185

الجزیرہ ٹی وی نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے خوفناک حقائق جاری کر دیے

سرینگر (ڈیلی اردو) مقبوضہ کشمیرمیں 5 اگست سے بھارتی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کئے جانے کے بعد سے منگل کو مسلسل سترہ دن بھی پورے مقبوضہ علاقے میں سخت کرفیو اور دیگر پابندیاں مسلسل جاری رہیں۔

کشمیر میڈیا سروس (KMS) کے مطابق پورا مقبوضہ علاقے خاص طورپر وادی کشمیر بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی وجہ سے ایک فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ سرینگر میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار بھارت مخالف مظاہروں کو روکنے کیلئے ویرانی کا منظر پیش کرنے والی سڑکوں اور گلیوں میں گشت کر رہے ہیں۔

مقبوضہ علاقے میں ٹیلیفون، انٹرنیٹ سروس اور ٹیلی ویژن چینلوں کی نشریات تاحال معطل ہیں اور مقبوضہ علاقے میں مکمل مواصلاتی بلیک آؤٹ 5 اگست سے جاری ہے۔ سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق سمیت تمام حریت رہنماء گھروں یا جیلوں میں نظر بند ہیں۔

فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت تین سابق کٹھ پتلی وزرائے اعلیٰ سمیت دیگر سیاست دان اور کارکن بھی گزشتہ دو ہفتوں سے زیر حراست ہیں۔ 4 اگست سے ہی مقبوضہ علاقے میں غیر معمولی مواصلاتی پابندیاں عائد کر دی گئی تھی جس سے خطے کا بیرونی دنیا سے رابطہ معطل ہو گیا تھا۔

کرفیو او رسخت پابندیوں کے باعث کشمیریوں کو اس وقت بچوں کیلئے دودھ اور زندگی بچانے والی ادویات سمیت بنیادی اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے اور علاقے میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔

جموں و کشمیر کے مخصوص علاقوں میں ددو سو کے قریب پرائمری سکول دوبارہ کھولنے کے نام نہاد احکامات کے باوجود سکول میں تدریسی سرگرمیاں شروع نہیں ہو سکی ہیں کیونکہ خوفزدہ والدین نے کرفیو اور اکا دکا مظاہروں کے دوران اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ مقبوضہ علاقے کی صورتحال کشیدہ ہے۔

ٹی وی چینل الجزیزہ نے مقامی افراد کے حوالے سے کہا ہے کہ بھارتی حکومت صورتحال معمول پر آنے کا ڈرامہ کرنے کیلئے وادی کشمیر کی گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بدترین صورتحال میں سکول کے طلباء کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔نٹی پورہ کی رہائشی دوبچوں کی والدہ صفیہ تجمل نے کہاکہ پرائمری کلاسوں میں زیر تعلیم طلباء کی عمر بارہ سال سے کم ہوتی ہے اور مقبوضہ علاقے میں 99 فیصد مواصلاتی بلیک آؤٹ ہے۔ اگر جھڑپیں شروع ہوجاتی ہیں تو کون ہمارے بچوں کی سلامتی کی ذمہ داری لے گا۔

سرینگر کے انجینئر نثار میر نے الجزیرہ کو بتایا کہ بچوں کو سکول بھیجنے کیلئے صورتحال ٹھیک نہیں ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ وہ بچوں کو یونیفارم میں سکول جاتے دکھا کر صورتحال معمول پر آنے کا ڈھونگ کر سکے۔ سرینگر کے متعدد نواحی علاقوں میں مظاہرین نے کرفیو کو توڑتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اوران کی پولیس اور فوجی اہلکارں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔

سرینگر کے رہائشی محمد شفیع کا کہنا ہے کہ ہمارے علاقے کے نوجوانوں کا ماننا ہے کہ کچھ کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔ انہوں نے مظاہرے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں کشمیریوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

سرینگر میں بازار اور دکانیں بند ہیں جبکہ ٹرین سروس، پبلک ٹرانسپورٹ اورپرائیویٹ بسیں بھی ابھی تک بند ہیں۔ سرینگر کے مقامی مال میں ایک دکان کے مالک نے بتایا کہ ہم اپنی دکانیں نہیں کھولیں گے کیونکہ مقبوضہ علاقے کی صورتحال انتہائی خطرناک ہے اور ہم صورتحال بہتر ہونے کا انتظار کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں