179

افغانستان: یومِ آزادی کی تقریبات میں بم دھماکے 83 افراد زخمی، پاکستان کی شدید مذمت

کابل (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسی) افغانستان کے صوبے ننگرہار میں 100ویں یومِ آزادی کی تقریبات میں بم دھماکوں کے نتیجے میں 83 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔

امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت کے نائب ترجمان نور احمد حبیبی نے بتایا کہ ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں 12 سے زائد دھماکے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر افراد کو معمولی زخم آئے جنہیں مقامی ہسپتال میں علاج کے بعد گھر واپس بھیج دیا گیا‘۔ حملے کی ذمہ داری کسی گروہ یا تنظیم نے فوری طور پر قبول نہیں کی لیکن ننگرہار صوبے میں طالبان اور داعش سے وابستہ گروہ سرگرم ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جلال آباد میں واقع مارکیٹ کے قریب بم نصب تھے جہاں سینکڑوں افراد یومِ آزادی کی تقریب میں شریک تھے۔

معروف افغان صحافی بلال سروری کے مطابق صوبہ ننگرھار میں 16 دھماکے ہوئیں جن میں 13 دھماکے صوبائی حکومت جلال آباد میں ہوئے ہیں۔ دھماکوں میں 24 بچوں سمیت 83 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

محکمہ صحت کے سینئر عہدیدار فہیم بشیری نے بتایا کہ دھماکوں کے نتیجے میں 83 افراد زخمی ہوئے جن میں 20 سے زائد بچے بھی شامل ہیں‘۔ ایک دکاندار نے بتایا کہ مارکیٹ اسکوائر پر ہونے والے بم دھماکے میں ان کا ایک بھتیجا اور 2 بیٹے بھی زخمی ہوئے‘۔ انہوں نے کہا کہ بچے مارکیٹ میں یومِ آزادی منانے پر بضد تھے لیکن بم دھماکے کے نتیجے میں شدید زخمی ہوئے.

علاوہ ازیں افغانستان کے مشرقی صوبے لغمان کے دارالحکومت میں جنگجوﺅں کی جانب سے 5 راکٹ داغے گئے جس کے باعث یومِ آزادی کی تقاریب متاثر ہوئیں. اس حوالے سے صوبائی حکام نے بتایا کہ حملے میں 6 شہری زخمی بھی ہوئے‘۔

صوبائی حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ یوم آزادی کی باضابطہ تقریب ختم ہوچکی تھی جس وقت راکٹ داغے گئے لوگوں کو کھانا پیش کیا جارہا تھا جس کے نتیجے میں 6 شہری زخمی ہوگئے۔

دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی نے کابل میں یوم آزادی کے موقع پر کیے گئے خطاب میں جنگجوﺅں کے محفوظ مقامات کے خاتمے میں عالمی برادری سے افغانستان کا ساتھ دینے کا مطالبہ کیا‘۔ افغان صدر نے کہا کہ داعش کے خلاف ہماری جنگ جاری رہے گی ایسے حملوں کی بنیاد طالبان نے رکھی ہے.

تاہم اشرف غنی نے اپنی تقریر میں امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے پر مذاکرات سے متعلق کوئی بات نہیں کی جس کے تحت طالبان کی جانب سے امن و امان کی ضمانت پر امریکی فوجیوں کا مکمل انخلا ہوگا۔

طالبان نے یومِ آزادی پر جاری بیان میں کہا کہ وہ افغانستان سے تمام غیر ملکی فورسز کے انخلا کے منتظر ہیں‘۔ انہوں نے کہا وہ دن قریب ہے جب یہ حملہ آور مکمل طور پر ہمارے ملک سے چلے جائیں گے جن سے پہلے یہاں برطانیہ اور روس تھے۔

خیال رہے کہ افغانستان نے 19 اگست 1919 کو برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی۔

دوسری جانب پاکستان نے افغانستان کے دارالحکومت میں ہونے والے بم دھماکے کی مذمت  کی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ پاکستان جلال آباد میں ایک سے زائد حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ دہشتگرد حملے امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ ‏پاکستان افغانستان میں قیامِ امن کے لئے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ افغان امن علاقائی امن کا ضامن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں