ملک بھر میں بھارت کا یوم آزادی ’یوم سیاہ‘ کے طور پر منایا گیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں بھارت کا یوم آزادی آج یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا۔

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور وادی میں قابض فوج کے مظالم کے خلاف پاکستان نے فیصلہ کیا تھا کہ 15 اگست کو بھارت کا یوم آزادی سرکاری سطح پر یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔

یوم سیاہ پر وزیراعظم عمران خان کا پیغام

سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام مکمل طور پربند ہے، مودی نے پہلے بھی گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی کی ہے، کیا دنیا سربیا کی طرز کا قتل عام وادی میں خاموشی سے دیکھے گی؟ دنیا کوخبردار کرنا چاہتا ہوں اگر ایسا ہوا توخطرناک نتائج ہوں گے، مسلمان دنیا میں شدت پسندی بڑھے گی، تشدد جنم لے گا۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 12 دن سے کرفیو نافذ ہے، پہلے سے بھارتی فوج کی موجودگی میں اضافی دستے تعینات ہیں، اب آر ایس ایس کےغنڈوں کو مقبوضہ وادی میں بھیجا جا رہا ہے۔

مظفر آباد، آزاد کشمیر

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے آزادی چوک میں مظاہرہ ہوا، اقوام متحدہ کے مشن مبصر دفتر تک مارچ کیا گیا۔مظاہرین نے سیاہ غبارے ہوا میں چھوڑ کر بھارت کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کیا۔

میرپور میں بھی ضلع کچہری سے چوک شہیداں تک ریلی نکالی گئی۔ نکیال، بھمبر، کوٹلی، پلندری، ہجیرہ، آٹھمقام، سماہنی، وادی نیلم، وادی لیپہ، راولا کوٹ، باغ میں بھی بھارت کے یوم آزادی پر ۔ مظاہرے ہوئے۔

اسلام آباد

بھارتی یوم آزادی پر منائے جانے والے یوم سیاہ کی مناسبت سے اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع دفتر خارجہ کے باہر سول سوسائٹی اور مختلف تنظیموں کی جانب سے زبردست احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

سول سوسائٹی کی یکجہتی کشمیر ریلی فارن آفس سے شروع ہو کر ڈپلومیٹک انکلیو کے داخلی راستے پر ختم ہوئی۔

پی ٹی آئی رہنماء اسد عمر نے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ بھارتی اقدام پر پاکستان کے 22 کروڑ عوام اور افواج خاموش نہیں رہیں گی۔

کراچی، سندھ

کراچی میں بھی بھارت کی آزادی کا دن یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا۔ سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں رہا جبکہ مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے احتجاجی ریلیاں نکالیں، پاک فوج کے شہداء کی یاد میں شمعیں بھی روشن کی گئیں۔

ملک کے دیگر شہروں کی طرح کراچی میں بھی اہم سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا۔

متحدہ قومی موومنٹ بحالی کمیٹی کے تحت فاروق ستار کی قیادت میں ریلی نکالی گئی، ریلی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں فاروق ستار نے بھارت کو دہشت گرد ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کو بھارت کے غاصبانہ تسلط سے آزاد کرانے کا وقت آگیا ہے۔

تحریک انصاف کی جانب سے کراچی پریس کلب پر مظاہرہ کیا گیا جس میں پارٹی کارکنوں کے علاوہ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

کشمیر کے حق میں نعرے لگائے گئے اور نریندر مودی کا پُتلا بھی جلایا گیا۔پی ٹی آئی رہنماؤں خرم شیر زمان اور جنید لاکھانی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان بہترین انداز میں کشمیر کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔

مجلس وحدت المسلمین کے تحت مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی گئی اور شہدائے کشمیر اور افواج پاکستان کے شہداء کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں۔

حیدرآباد میں مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی کی جانب سے ریلیاں نکالی گئیں۔ گھوٹکی میں پاک فوج اور کشمیریوں کےحق میں مظاہرے ہوئے۔

سکھر میں مسلم لیگ فنگشنل کے زیراہتمام ریلی میں پاکستان زندہ باد اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگائے گئے۔ کشمور، کندھ کوٹ، ٹنڈو محمد خان، دادو، پڈعیدن، میرپور خاص، سانگھڑ، سجاول، ٹھٹھہ سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں کشمیریوں سے اظہار یکحہتی کرتے ہوئے شہری سڑکوں پرنکل آئے۔

لاہور، پنجاب

لاہور میں پنجاب اسمبلی سمیت تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا، شہر میں متعدد مقامات پر بھارت کے خلاف ریلیاں بھی نکالی گئیں۔

سب سے بڑی ریلی گورنر ہاؤس سے پنجاب اسمبلی تک نکالی گئی جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، گورنر پنجاب چوہدری سرور، وزیراعلیٰ عثمان بزدار، نعیم الحق، خرم نواز گنڈاپور اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

ن لیگ کی خواتین ارکان نے پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

گوجرانوالہ میں مسیحی برادری نےکشمیریوں کےحق میں مظاہرہ کیا۔ ملتان اور بہاولپور، بہاول نگر میں اسپیشل اسکول کے طلبہ و طالبات، اساتذہ، سوسائٹی، ڈاکٹرز نے بھی بھارتی مظالم کےخلاف احتجاج کیا۔

فیصل آباد، جھنگ، منڈی بہاءالدین، چنیوٹ، میانوالی، جہلم، سیالکوٹ، سرگودھا، ڈی جی خان، راجن پور، مظفرگڑھ، وہاڑی، میلسی، بورےوالا، بھکر، کمالیہ، گوجرہ، حافظ آباد سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں بھارتی جارحیت کے خلاف یوم سیاہ مناتے ہوئے سرکاری اور نجی عمارات، کاروباری مراکز پرسیاہ جھنڈے لگائے گئے۔

پشاور، خیبر پختونخوا

پشاور میں تاجر تنظمیوں نے پیپل منڈی سے چوک یادگار تک احتجاجی ریلی نکالی۔

ریلی کے شرکاء نے پاکستان اور کشمیر کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگائے۔

چوک یادگار میں احتجاجی جلسہ بھی ہوا جس میں مقررین نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت کی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کشمیریوں کے آئینی حقوق سلب تو کرسکتی ہے لیکن کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کو نہیں دبا سکتی۔

ریلی میں سکھ برادری نے بھی شرکت کی اور کشمیر کے جھنڈے لہرا کر کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ سکھ برداری کا کہنا تھا کہ وہ کشمیریوں بھائیوں کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ 

کرم، پارا چنار، ہنگو، اورکزئی، جنوبی و شمالی وزیرستان مانسہرہ، تورغر، اپرکوہستان، پاراچنار، کرک، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان، سوات سمیت خیبرپختونخوا میں مختلف تنظمیوں کے رہنماؤں اور قبائلی عمائدین نے احتجاج کیا۔

جنوبی وزیرستان میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلیاں منعقد کی گئیں۔ ریلیوں میں قبائلی عمائدین ،تاجروں اور مقامی افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

ریلی کے شرکاء نے پاکستانی اور کشمیر کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔ قبائلییوں نے پاک فوج اور کشمیریوں کے حق میں اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے بازی لگائے۔

اس موقع پر ریلی کے شرکاء کا کہنا تھا کہ پوری پاکستانی قوم اور پاک فوج کشمیری عوام کے ساتھ ہیں، قبائلی عوام اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں سے یکجہتی کیلئے میدان میں ہیں، ہمارے آباء و اجداد نے کشمیریوں کی آزادی کیلئے قربانیاں دیں اور آئندہ بھی کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

کوئٹہ، بلوچستان

کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر شہروں میں کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا، سرکاری ونجی عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا۔

بلوچستان اسمبلی اور وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سمیت دیگر سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا۔کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے حوالے سے بلوچستان اسمبلی میں کشمیری پرچم بھی لہرایا گیا۔

صوبے کے عوام نے کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا اور نہتے کشمیریوں پربھارتی مظالم کی شدید مذمت کی گئی۔

یوم سیاہ کے موقع پر ریلوے ورکرز یونین نے احتجاجی ریلی نکالی اور بھارت کے خلاف نعرے لگائے اس کے علاوہ مختلف اضلاع میں بھی جلسے و ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔

اس کے علاوہ سبی اور حب میں ہندو برادری، سیاسی و سماجی نمائندوں نے بھارتی مظالم کےخلاف یکجہتی کشمیر ریلی نکالی۔

چمن، ہرنائی، ژوب، مسلم باغ، مستونگ، ڈیرہ مراد جمالی، نوشکی، شہید سکندر آباد سمیت بلوچستان کےدیگر شہروں میں بھی مارچ کیاگیا۔

گلگت بلتستان

گلگت بلتستان کے دارالحکومت گلگت اور دیگر شہروں میں بھی سیاسی، مذہبی و سماجی تنظیموں کی جانب سے کشمیری مسلمانوں پر بھارتی مظالم کےخلاف مارچ کیا گیا۔

وزیراعظم و دیگر حکام نے ٹوئٹر ڈسپلے سیاہ کر دیے

وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان، فواد چوہدری اور ترجمان وزارت خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے احتجاجاً اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹس کے ڈسپلے سیاہ کر دیئے ہیں۔

اس کے علاوہ وزیراعظم کے معاون خصوصی ذولفی بخاری اور وزیر ریلوے شیخ رشید کشمیر ریلی میں شرکت کے لیے لندن میں موجود ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کا 73 واں یوم آزادی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے’یوم یکجہتی کشمیر‘ کے طور پر منایا گیا۔

شاہراہوں اور بازاروں میں سبز ہلالی پرچم کے ساتھ کشمیر کے پرچم بھی لگائے گئے جبکہ ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں جشن آزادی اور یوم یکجہتی کشمیر کی تقریبات منعقد کی گئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں