200

منشیات اسمگلنگ کیس: رانا ثناءاللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع، داماد بھی گرفتار

لاہور (ڈیلی اردو) انسداد منشیات کی خصوصی عدالت نے مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 24 اگست تک توسیع کر دی۔

سابق وزیر قانون رانا ثناءاللہ کے خلاف منشیات کیس کی سماعت انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج مسعود ارشد نے کی۔

اس موقع پر عدالت کی جانب سے ممبر قومی اسمبلی رانا ثناءاللہ کو چالان کی کاپیاں فراہم کی گئیں۔

عدالت نے مؤقف اختیار کیا کہ چالان میں کوئی ڈاکو منٹس موجود نہ ہوا تو اگلی سماعت پر بتایا جائے۔

رانا ثناء اللہ کے وکیل محسن بھٹی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ رانا ثنااللہ کی گاڑی میں 6 لاکھ روپیہ بھی تھا وہ نہیں دیا گیا۔

عدالت نے رانا ثنااللہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے گاڑی میں موجود تمام اشیاء واپس کرنے کا حکم دے دیا۔

انسداد منشیات کی خصوصی عدالت نے رانا ثنا اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کرتے ہوئے کیس کی سماعت 24 اگست تک ملتوی کر دی۔

عدالت نے اے این ایف حکام کو آئندہ سماعت پر سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے دیگر ملزمان کو بھی وکیل کرنے کا حکم دے دیا۔

بعد ازاں پولیس نے رانا ثناء اللہ کے داماد شہریار کو احاطہ عدالت کے باہر سے گرفتار کر لیا۔

منشیات کیس پس منظر

یکم جولائی کو اینٹی نارکوٹکس فورس نے نے سہ پہر 3 بج کر 24 منٹ پر رانا ثناء اللہ کی بلٹ پروف لینڈ کروزر گاڑی کو راوی ٹول پلازہ پر روکا، ن لیگی رکن قومی اسمبلی کے مسلح گارڈز بھی ایک اور گاڑی میں ان کے ساتھ سفر کررہے تھے، اے این ایف نے دعویٰ کیا کہ رانا ثناء اللہ کی گاڑی کی تلاشی کے دوران خفیہ خانوں میں موجود بیگز میں چھپائی گئی 15 کلو ہیئروئن برآمد ہوئی۔

اے این ایف کے مطابق رانا ثناءاللہ کے 5 ساتھیوں کو بھی گرفتار کیا گیا جن میں محمد اکرم، سبطین حیدر، عثمان احمد، عامر رستم اور عمر فاروق شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں