247

کوہاٹ: ریاست مدینہ میں اب نماز کی ادائیگی پر پابندی لگا دی گئی، نماز ادا کرنے پر مقدمہ درج

کوہاٹ (نمائندہ ڈیلی اردو) کوہاٹ کی تاریخ کی بدترین ناانصافی، نماز عید کی ادائیگی پر بھی ایف آئی آر درج، وہ بھی اسلامی ملک جہاں ہر مکاتب فکر کو پوری پوری آزادی کا حق حاصل ہے۔

کوہاٹ کی ضلعی انتظامیہ نے عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی انتہائی مقدس ترین ایام میں کے ڈی اے (KDA) میں شیعہ مسلمانوں پر ادائیگی نماز پر غیر انسانی غیر اسلامی غیر اخلاقی غیر آئینی غیر قانونی غیر شرعی پابندی لگائی اور جب عیدالاضحیٰ کے دن مومینن نے نماز ادا کی تو یہ بات کہتے ہوئے شرم آ رہی ہیں کہ انتظامیہ نے ادائیگی نماز کے جرم میں FIR درج کی.

یہ اسرائیل، انڈیا، مقبوضہ کشمیر اور برما کی بات نہیں ہو رہی ہے بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہر کوہاٹ کی بات ہورہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار امامیہ علماء کونسل کے ڈویژن صدر علامہ خورشید انور جوادی نے کوہاٹ پریس کلب میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر صوبائی صدر علماء کونسل علامہ حمید حسین امامی، علامہ سید قیصر عباس کے علاوہ کثیر تعداد میں علماء کرام اور علاقہ مشران نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ آج سے 20 سال پہلے کے ڈی اے کے رہائشیوں نے مسجد و امام بارگاہ کی تعمیر کے لئے بار بار انتظامیہ سے درخواست کی لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلنے کے بعد سیکٹر ون کے رہائشی حاجی نذیر مرحوم نے اپنے مکان کا ایک حصہ نماز کی ادائیگی اور بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے اور اعزاداری کے لئے مختص کردیا جس میں کوئی قانونی و انتظامی روکاوٹ نہیں تھی۔

ہر مسلمان اور ملک کا شہری اپنے گھر میں نماز کی ادائیگی اور دوسرے عبادات میں آزاد ہے لیکن ضلعی انتظامیہ اورKDA انتظامیہ نے اس کو رہائشی پلاٹ کہہ کر غیر قانونی قرار دیا جس پر KDA کے رہائشی کورٹ میں اپنا کیس لے گئے کہ بار بار درخواستوں کے باوجود ایڈمنسٹریشن ہمیں مسجد کے لئے باقاعدہ پلاٹ نہیں دے رہی تھی اس لئے ہم نے نماز کی ادائیگی بچوں کی تعلیم قرآن اور مجالس کیلئے اپنے طور پر ایک مکان مختص کردیا۔

جس پر انتظامیہ نے پابندی لگادی، ہائی کورٹ کے محترم چیف جسٹس نے فریقین کا مؤقف سن کر 2013 میں اپنا فیصلہ صادر کیا جس میںKDA اور ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا کہ موجود عمارت کے ایک کلومیٹر کے اندر اہل تشیع کو مسجد تعمیر کرکے دی جائی اور یہ بھی عدالتی حکم کا حصہ ہے۔

واضح ترین عدالتی فیصلے پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا اور تازہ ترین عدالتی حکم میں 20 دن پہلے سیشن جج کوہاٹ نے انتظامیہ کو موجودہ مسجد کے حوالے سے کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے روک دیا لیکن ان سب عدالتی فیصلوں کے باوجود عیدالاضحی کے موقع پر ضلعی انتظامیہ نے مسجد کو سیل کر دیا اور نماز عید کی ادائیگی پر پابندی لگا دی۔

ضلعی انتظانیہ بشمول ڈی سی کوہاٹ سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ ہمیں ادائیگی نماز کے لئے چاہے کوئی پارک ہی کیوں نہ ہو دیا جائے تاکہ نماز عید کی ادائیگی ممکن ہوسکے لیکن ہماری کسی بھی بات پر توجہ نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ نماز کی ادائیگی اتنا بڑا جرم بن گیا ہے کہ ایف آئی آر درج کی جائے یہ سب کچھ کوہاٹ میں ہو رہا ہے اس انتہائی شرمناک اقدام پر ایک گلہ ریاست مدینہ کے دعویدار نئے پاکستان کے حکمران وفاقی وزیر سیفران شہریار آفریدی اور وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے تعلیم ضیاء اللہ بنگش سے بھی بنتاہے کہ مسجد کا معاملہ 20 سال سے چلا آرہا ہے لیکن ہر سال باقاعدگی سے عیدیں کی نمازیں ادا ہوتی ہیں لیکن کبھی بھی کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی لیکن یہ ریاست مدینہ کے دعویدار حکمران کا اعزاز ہے کہ نماز پر پابندی لگائی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں