132

ڈالر آزاد، مہنگائی بڑھے گی، بجلی، گیس کی قیمتوں میں حکومتی مداخلت نہیں ہوگی: آئی ایم ایف

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پاکستان کیلئے 6 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی منظوری کے بعد شرائط جاری کردی گئیں۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ڈالر آزاد ہوگا، بجلی، گیس کی قیمتوں میں حکومتی مداخلت نہیں ہوگی، ٹیکس آمدنی میں اضافہ، گردشی قرضوں کا خاتمہ، واجبات کی وصولیابی یقینی بنائی جائے گی تاہم ملک میں مہنگائی بڑھے گی۔ ماضی میں ڈالر کو مصنوعی طور پر کنٹرول کیا گیا، ناقص پالیسیوں سے معیشت کمزور ہوئی، توانائی کے شعبے میں اصلاحات ضروری ہیں، ملک کا ٹیکس نظام بھی ٹھیک نہیں۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے پاکستان کے لیے عالمی شراکت داروں کی جانب سے رکے ہوئے 38 ارب ڈالر کی بحالی شروع ہوجائے گی جو آئندہ برسوں میں پاکستان کو ملیں گے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم کے مشیر امور خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے وزارت خزانہ میں وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اور سیکرٹری خزانہ نوید کامران بلوچ کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے ایک لاکھ 37 ہزار افراد نے استفادہ کیا۔ 30 ہزار ارب روپے کے غیر ظاہر شدہ اثاثہ جات ڈکلیئر ہوئے اور کالے دھن کو سفید کیا گیا اور 70 ارب روپے کا ٹیکس ریونیو حاصل ہوا۔ ایک لاکھ 37 ہزار میں سے ایک لاکھ سے زائد وہ افراد ہیں جو پہلے ٹیکس نظام میں نہیں تھے اور نان فائلرز تھے، 3 فیصد سے کم شرح سود پر 10سال کی آسان شرائط پر قرضہ ملا، نجکاری کی کوئی شرائط نہیں، آئی ایم ایف سے جو طے ہوا ہے وہ سامنے آجائے گا، امیروں سے ٹیکس لیں گے اور غریبوں کا تحفظ ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف کے فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈیوڈ لپٹن نے قرضے کی منظوری کے بعد بیان میں کہا کہ پاکستان اس وقت سخت معاشی مسائل سے دوچار ہے اور قرضہ پاکستان کے دیرپا پالیسی مسائل سے نمٹنے میں مدد دے گا۔ فوری طور پر معاشی پالیسی میں بہتری کے بغیر پاکستان کے معاشی و مالیاتی استحکام کو خطرہ ہے اور ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنا ممکن نہیں رہے گا۔

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کے معاشی حالات بہتر بنانے کی غرض سے اہم ترین مقاصد میں سب سے پہلے ٹیکس نیٹ کو بڑھانا اور حکومتی قرضوں کو کم کرنا ہوگا، کمزور ترین طبقے کو ان بدلتی ہوئی معاشی پالیسی کے اثرات سے بچانا سب سے اہم ترجیح ہونی چاہیے۔

آئی ایم ایف کے مطابق کرنسی کا لچک دار اور مارکیٹ کے مطابق تعین اور سخت مانیٹری پالیسی عدم توازن کو ختم کرے گی۔ زرمبادلہ کے ذخائر بحال ہونگے اور مہنگائی کی شرح میں کمی ہوگی۔ اس حوالے سے مرکزی بینک کی خود مختاری کو مضبوط کیا جائے اور بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بنک سے قرضہ نہ لیا جائے، اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے بلند نظر ایجنڈہ مرتب کیا جائے۔ کاروباری ماحول کو بہتر کیا جائے، کرپشن کے خلاف کوششوں کو مضبوط کر نے کے ساتھ انسداد منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں تک مالیاتی رسائی کی روک تھام کے لیے فریم ورک مرتب کیا جائے۔

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کی معیشت ایک نازک موڑ پر ہے، ما ضی کی ناقص معاشی پالیسیوں جیسا کہ کمزور مانیٹری پالیسی، بڑھتا ہوا بجٹ خسارہ، روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر روکنا، حالیہ برسوں میں شارٹ ٹرم گروتھ اور حکومتی قرضے، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تنزلی، مالیاتی خسارے کی وجہ سے ملک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

آئی ایم ایف کےمطابق بنیادی نقائص کو دور نہیں کیا گیا جس میں دیرینہ کمزور ٹیکس انتظامیہ، مشکل کاروباری ماحول، غیر موثر اور خسارے میں جانے والے سرکاری اداروں اور غیر دستاویزی معیشت شامل ہے۔ پاکستان سالانہ جی ڈی پی کے چار سے پانچ فیصد ریونیو میں اضافہ کیلئے جامع کوششیں کرنا ہونگی، پاکستان میں کرنسی کی شرح تبادلہ مارکیٹ طے کرے گی اور اسٹیٹ بینک کرنسی کی شرح تبادلہ میں مداخلت نہیں کرے گا۔ مانیٹری پالیسی کے ذریعے مہنگائی کو قابو کیا جائے گا۔

توانائی کے شعبے سے متعلق آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی جائیں گی اور گردشی قرضوں کا خاتمہ کیا جائے گا، واجبات کی وصولیاں یقینی بنائی جائیں گی جب کہ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں سیاسی مداخلت نہیں کی جائے گی۔

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ اداروں کو مضبوط کر کے ان میں شفافیت لائی جائی ، آئی ایم ایف پروگرام سے پاکستان میں معاشی عدم توازن میں کمی لانے میں مدد ملے گی اور پائیدار اور متوازن معاشی ترقی ہوگی، مالیاتی استحکام کے اقدامات سے سرکاری قرضوں میں کمی اور سماجی شعبے کے لیے اخراجات میں اضافہ ممکن ہوگا۔

علاوہ ازیں وزارت خزانہ میں وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر ، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی، سیکرٹری خزانہ نوید کامران بلوچ بھی ان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرا عظم کے مشیر امور خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہےکہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے ایک لاکھ 37 ہزار افراد نے استفادہ کیا، 30 ہزار ارب روپے کے غیر ظاہر شدہ اثاثہ جات ڈکلیئرہوئے اور کالے دھن کو سفید کیا گیا اور 70 ارب روپے کا ٹیکس ریونیو حاصل ہوا، ایک لاکھ 37 ہزار میں سے ایک لاکھ سے زائد وہ افراد ہیں جو پہلے ٹیکس نظام میں نہیں تھے اور نان فائلرز تھے۔

انہوں نے کہا کہ تین فیصد سے کم شرح سود پر آسان شرائط پر قرضہ ملا، پروگرام کی پہلی قسط 8 جولائی کو ایک ارب ڈالر مل جائیں گے، دو ارب ڈالر سالانہ ملیں گے، اس پروگرام سے عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستان کے لیے فنڈز ریلیز کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، آئندہ پانچ برسوںمیں پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں اور دوطرفہ معاہدوں سےمجموعی طور پر 38 ارب ڈالر ملیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں