئے فنڈز اکٹھے کرنے کا الزام ہے۔

سی ٹی ڈی کے ترجمان نے بتایا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کل 23 مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ جماعت الدعوة، لشکر جھنگوی اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے سربراہوں کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

سی ٹی ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر تفتیش اور تحقیق کے بعد یہ کارروائی کی گئی ہے۔ ان غیر منافع بخش تنظیموں اور ٹرسٹس کے اثاثوں اور پراپرٹیز کے ذریعے دہشت گردی کیلئے مالی سہولت کاری کی گئی۔

ایف اے ٹی ایف کی طرف سے دباو کے بعد پاکستان نے کالعدم جماعتوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر کے کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ ان جماعتوں کے مدارس، مساجد، زیر استعمال جائیدادیں، ڈسپنسریاں اور ایمبولنسز کو اپنی تحویل میں لینے کا سلسلہ جاری ہے۔

جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید کو حکومت پنجاب نے اِن دنوں نقض امن کے خدشے کے تحت نظر بند کر رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں