125

دنیا بھر میں کشمیری آج ’’یوم شہداء‘‘ منا رہے ہیں

سرینگر (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر میں کشمیری آج یوم شہداء اس عزم کی تجدید کے ساتھ منا رہے ہیں کہ شہداء کا مشن ناقابل تنسیخ اور حق خودارادیت کے حصول تک جاری رکھا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق آج مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی جائے گی اور سرینگر میں مزار شہداء نقشبند صاحب کی طرف مارچ کیا جائے گا جہاں 1931کے شہداء دفن ہیں۔ ہڑتال اور مارچ کی کال مشترکہ حریت قیادت نے دی ہے۔

13 جولائی 1931 کو ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کے فوجیوں نے سرینگر سینٹرل جیل کے باہر یکے بعد دیگرے 22 کشمیریوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا تھا، اس روز ہزاروں کشمیری عبدالقدیر نامی ایک شخص کے خلاف مقدمے کی سماعت کے موقع پر ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جیل کے باہر جمع ہوئے تھے۔

عبدالقدیر نے کشمیریوں کو ڈوگرہ راج کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کیلئے کہا تھا، اس دوران نماز ظہر کا وقت ہوا تو ایک نوجوان اذان دینے کیلئے اٹھا، ڈوگرہ فوجیوں نے اذان دینے والے نوجوان کو گولی مار کو شہید کر دیا جس کے بعد ایک اور نوجوان نے اٹھ کر اذان جاری رکھی اور اسے بھی فوجیوں نے گولی مارکر شہید کردیا، اس طرح سے اذان مکمل ہونے تک بائیس نوجوانوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی۔

دوسری جانب قابض انتظامیہ نے حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو جمعہ کو گھر میں نظر بند کر دیا جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی پہلے ہی 2010 سے گھر میں نظر بند ہیں، پروگرام کے مطابق میر واعظ عمر فاروق کو سرینگر کی تاریخی جامع مسجد سے مزار شہداء نقشبند صاحب تک ایک جلوس کی قیادت کرنی ہے۔

انتظامیہ نے جمعہ کو ڈاﺅن ٹاﺅن سرینگر کے مختلف علاقوں میں پابند یاں نافذ کر دیں اور مارچ کو ناکام بنانے کیلئے بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر دیے، پابندیوں کی وجہ سے سرینگر کے علاقے نوہٹہ میں واقع جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا نہیں کی جا سکی۔

کل جماعتی حریت کانفرنس اور میر واعظ عمر فاروق نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ ان شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مشترکہ طور پر ناانصافی، شخصی راج، جبری تسلط اور مسلح جارحیت کے خلاف جہاد کیا جائے۔

ادھر تاجروں، پھلوں کے کاشت کاروں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے سوپور فروٹ منڈی میں جمعہ کو امرناتھ یاترا کے دوران سرینگر جموں ہائی وے پر عام ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ قابض انتظامیہ نے اسلامی تنظیم آزادی کے غیر قانونی طور پر نظر بند سربراہ عبدالصمد انقلابی پر تیسری مرتبہ کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر دیا ہے۔

دریں اثناء نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی رپورٹ مسترد کئے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی پامالیاں رکوانے کے بارے میں اپنی ناکامیوں کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی جنوبی ایشیاء کی ڈائریکٹر مینا کشی گنگولی نے بیان میں کہا ہے کہ بھارتی قابض انتظامیہ کو انسانی حقو ق کی پامالیوں میں ملوث اہلکاروں کو جواب دہ بنانا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں