190

کشمیر کی صورتحال: بھارتی وزیر دفاع نے ایٹمی حملے کی دھمکی دے دی

نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارت مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل دنیا کے امن کو خطرے میں ڈالنے کی دھمکیوں پر اتر آیا۔

ہندو انتہا انتہا پسند مودی سرکار کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ایٹمی ہتھیارں کے پہلے استعمال کی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دیدیا۔

بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دبے لفظوں میں ایٹمی حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت فی الحال جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے لیکن مستقبل میں حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے گا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ایٹمی دھماکا کرنے کی 21 ویں سالگرہ کے موقع پر دھماکے کے مقام پوکھران میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابھی ہم جوہری ہتھیار کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں لیکن مستقبل میں حالات کو دیکھتے ہوئے پالیسی تبدیل بھی کی جا سکتی ہے۔

کسی بھارتی وزیر دفاع کی جانب سے ایٹمی جنگ کی دھمکی پہلی بار نہیں دی گئی ہے بلکہ اس سے قبل بھی وزیراعظم نریندرا مودی کے ہی سابق وزیر دفاع منوہر پاریکر نے بھی نومبر 2016 میں ’نو فرسٹ یوز‘ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انڈیا کو ایٹمی ہتھیار کے جنگ کے دوران پہلی ترجیح کے طور استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپنی دھمکی کو ٹویٹر پر بھی دہراتے ہوئے لکھا کہ ہم ابھی بھی ایٹمی ہتھیاروں کی Not First Use پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔ البتہ مستقبل میں کیا ہوگا، وہ حالات پر منحصر ہے۔ انڈیا کا جوہری صلاحیت کا ایک ذمہ دار ملک بننا ہر شہری کے لیے باعث فخر ہے اور سابق وزیراعظم اٹل واجپائی کا احسان کبھی نہیں چکایا جا سکتا۔

کیا راجہ نارتھ نے سیکیورٹی کونسل اجلاس سے پہلے اقوام عالم کو دھمکی دی، اہم سوال کھڑا ہوگیا۔ راج ناتھ کا بیان ایک خطرناک انتہاپسند سوچ اور ایٹمی جنگ کے خطرے کی طرف اشارہ ہے۔

1974 میں بھارت نے تمام بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ایٹمی دھماکہ کیا، بھارت کو اس عمل سے باز رکھنے کیلئے نیوکلیئرسپلائرز گروپ کا 1974میں قیام عمل میں آیا تھا۔ بھارتی وزیردفاع کے بیان سے ثابت ہو گیا کہ مودی سرکار پاگل پن کی انتہا کو پہنچ گئی ہے۔

واضح رہے کہ پہلے 1974 میں اندرا گاندھی کے دور حکومت میں انڈیا نے پہلی بار جوہری تجربہ کیا گیا تھا جب کہ دوسری بار 1998 میں اٹل بہاری واجپائی کے دور میں جوہری تجربے کیے گئے تھے جس کے بعد بھارت نے  ’نو فرسٹ یوز‘  کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت ایٹمی ہتھیاروں کو دوران جنگ پہلی ترجیح کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں