افغانستان: لوگر میں امریکی فضائی حملے میں اہم کمانڈرز، گورنر سمیت 25 طالبان ہلاک

کابل (ڈیلی اردو) افغانستان کے صوبے لوگر میں طالبان کے ایک تقریب پر امریکی فضائی بمباری کے نتیجے میں طالبان کے اہم کمانڈرز، گورنر سمیت 25 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 11 زخمی ہوگئے۔

افغان نیوز ایجنسی خامہ پریس کے مطابق صوبے لوگر میں انٹیلی جنس بنیاد پر کیے گئے آپریشن کے دوران امریکی فضائیہ کی بمباری سے طالبان کے اہم کمانڈرز اور گورنر سمیت 25 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 11 افراد زخمی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں طالبان کے ریڈ یونٹ کمانڈر قدرت اللہ، طالبان شیڈو گورنر، ضلع آغا محمد کے شیڈو ضلعی چیف اور طالبان ملٹری کمیشن چیف حسو شامل ہیں۔

فضائی حملے میں طالبان جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے۔

مقامی افراد نے طلوع نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ فضائی حملوں میں 5 شہری بھی جاں بحق ہوگئے جس کی افغان فوج نے تردید نہیں کی۔

طالبان کی دھمکیوں کے باعث ریڈیو اسٹیشن بند کردیا گیا

افغانستان کے مشرقی صوبے غزنی میں طالبان کمانڈر کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کے بعد مقامی ریڈیو اسٹیشن نے اپنی نشریات بند کردیں۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے مشرقی صوبے غزنی میں واقع سما اسٹیشن کے ڈائریکٹر رمیز عظیمی نے کہا کہ انہیں طالبان کمانڈر کی جانب سے ٹیلی فونک اور تحریری دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔

رمیز عظیمی نے کہا کہ ریڈیو اسٹیشن چار روز قبل بند کیا گیا ہے اور گزشتہ چار سال میں یہ تیسری مرتبہ بند ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزنی صوبے کے کئی اضلاع پر طالبان قابض ہیں اور انہوں نے اس لیے دھمکیاں دیں کیونکہ ریڈیو اسٹیشن میں کام کرنے والے 16 ملازمین میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔

رمیز عظیمی کے مطابق مقامی طالبان کمانڈر کی جانب سے دھمکی دی گئی ہے کہ خواتین ملازمین کو برطرف کریں یا حملے کے لیے تیار رہیں۔

رپورٹ کے مطابق سما ریڈیو اسٹیشن 2013 سے غزنی میں سیاسی، مذہبی، سماجی اور تفریحی پروگرامز نشر کررہا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ طالبان کی جانب سے ان کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں ملٹری کمیشن نے خبردار کیا تھا کہ ریڈیو اسٹیشن، ٹی وی چینلز اور دیگر میڈیا اداروں کے پاس طالبان مخالف بیانات، نشریات بند کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت ہے۔

طالبان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ جو ادارے ایسی نشریات جاری رکھیں گے جو مغرب کی حمایت یافتہ افغان حکومت کی مدد کررہے ہیں، انہیں حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں