230

اربوں روپےکا فراڈ کرنے والی ریورگارڈن، پیراڈائز اور روشن پاکستان ہائوسنگ سوسائٹی کا معاملہ تحقیقات کیلئے نیب کو ارسال

اسلام آباد ( محمد احسان) پارلیمان کی پبلک اکائونٹس ذیلی کمیٹی نے عوام کے ساتھ اربوں روپے کا فراڈ کرنے والی ریور گارڈن، پیراڈائز اور روشن پاکستان ہائوسنگ سوسائٹی کا معاملہ تحقیقات کیلئے نیب کو ارسال کر دیا ہے۔ جبکہ ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کی بھی ہدایت کی ہے۔

کمیٹی میں انکشاف ہو اکہ سی ڈی اے حکام کی مبینہ غفلت کی وجہ سے 524 کمرشل و صنعتی پلاٹوں کی لیز ختم ہونے کے بعد تجدید نہ کرنے کیو جہ سے قومی خزانے کو 40 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔ کمیٹی نے معاملہ نیب کو ارسال کردیا۔

پبلک اکائونٹس کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز کنونئیر کمیٹی نور عالم خان کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں سی ڈی اے میں مالی سال 2017-18 کے دوران ہونے والی بے ضابطگیوں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایا کہ سیکٹر ڈی 12، ای 12 میں 35 سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود ترقیاتی کام مکمل نہیں ہوسکا ہے، کنونئیر کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ والے بڑے مافیاز ہیں۔ بحریہ ٹاون اور نجی ہائوسنگ سوسائٹیرز والےآپ سے آگے نکل جاتے ہیں۔

چئیرمین سی ڈی اے نے کہا کہ 4 سیکٹرز میں ترقیاتی کام شروع ہے۔ کمیٹی نے معاملہ موخر کردیا۔ اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایا کہ اسلام آباد میں 524 صنعتی و کمرشل پلاٹ 33 سال کے لیے لیز پر دیے لیز ختم ہونے کے بعد ان کی لیز کو تجدید نہ کیا گیا، جس کیو جہ سے قومی خزانے کو 40 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ یہ پلاٹس ڈپلومیٹک انکلیو، آئی الیون، آئی ٹین میں تھے ان میں سے 172 صنعتی پلاٹوں کی لیز 2010 میں ختم ہوئی جس کی تاحال تجدید نہ ہوسکی، کنونئیر کمیٹی نے ممبر اسٹیٹ خوشحال خان سے پوچھا کہ لیز ختم ہونے کے بعد کرایہ داروں سے خالی کیوں نہیں کرایا گیا، ممبر اسٹیٹ نے کہا کہ اکثر کرایہ دار فوت ہو چکے ہیں، کنونئیرکمیٹی نور عالم خان جواب پر برہم ہوگئے اور کہاکہ جو ذمہ دار ہیں ان کےخلاف ایکشن کیوں نہیں لیا گیا۔

کنونئیر کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ سی ڈی اے والے ہم سے نہیں ڈرتے یہ معاملہ نیب کو ارسال کردیا جائے جس پر کمیٹی نے معاملہ نیب کو ارسال کرتے ہوئے 2 ماہ میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ کمیٹی کو ارسال کرنے کی ہدایت کر دی۔

اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایا کہ میٹرو کیش اینڈ کیری کو بغیر مقابلہ کے اراضی لیز کے لیے دے دی گئی بعد ازاں مکرو حبیب پاکستان کو لیز خلاف قواعد ٹرانسفر کردی گئی جس کی وجہ سے قومی خزانے کو 10 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔

چئیرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ لیز ٹرانسفر کے معاملے پر دوسری کمپنی مکرو حبیب سندھ ہائی کورٹ چلی گئی اور عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ دیا، کمیٹی نے معاملہ موخر کردیا۔

اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ پیرا ڈائز سٹی ہاوسنگ سکیم اور روشن پاکستان ہائوسنگ سیکیم کو مجاز اتھارٹی سے منظوری لیے بغیر لے آوٹ پلان جاری کردیا گیا دونوں نجی ہائوسنگ سوسائیٹو ں نے لے آوٹ پلان جاری ہونے کے بعد عوام سے 8 ارب روپے اکٹھا کرلیا۔ یہ ہائوسنگ سکیم ایف 15 اور ایف 16 کے لیے تھی، خلاف قواعد لے آوٹ پلان جاری ہونے کی وجہ سے لے آوٹ پلان منسو خ کردیا گیا، کیونکہ سی ڈی اے حکام اور ہائوسنگ سوسائٹیز کی ملی بھگت سے لے آوٹ پلان جاری ہوا اور عوام الناس سے دھوکہ کیا گیا۔ یہ معاملہ پہلے بھی پی اے سی میں آچکا ہے ، جبکہ تاحال سوسائیٹز ڈویلپ نہ کی جاسکی ہیں۔

چئیرمین سی ڈی اے نے بتایاکہ 2007 میں لے آوٹ پلان جاری کیے گئے جبکہ قواعد 2015 میں بنے، آڈٹ حکام نے کہا کہ لے آوٹ پلان جاری کرنے اور لوگوں سے دھوکہ دہی سے رقم بٹوری کی گئی ہے۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ جعلی دستاویزات پر ہائوسنگ سوسائٹیز بنائی جارہی ہیں اور لوگوں کو قبضہ نہیں دیے گئے، آڈٹ حکام نے کہاکہ عوام سے دھوکہ دہی کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر کی ہدایت کی گئی تھی لیکن ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

کنونیر کمیٹی نور عالم خان نے کہاکہ دس سال ہوگئے ہیں اور تاحال ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

کنونئیر کمیٹی نےکہا کہ سی ڈی اے والے ہم سے نہیں نیب سے ڈرتے ہیں انہوں نے معاملہ نیب کو ارسال کرتے ہوئے نیب حکام کو ہدایت کی کہ معاملے کی تحقیقات کر کے دو ماہ میں رپورٹ ارسال کریں ، انہوں نے چئیرمین سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ ذمہ داروں کےخلاف ایف آئی آر درج کرکے رپورٹ کمیٹی کو ارسال کردی جائے۔

چئیرمین سی ڈی اے نے کہاکہ دو یوم میں ایف آئی آے درج کرا کے رپورٹ کمیٹی کو فراہم کر دی جائے گی۔ اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایا کہ سی ڈی اے حکام نے آئیسکو کو 70 لاکھ روپے میٹروں کے لیے ادا کیے ۔ تاکہ اسٹریٹ لائٹس کے بل بذریعہ میٹرا دا ہوسکیں لیکن آئیسکو نے میٹر فراہم نہ کیے، آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ اب تک ائیسکو کو 2006 سے لے کر 2016 تک 7 ارب روپے بل کی مد میں ادا کیے ہیں کیونکہ بل بغیر میٹر کے ادا کیا جا رہےہیں۔ معاملے پر کنونئیر کمیٹی نے چئیرمین آئیسکو کو طلب کر لیا، اس موقع پر کنونئیر کمیٹی نے کہاکہ چئیرمین آئیسکو کدھر ہیں ان کو بلایا جائے آئیسکو حکام نےبتایاکہ ان کے دانت کی سرجری ہوئی ہے۔

گزشتہ روز بھی انہوں نے کسی سے بات نہیں کی جس پر کمیٹی میں سب کھلکھلا اٹھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں