افغان امن عمل کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے رابطے میں ہیں: وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی جس میں خطے کی صورتحال بالخصوص افغان امن عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد سے ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے افغان امن عمل میں معاونت کیلئے امریکا اور دوسرے اسٹیک ہولڈرز سے رابطے میں رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ دورہ امریکا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پرامن اور مستحکم افغانستان، پاکستان اور خطے کے مفاد میں ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ افغانستان میں دیر پا امن و استحکام کے حصول کیلیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کیلئے عالمی برادری کی دلچسپی اور ہم آہنگی میں اضافہ ہورہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کے مستقبل کی راہ مرتب کرنے کیلئے انٹرا افغان (افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان) مذاکرات نہایت ضروری ہیں۔

اپنے حالیہ دورہ امریکا کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پڑوسی ملک ہونے کے ناطے پاکستان افغانستان کے ساتھ طویل المدتی اور پائیدار تعلقات کا خواہاں ہے، باہمی معاشی تعلقات میں وسعت سے پیدا ہونے والے مواقعوں کو بہترین طریقے سے بروئے کار لانا چاہیے۔

اس سے قبل امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی جس میں افغان امن عمل میں ہونے والی پیش رفت اور خطے میں امن و امان کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ افغان امن عمل کے بنیادی روڈ میپ سے تمام فریقین کا متفق ہونا بہت مثبت پیش رفت ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق زلمے خلیل زاد نے وزیر خارجہ کو دوحا میں ہونے والے امریکا، طالبان امن مذاکرات کے ساتویں دور کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

زلمے خلیل زاد نے اپنے حالیہ دورہ کابل کی تفصیلات سے بھی شاہ محمود قریشی کو آگاہ کیا۔

ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کہ پاکستان، افغان امن عمل میں مشترکہ ذمہ داری کے تحت اپنا مصالحانہ کردارادا کرتا رہے گا۔

خیال رہے کہ افغان مفاہمتی عمل کے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اسلام آباد میں موجود ہیں اور وہ عسکری قیادت سے بھی ملیں گے۔

زلمے خلیل زاد وزیراعظم اور عسکری قیادت سے ملاقات کے بعد قطر روانہ ہو جائیں گے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ان ملاقاتوں میں امریکا، افغان طالبان ممکنہ معاہدے سے متعلق امور بھی زیر غور آئیں گے جبکہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے دورانیے پر بھی گفتگو ہوگی۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے دورہ امریکا کے دوران کہا تھا کہ افغان امن عمل کے حوالے سے امریکی حکام سے بات ہو چکی ہے، اب طالبان سے ملاقات کروں گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں