ڈیرہ اسماعیل خان: ہسپتال کے باہر خاتون خودکش حملہ آور کا دھماکا، 10 افراد شہید، 35 زخمی

اسلام آباد + ڈیرہ اسماعیل خان (ش ح ط/ توقیر حسین زیدی) خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کوٹلہ سیداں میں پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں دو پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ حملے کے بعد شہیداء کے جسد خاکی کو ہسپتال منتقل کرنے کے دوران ہسپتال گیٹ پر خاتون خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس سے مزید 8 افراد شہید ہوگئے اور 35 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ 10 زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کوٹلہ سیداں کے قریب پولیس چیک پوسٹ پر فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق پولیس چیک پوسٹ پر اہل کار معمول کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے کہ موٹرسائیکل پر سوار 2 دہشت گردوں نے چیک پوسٹ پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس سے دونوں اہل کار موقع پر ہی شہید ہوئے۔ واردات کے بعد دہشت گرد فرار ہوگئے۔ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

دوسری جانب شہیدا کے جسد خاکی کو جب ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا جا رہا تھا تو ہسپتال کے گیٹ پر خاتون خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس سے مزید 8 افراد شہید اور 35 سے زائد زخمی ہوئے۔ بعد ازاں دھماکے کے زخمیوں کو سی ایم ایچ ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کردیا گیا ہے۔

بی ڈی ایس کے مطابق ہسپتال کے گیٹ پر ہونے والا خودکش دھماکا خاتون نے کیا۔ خودکش حملہ آور کے جسمانی اعضاء جائے وقوعہ سے اکھٹے کرلیے گئے ہیں۔

نمائندہ ڈیلی اردو کے مطابق آج چھٹی تھی جس کی وجہ سے ایمرجنسی میں عوام کا رش نہیں تھا اس لئے شہید اور زخمیوں میں زیادہ تر پولیس اہلکار شامل ہیں۔

دھماکے کے بعد ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی پولیس و سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ جبکہ تحقیقاتی ادارے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہیں۔

یار رہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان میں اپنی نوعیت کا یہ دوسرا دھماکا ہے اس سے قبل 19 اگست 2008 کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان کی ایمرجنسی میں اسی طرح کا دھماکے میں ڈیرہ اسماعیل خان کی شیعہ زیدی فیملی کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 35 سے زائد افراد شہید اور 47 سے زائد ذخمی ہوئے تھے۔ شہید ہونے والوں میں 21 اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر زیدی سادات فیملی کے نوجوان تھے۔

دوسری جانب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے اپنے جاری کردہ بیان میں مزید کہا ہے کہ یہ حملہ ہمارے ساتھی حافظ ضیاء الرحمٰن عرف عابد بھائی سکنہ ڈیرہ اسماعیل خان (رمک) کے انتقام کے سلسلے میں کیا گیا جس کو سی ٹی ڈی پولیس والوں نے 23 جون کو ہلاک کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں