17 ہزار فلسطینی خواتین اسرائیلی زندانوں میں قید

رام اللہ (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسی) قابض اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینی خواتین کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ 1967ء کی جنگ کے بعد 17 ہزار فلسطینی خواتین کو صہیونی ریاست کے زندانوں میں قید کیا گیا۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی محکمہ امور اسیران کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں سب سے زیادہ گرفتاریاں سنہ 1987ء کو شروع ہونے والی تحریک انتفاضہ کے دوران کی گئیں۔ گرفتار کی جانے والی خواتین میں بیشتر کم عمر لڑکیاں شامل تھیں۔ پہلی تحریک انتفاضہ کے دوران 3000 فلسطینی خواتین کو حراست میں لیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تحریک انتفاضہ دوم سنہ 2000ء کو شروع ہوئی اور اس دوران قابض فوج نے ایک ہزار فلسطینی خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سنہ 2009ء سے 2012ء تک فلسطینی خواتین کی گرفتاریوں میں کمی آئی جب کہ سنہ 2015ء کے آخر میں القدس میں شروع ہونے والی تحریک کے بعد فلسطینی خواتین کی گرفتاریوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا۔

رپورٹ کے مطابق سنہ 2018ء اور سنہ 2019ء کے دوران بھی فلسطینی خواتین کی پکڑ دھکڑ اپنے عروج پر رہی۔ اس وقت بھی 36 فلسطینی خواتین صہیونی ریاست کی زندانوں میں قید ہیں۔

اسرائیل کے بدنام زمانہ عقوبت خانے ‘دامون’ میں قید 20 خواتین ایسی بھی ہیں جو شادی شدہ اور بچوں کی مائیں ہیں جب کہ 6 خواتین زخمی ہیں۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں